الرحیق المختوم
خاندانِ نبوت
نسب :
نسب۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ نسب تین حصوں پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ایک حصہ جسکی صحت پر اہل سیئر اور ماہرین انساب کا اتفاق ہے۔ یہ عدنان تک منتہی کہلاتا ہے اور دوسرا حصہ جسمیں اہل سیئر کا اختلاف ہے اور کسی نے توقف کیا ہے اور کوئی قائل ہے۔ یہ عدنان سے اوپر ابراہیم علیہ السلام تک منتہی ہوتا ہے۔ تیسرا حصہ جسمیں يقيناً کچھ غلطیاں ہیں یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اوپر حضرت آدم علیہ السلام تک جاتا ہے۔ اس کی جانب اشارہ گزر چکا ہے۔ذیل میں تینوں حصوں کی قدرے تفصیل دی جا رہی ہے۔
پہلا حصہ
محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب(شیبہ) بن ہاشم(عمرو) بن عبدالمناف(مغیرہ) بن قصی(زید) بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن نظر(قیس) بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ(عامر) بن الیاس بن مضر بن معد بن عدنان۔[1]
دوسرا حصہ
عدنان سے اوپر یعنی عدنان بن اٴدبن ہمیسع بن سلامان بن عوص بن قموال بن اٴبی بن عوام بن ناشد بن حزابن بلد بن یدلاف بن طابخ بن جاحم بن ناحش بن ماخی بن بن عیض بن عبقر بن عبید بن الدعا بن حمدان بن سنبرین بن یثربی بن یحزن بن یلحن بن اٴرعوی بن عیض بن دیشان بن عیصر بن افناد بن ایہام بن مقصر بن ناحث بن سمی بن مزی بن عوضہ بن قیدار بن اسماعیل بن ابراہیم۔[2]
تیسرا حصہ
حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اوپر۔ ابراہیم بن تارح(آذر) بن ناحور بن ساروع (یا ساروغ) بن راعو بن فالح بن عابر بن شالھ بن ارمخشد بن سام بن نوح علیہ السلام بن متوشلخ بن اخنوخ (کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت ادریس علیہ السلام کا نام ہے) بن ہرد بن مہلائیل بن قیتان بن آنوشہ بن شیث بن آدم علیہ السلام۔[3]
خانوادہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خانوادہ جد اعلی ہاشم بن عبد مناف کی نسبت سے خانوادہ ہاشمی کے نام سے معروف ہے۔اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہاشم اور ان کے بعد کے بعض افراد کے مختصر حالات پیش کر دئیے جائیں۔
ھاشم: جب بنو عبدمناف اور بنو عبدالدار کے درمیان عہدوں کی تقسیم پر مصالحت ہوگئی تو عبدالمناف کی اولاد میں ہاشم ہی کو سقایہ اور رفادہ یعنی حجاج کرام کو پانی پلانے اور ان کی میزبانی کرنے کا منصب حاصل ہوا۔ ہاشم بڑے معزز اور مالدار تھے۔ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے مکے میں حاجیوں کو شوربہ روٹی سان کر کھلانے کا اہتمام کیا۔ انکا اصل نام عمرو تھا لیکن روٹی توڑ کر شوربے میں ساننے کی وجہ سے انکو ہاشم کہا جانے لگا کیونکہ ہاشم کے معنی ہیں توڑنے والا۔ پھر یہی وہ ہاشم ہیں جنہوں نے قریش کے لئے گرمی اور جاڑے کے دو سالانہ تجارتی سفروں کی بنیاد رکھی انکے بارے میں شاعر کہتا ہے:
عمر والذی ھشم الثرید لقومہ قوم بمکۃ مسنتین عجاف
سنت الیہ الوحتان کلاھما سفر الشتاٴ ورحلۃ الصیاف
؛؛یہ عمرو ہی ہیں جنہوں نے قحط کی ماری ہوئی اپنی لاغر قوم کو مکہ میں روٹیاں توڑ کر شوربے میں بھگو بھگو کر کھلائیں اور جاڑے اور گرمی کے دونوں سفروں کی بنیاد رکھی۔‘‘
ان کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ وہ تجارت کیلئے ملک شام تشریف لے گئے۔ راستے میں مدینہ پہنچے تو وہاں قبیلہ بنی نجار کی ایک خاتون سلمی بنت عمرو سے شادی کرلی اور کچھ دن وہیں ٹہرے رہے پھر بیوی کو حالت حمل میں ہی چھوڑ کر ملک شام روانہ ہو گئے اور وہاں جا کر فلسطین کے شہر غزہ میں انتقال کر گئے۔ ادھر سلمی کے بطن سے بچہ ہوا یہ سن 497ء کی بات ہے چونکہ بچے کے سر کے بالوں میں سفیدی تھی اس لئے سلمی نے اسکا نام شیبہ رکھا [1] اور یثرب میں میں اپنے میکے ہی کے اندر اس کی پرورش کی۔ آگے چل کر یہی بچہ عبدالمطلب کے نام سے مشہور ہوا ۔عرصے تک خاندان ہاشم کو اس کے وجود کا علم نہ ہو سکا۔ ہاشم کے کل چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں جنکے نام یہ ہیں۔اسد، ابوصیفی، نضلہ، عبدالمطلب، شفاٴ، خالدہ، ضعیفہ، رقیہ اور جنۃ۔[2]
