الرحیق المختوم

چاہ زمزم کی کھدائی

پہلے واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ عبدالمطلب نے خواب میں دیکھا کہ انہیں زمزم کا کنواں کھودنے کا حکم دیا جا رہا ہے اور خواب ہی میں انہیں اس کی جگہ بھی بتائی گئی۔ انہوں نے بیدار ہونے کے بعد کھدائی شروع کی اور رفتہ رفتہ وہ چیزیں برآمد ہوئیں جو بنو جرہم نے مکہ چھوڑتے وقت چاہ زمزم میں دفن کی تھیں۔ یعنی تلواریں، زرہیں اور سونے کے دو ہرن۔عبدالمطلب نے تلواروں سے کعبہ کا دروازہ ڈھالا۔ سونے کے دو ہرن بھی دروازے ہی میں فٹ کئے اور حاجیوں کو زمزم پلانے کا بندوبست کیا۔ کھدائی کے درمیان یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ جب زمزم کا کنواں نمودار ہو گیا تو قریش نے عبدالمطلب سے جھگڑا شروع کیا اور مطالبہ کیا کہ ہمیں بھی کھدائی میں شریک کرلو۔ عبدالمطلب نے کہا میں ایسا نہیں کر سکتا میں اس کام کے لئے مخصوص کیا گیا ہوں، لیکن قریش کے لوگ باز نہ آئے۔ یہاں تک کہ فیصلے کے لئے بنو سعد کی ایک کاہنہ عورت کے پاس جانا طے ہوا اور لوگ مکہ سے روانہ بھی ہو گئے لیکن راستے میں اللہ تعالی نے انہیں ایسی علامات دکھائیں کہ وہ سمجھ گئے کہ زمزم کا کام قدرت کی طرف سے عبدالمطلب کے ساتھ مخصوص ہے۔اس لئے راستے ہی سے پلٹ آئے۔ یہی موقع تھا جب عبدالمطلب نے نذر مانی کے اگر اللہ نے انہیں دس لڑکے عطا کئے اور وہ سب کے سب اس عمر کو پہنچے کہ انکا بچاؤ کر سکیں تو وہ ایک لڑکے کو کعبہ کے پاس قربان کرینگے۔[2]