الرحیق المختوم

قریش ابو طالب کی خدمت میں

ابن اسحٰق کہتے ہیں کہ اشراف قریش سے چند آدمی ابو طالب کے پاس گئے اور بولے:" اے ابو طالب! آپ کے بھتیجے نے ہمارے خداؤں کا برا بھلا کہاہے، ہمارے دین کی عیب چینی کی ہے، ہماری عقلوں کو حماقت زدہ کہا ہے، اور ہمارے باپ دادا کو گمراہ قرار دیا ہے۔ لہذا یا تو آپ انہیں اس سے روک دیں،یا ہمارے اور ان کے درمیان سے ہٹ جائیں،کیونکہ آپ بھی ہماری طرح ان سے مختلف دین پر ہیں۔ہم انکے معاملے میں آپ کے لئے بھی کافی رہینگے۔" اس کے جواب میں ابو طالب نے نرم بات کہی اور رازدارانہ لہجہ اختیار کیا۔چنانچہ وہ واپس چلے گئے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سابقہ طریقے پر رواں دواں رہتے ہوئے اللہ کا دین پھیلانے اور اس کی تبلیغ میں مصروف رہے۔[1]