2۔ عبدالمطلب_______ پچھلے صفحات سے معلوم ہو چکا ہے ۔سقایہ اور رفادہ کا منصب ہاشم کے بعد انکےبھائی مطلب کو ملا۔یہ بھی اپنی قوم میں خوبی اور اعزاز کے مالک تھے۔ ان کی بات ٹالی نہیں جاتی تھی۔ان کی سخاوت کے سبب قریش نے انکا لقب فیاض رکھ دیا تھا۔جب شیبہ یعنی عبدالمطب دس بارہ برس کے ہو گئے تو مطلب کو انکا علم ہوا اور وہ انہیں لینے کے لئے روانہ ہوئے۔ جب یثرب کے قریب پہنچے اور شیبہ پر نظر پڑی تو اشکبار ہو گئے، انہین سینے سے لگا لیا اور اپنی سواری پر پیچھے بٹھا کر مکہ کے لئے روانہ ہو گئے۔ مگر شیبہ نے ماں کی اجازت کے بغیر جانے سے انکار کر دیا۔ اس لئے مطلب ان کی ماں سے اجازت کے طالب ہوئے مگر ماں نے اجازت نہ دی۔آخر مطلب نے کہا یہ اپنے والد کی حکومت اور اللہ کے حرم کی طرف جا رہے ہیں اس پر ماں نے اجازت دے دی اور مطلب انہیں اپنے اونٹ پر بٹھا کر مکہ لے آئے۔ مکے والوں نے دیکھا تو کہا یہ عبدالمطلب ہے یعنی مطلب کا غلام ہے،مطلب نے کہا نہیں نہیں! یہ میرا بھتیجا ہے یعنی میرے بھائی ہاشم کا لڑکا ہے۔ پھر شیبہ نے مطلب کے پاس پرورش پائی اور جوان ہوئے۔ اس کے بعد مقام رومان(یمن) میں مطلب کی وفات ہو گئی اور انکے چھوڑے ہوئے مناصب عبدالمطلب کو حاصل ہوئے۔ عبدالمطلب نے اپنی قوم میں اس قدر شرف و اعزاز حاصل کیا کے انکے آباٴو اجداد میں بھی کوئی اس مقام کو نہ پہنچ سکا تھا۔قوم نے انہیں دل سے چاہا اور ان کی بڑی عزت و قدر کی۔[1]
جب مطلب کی وفات ہو گئی تو نوفل نے عبدالمطلب کے صحن پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔عبدالمطلب نے قریشے کچھ لوگوں سے اپنے چچا کے خلاف مدد چاہی لیکن انہون نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ہم تمہارے اور تمہارے چچا کے درمیان دخیل نہیں ہو سکتے۔آخر عبدالمطلب نے بنی نجار میں اپنے ماموں کو کچھ اشعار لکھ بھیجے، جسمیں ان سے مدد کی درخواست کی تھی، جواب میں انکا ماموں ابو سعد بن عدی اسی 80 سوار لیکر روانہ ہوا اور مکے کے قریب البطح میں اترا۔ عبدالمطلب نے وہیں ملاقات کی، اور کہا ماموں جان! گھر تشریف لے چلیں۔ابو سعد نے کہا: نہیں خدا کی قسم! یہاں تک کے نوفل سے مل لوں۔اس کے بعد ابو سعد آگے بڑھا اور نوفل کے سر پر آن کھڑا ہوا۔ نوفل حطیم میں مشائخ قریش کے ہمراہ بیٹھا تھا۔ ابو سعد نے تلوار بے نیام کرتے ہوئے کہا: اس گھر کے رب کی قسم! اگر تم نے میرے بھانجے کی زمین واپس نہ کی تو یہ تلوار تمہارے اندر پیوست کر دونگا۔نوفل نے کہا اچھا! ابو میں نے واپس کر دی۔ اس پر ابو سعد نے مشائخ قریش کو گواہ بنایا۔پھر عبدالمطلب کے گھر گیا اور تین روز مقیم رہ کر عمرہ کرنے کے بعد مدینہ واپس چلا گیا۔ اس واقعے کے بعد نوفل نے بنی ہاشم کے خلاف بنی عبدشمس سے باہمی تعاون کا عہدو پیماں کیا۔ ادھر بنو خزاعہ نے دیکھا کے بنو نجار نے عبدالمطلب کی اس طرح مدد کی ہے تو کہنے لگے کہ عبدالمطلب جس طرح تمہاری اولاد ہے ہماری بھی اولاد ہے لہذا ہم پر اس کی مدد کا حق زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عبدمناف کی والدہ قبیلہ خزاعہ ہی سے تعلق رکھتی تھیں۔ چنانچہ بنو خزاعہ نے دارالندوہ میں جا کر بنو شمس اور بنو نوفل کے خلاف بنو ہاشم سے تعاون کا عہدوپیماں کیا۔ یہی پیمان تھا جو آگے چل کر اسلامی دور میں فتخ مکہ کا سبب بنا۔تفصیل اپنی جگہ آر ہی ہے ۔ [1]
بیت اللہ کے تعلق سے عبدالمطلب کے ساتھ دو اہم واقعات پیش آئے، ایک چاہ زمزم کی کھدائی کا واقعہ اور دوسرا فیل کا واقعہ۔