شمائل نبویہ ﷺ
یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم عظیم اخلاق کے مالک ہیں
1۔ اللہ تعالی نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب اور تمام انسانوں کو اس دین کی طرف دعوت دی جس میں ان کی دنیا و آخرت کی بہتری اور خوش بختی تھی۔
2 ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسے اخلاق کریمانہ ، فضائل اور محاسن جمع تھے جو کسی دوسرے انسنا میں جمع نہیں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی پاکیزگی شریعت کی آسانی اور اپنے عمدہ اخلاق سے دلوں کو فتح کیا اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جن کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت اور اخلاق کے ذریعے تربیت کی تھی اپنے جہاد کے ساتھ ملکوں کو فتح کیا تھا تاکہ لوگوں کو بندوں کی غلامی میں لے آئیں حکمرانوں کے غلم سے بچا کر اسلامی عدل و انصاف سے انہیں بہرہ ور کریں ۔ ان کی کوشش اور جان نثاری سے پورا دین ہم تک پہنچ گیا ہے یہ دین ہر زمان و مکان میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اگر مسلمان اس دین کے زریعے اپنے فیصلے کریں اس کی کامل اطاعت کریں تو دوبارہ انہیں پہلی سی عزت اور مدد حاصل ہو جائے ۔
3۔ اچھی طرح جان لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سچی محبت یہ لازم کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو اختیار کیا جائے۔ جو قرآن اور صحیح سنت میں وار ہے۔ اس پر عمل کیاجائے۔ انہی کے ذریعے فیصلہ کیا جائے۔ انہی سے فیصلہ حاصل کیا جائے۔ ان کے خلاف کسی فیصلے اور قول کو مقدم نہ کیا جائے۔ توحید کی طرف دعوت کا اہتمام کیا جائے۔ جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہتمام کیا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کو پکارا جائے۔ (اپنی حاجت برآری کیلئے) اس کے غیر کو نہ پکارا جائے۔ اور یہ عقیدہ رکھا جائے کہ اس کے جو نام اور صفات ہیں وہ اس کی مخلوق کے ساتھ مشابہت نہیں رکھتیں۔ وہ اپنے عرش پر بلند ہے۔ اور وہ اپنی سماعت، بصارت اور علم کے ذریعے اپنے بندوں کے ساتھ ہے۔
4۔تمہارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے بنیادی اصول ہیں لہٰذا ان کے ساتھ وابستہ رہو (انہی مضبوطی کیساتھ تھامو)۔ تاکہ تمہارا سچے ایمانداروں اور توحید کے علمبرداروں میں شمار ہو۔ جس نے توحیدِ الٰہی سے محبت کی تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کی۔ (جو شخص ان بنیادی اصولوں پر کاربند نہیں ہے اس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت سچی نہیں ہے۔ چاہے وہ سالہاسال تک جشنِ میلاد مناتا رہے۔ مترجم)۔
أتی مَطْلُوبُ اِبْرَاھِیْمَ بِالْآیَاتِ وَالْحِکَمٖ
اِلٰہُ النَّاسِ اَرْسَلَہٗ اِلٰی الْعَربَآئِ وَالْعَجَمٖ
ابراہیم علیہ السلام کے مطلوب (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) آیا اور حکمتوں کے ساتھ تشریف لائے۔ لوگوں کے معبود نے انہیں عرب و عجم کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔
وَکَانَ الْمُعْتَدُوْنَ عَلٰی شَفَا حُفَرٍ مِنَ النَّارٖ
فَاَنْقَذَھُمْ بِرَاَفَتِہٖ مِنَ الْاَحْزَانِ وَالْاَلَمٖ
زیادتی کرنے والے آگے کے گڑھوں کے کنارے پر کھڑے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شفقت سے انہیں غم و آلام سے نجات دی۔
وَکَانُوْا آخِرِ الْاَقْوَامِ مَسْبُوْقِیْنَ فِی الْعَمَلٖ
بِعَبْثَۃَ رَحْمَۃِ الکَوْنَیْنِ سَبَقُوْا سَائِرَا الْاُمٰمٖ
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب قوموں سے آخر میں آنے والے اور عمل میں پیچھے رہنے والے تھے۔ رحمت کونین کی بعثت کے بعد وہ تمام امتوں سے (اجر و شرف میں) آگے نکل گئے۔
تَمَنَّ الرُّسُلُ مُلْتِمَسِیْنَ بِالْاِقْبَالِ رُؤیَتَہٗ
فَطَارَ وَاَمَّھُمْ فِی الْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی مِنَ الْحَرَمٖ
رسولوں نے بیت المقدس میں پہلے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کی آرزو کی۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدِ حرام سے پرواز کر کے مسجدِ اقصیٰ میں ان کی امامت کی۔
ھَولٰی کَالنَّجْمِ مُھْتِدیًا بِنُوْرِ اللّٰه مُنْتَفِعًا
اَتٰی بھَدِیَّۃِ الصَّلَوَاتِ لِلاَبْرَارِ ذُوالْحَشَمٖ
رہنمائی پاکر اور اللہ کے نور سے فائدہ حاصل کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ستارے کی طرح نیچے آترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صاحبِ جاہ و حشمت نیک لوگوں کے لئے نمازوں کا تحفہ لائے۔
ممَتْ جَنَّاتُ مَکْرُوْمَۃٍ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ ذَرْعٍ
عَلٰی قَفْرٍ ھَمٰی جَوْدًا سَحَابْ الْجُودِ والْکَرمٖ
بے آب و گیاہ وادی میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے) مکارمِ اخلاق کے باغات لہلہا اٹھے۔ بنجر زمین پر جودوکرم کا بادل موسلا دھا برس گیا۔
جَزِیْلٌ فی مَوَاھِبِہٖ جَمِیْلٌ فِی مَنَاقِبِہٖ
قَدِیْمًا کَانَ مَغْفُوْرًا دَوَامًا شَاکِرَ النِعَمٖ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عطا و بخشش میں بہت اعلیٰ اور اپنے مناقب میں خوبصورت تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی بخش دیئے گئے تھے تاہم ہمیشہ اللہ کی نعمتوں کے شکر گذار تھے۔