الرحیق المختوم

بنی سعد میں

عرب کے شہری باشندوں کا دستور تھا کہ وہ اپنے بچوں کو شہری امراض سے دور رکھنے کے لیے دودھ پلانے والی بدوِی عورتوں کے حوالے کردیا کرتے تھے تاکہ ان کے جسم طاقتور اور اعصاب مضبوط ہوں اور اپنے گہوارہ ہی سے خالص اور ٹھوس عربی زبان سیکھ لیں۔ اسی دستور کے مطابق عبد المطلب نے دودھ پلانے والی دایہ تلاش کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حلیمہ بنت ابی ذُوَیب کے حوالے کیا۔ یہ قبیلہ بنی سعد بن بکر کی ایک خاتون تھیں۔ ان کے شوہر کا نام حارث بن عبد العزیٰ اور کنیت ابو کبشہ تھی اور وہ بھی قبیلہ بنی سعد ہی سے تعلق رکھتے تھے۔ حارث کی اوّلاد کے نام یہ ہیں جو رضاعت کے تعلق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی بہن تھے: عبد اللہ ، انیسہ ، حذافہ یا جذامہ ، انہیں کالقب شَیْماَء تھا اور اسی نام سے وہ زیادہ مشہور ہوئیں۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گود کھلایا کرتی تھیں ، ان کے علاوہ ابوسفیان بن حارث بن عبد المطلب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچیرے بھائی تھے وہ بھی حضرت حلیمہ کے واسطے سے آپ کے رضاعی بھائی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلب بھی دودھ پلانے کے لیے بنو سعد کی ایک عورت کے حوالے کیے گئے تھے۔ اس عورت نے بھی ایک دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حلیمہ کے پاس تھے آپ کو دودھ پلادیا۔ اس طرح آپ اور حضرت حمزہ دوہرے رضاعی بھائی ہوگئے ایک ثویبہ کے تعلق سے اور دوسرے بنوسعد کی اس عورت کے تعلق سے۔ [2] رضاعت کے دوران حضرت حلیمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کے ایسے ایسے مناظر دیکھے کہ سراپا حیرت رہ گئیں۔ تفصیلات انہیں کی زبانی سنیے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتی تھیں کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنا ایک چھوٹا سادودھ پیتا بچہ لے کر بنی سعد کی کچھ عورتوں کے قافلے میں اپنے شہر سے باہر دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں نکلیں۔ یہ قحط سالی کے دن تھے اورقحط نے کچھ باقی نہ چھوڑا تھا۔ میں اپنی ایک سفید گدھی پر سوار تھی اور ہمارے پاس ایک اونٹنی بھی تھی، لیکن واللہ ! اس سے ایک قطرہ دودھ نہ نکلتا تھا۔ اِدھر بھُوک سے بچہ اس قدر بِلکتا تھا کہ ہم رات بھر سو نہیں سکتے تھے، نہ میرے سینے میں بچہ کے لیے کچھ تھا اور نہ اونٹنی اس کی خوراک دے سکتی تھی۔ بس ہم بارش اور خوشحالی کی آس لگائے بیٹھے تھے۔ میں اپنی گدھی پر سوار ہوکر چلی تو وہ کمزوری اور دُبلے پن کے سبب اتنی سست رفتار نکلی کہ پورا قافلہ تنگ آگیا۔ خیر ہم کسی نہ کسی طرح دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں مکہ پہنچ گئے۔ پھر ہم میں سے کوئی عورت ایسی نہیں تھی جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش نہ کیا گیا ہو مگر جب اسے بتایا جاتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یتیم ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لینے سے انکار کر دیتی۔ کیونکہ ہم بچے کے والد سے داد ووہش کی امید رکھتے تھے۔ ہم کہتے کہ یہ تو یتیم ہے۔ بھلا اس کی بیوہ ماں اور اس کے دادا کیا دے سکتے ہیں ، بس یہی وجہ تھی کہ ہم آپ کو لینا نہیں چاہتے تھے۔ ادھر جتنی عورتیں میرے ہمراہ آئی تھیں سب کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیا صرف مجھ ہی کو نہ مل سکا۔ جب واپسی کی باری آئی تو میں نے اپنے شوہر سے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میری ساری سہیلیاں تو بچے لے لے کر جائیں اور تنہا مَیں کوئی بچہ لیے بغیر واپس جاؤں۔ میں جاکر اسی یتیم بچے کو لے لیتی ہوں۔ شوہر نے کہا: کوئی حرج نہیں ! ممکن ہے اللہ اسی میں ہمارے لیے برکت دے۔ اس کے بعد میں نے جاکر بچہ لے لیا اور محض اس بناء پر لے لیا کہ کوئی اور بچہ نہ مل سکا۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ جب میں بچے کو لے کر اپنے ڈیرے پر واپس آئی اور اسے اپنی آغوش میں رکھا تو اس نے جس قدر چاہا دونوں سینے دودھ کے ساتھ اس پر اُمنڈ پڑے اور اس نے شکم سیر ہوکر پیا۔ اس کے ساتھ اس کے بھائی نے بھی شکم سیر ہوکر پیا، پھر دونوں سوگئے۔ حالانکہ اس سے پہلے ہم اپنے بچے کے ساتھ سو نہیں سکتے تھے۔ ادھر میرے شوہر اونٹنی دوہنے گئے تو دیکھا کہ اس کا تھن دودھ سے لبریز ہے، انھوں نے اتنا دودھ دوہا کہ ہم دونوں نے نہایت آسودہ ہو کر پیا اور بڑے آرام سے رات گزاری۔ ان کا بیان ہے کہ صبح ہوئی تو میرے شوہر نے کہا : حلیمہ ! اللہ کی قسم ! تم نے ایک بابرکت روح حاصل کی ہے۔ میں نے کہا : مجھے بھی یہی توقع ہے۔ حلیمہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد ہمارا قافلہ روانہ ہوا۔ میں اپنی اسی خستہ حال گدھی پر سوار ہوئی اور اس بچے کو بھی اپنے ساتھ لیا۔ لیکن اب وہی گدھی اللہ کی قسم! پورے قافلے کو کاٹ کر اس طرح آگے نکل گئی کہ کوئی گدھا اس کا ساتھ نہ پکڑ سکا۔ یہاں تک میری سہیلیاں مجھ سے کہنے لگیں: او ! ابو ذویب کی بیٹی ! ارے یہ کیا ہے ؟ ذراہم پر مہربانی کر۔ آخریہ تیری وہی گدھی تو ہے جس پر تُو سوار ہو کر آئی تھی ؟ میں کہتی : ہاں ہاں ! اللہ کی قسم یہ وہی ہے، وہ کہتیں۔ اس کا يقيناً کوئی خاص معاملہ ہے۔ پھر ہم بنو سعدمیں اپنے گھروں کو آگئے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اللہ کی روئے زمین کا کوئی خطہ ہمارے علاقے سے زیادہ قحط زدہ تھا۔ لیکن ہماری واپسی کے بعد میری بکریاں چرنے جاتیں تو آسودہ حال اور دودھ سے بھرپور واپس آتیں۔ ہم دوہتے اور پیتے۔ جبکہ کسی اور انسان کو دودھ کا ایک قطرہ بھی نصیب نہ ہوتا۔ ان کے جانوروں کے تھنوں میں دودھ سرے سے رہتا ہی نہ تھا۔ حتیٰ کہ ہماری قوم کے شہری اپنے چرواہوں سے کہتے کہ کم بختو ! جانور وہیں چرانے لے جایا کرو جہاں ابو ذویب کی بیٹی کا چرواہا لے جاتا ہے…لیکن تب بھی ان کی بکریاں بھوکی واپس آتیں۔ ان کے اندر ایک قطرہ دودھ نہ رہتا، جبکہ میری بکریاں آسودہ اور دودھ سے بھر پور پلٹتیں۔ اس طرح ہم اللہ کی طرف سے مسلسل اضافے اور خیر کا مشاہدہ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اس بچے کے دوسال پورے ہوگئے اور میں نے دودھ چھڑادیا۔ یہ بچہ دوسرے بچوں کے مقابلے میں اس طرح بڑھ رہاتھا کہ دوسال پورے ہوتے ہوتے وہ کڑا اور گٹھیلا ہو چلا۔ اس کے بعد ہم اس بچے کو اس کی والدہ کے پاس لے گئے ، لیکن ہم اس کی جو برکت دیکھتے آئے تھے۔ اس کی وجہ سے ہماری انتہائی خواہش یہی تھی کہ وہ ہمارے پاس رہے۔ چنانچہ ہم نے اس کی ماں سے گفتگو کی۔ میں نے کہا : کیوں نہ آپ میرے بچے کو میرے پاس ہی رہنے دیں کہ ذرا مضبوط ہوجائے۔ کیونکہ مجھے اس کے متعلق مکہ کی وباء کا خطرہ ہے۔ غرض ہمارے مسلسل اصرار پر انھوں نے بچہ ہمیں واپس دے دیا۔ [1]