الرحیق المختوم
ماں کی آغوشِ محبت میں
اس واقعے سے حلیمہ رضی اللہ عنہ کو خطرہ محسوس ہوا اور انھوں نے آپ کو آپ کی ماں کے حوالے کردیا۔ چنانچہ آپ چھ سال کی عمر تک والدہ ہی کی آغوشِ محبت میں رہے۔ [2]
ادھر آمنہ کا ارادہ ہوا کہ وہ اپنے متوفی شوہر کی یادِ وفا میں یثرب جاکر ان کی قبر کی زیارت کریں۔ چنانچہ وہ اپنے یتیم بچے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خادمہ اُمِّ ایمن اور اپنے سر پرست عبد المطلب کی معیت میں کوئی پانچ سو کیلو میٹر کی مسافت طے کر کے مدینہ تشریف لے گئیں اور وہاں ایک ماہ تک قیام کر کے واپس ہوئیں۔ لیکن ابھی ابتداء راہ میں تھیں کہ بیماری نے آلیا۔ پھر یہ بیماری شدت اختیار کرتی گئی یہاں تک کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام اَبْوَاء میں پہنچ کر رحلت کر گئیں۔ [3]