الرحیق المختوم
واقعۂ شق صدر
اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدت رضاعت ختم ہونے کے بعد بھی بنو سعد ہی میں رہے یہاں تک کہ ولادت کے چوتھے یا پانچویں[2] سال شَقّ ِ صَدر (سینہ مبارک چاک کیے جانے) کا واقعہ پیش آیا۔ اس کی تفصیل حضرت انس رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے۔ آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ حضرت جبریل نے آپ کو پکڑ کر پٹخا اور سینہ چاک کر کے دل نکالا، پھر دل سے ایک لوتھڑا نکال کر فرمایا: یہ تم سے شیطان کا حصہ ہے، پھر دل کو طشت میں زمزم کے پانی سے دھویا اور پھر اسے جوڑکر اس کی جگہ لوٹا دیا۔ ادھر بچے دوڑ کر آپ کی ماں، یعنی دایہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے: محمد قتل کر دیا گیا۔ ان کے گھر کے لوگ جھٹ پٹ پہنچے ، دیکھا تو آپ کا رنگ اترا ہوا تھا۔ [1]