الرحیق المختوم

حجّاج کو روکنے کیلئے مجلس شوریٰ

ان ہی دنوں قریش کے سامنے ایک اور مشکل آن کھڑی ہوئی،یعنی ابھی کھلم کھلا تبلیغ کو چند ہی مہینے گزرے تھے کہ موسم حج قریب آگیا۔ قریش کو معلوم تھا کہ اب عرب کے وفود کی آمد شروع ہوگی اس لئے وہ ضروری سمجھتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی ایسی بات کہیں کہ جسکی وجہ سے اہل عرب کے دلوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ کا اثر نہ ہو۔ چنانچہ وہ اس بات پر گفت و شنید کیلئے ولید بن مغیرہ کے پاس جمع ہوئے۔ولید نے کہا: اس بارے میں تم سب لوگ ایک رائے اختیار کر لو۔تم میں باہم کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہئیے کہ خود تمہارا ہی ایک آدمی دوسرے آدمی کی تکذیب کردے اور ایک کی بات دوسرے کی بات کو کاٹ دے۔ لوگوں نے کہا آپ ہی کہئیے۔ اس نے کہا، نہیں تم لوگ کہو، میں سنوں گا،اس پر چند لوگوں نے کہا، ہم کہیں گے کہ وہ کاہن ہے، ولید نے کہا! نہیں بخدا وہ کاہن نہیں ہے، ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے، اس شخص کے اندر نہ کاہنوں کی گنگناہٹ ہے، نہ ان کے جیسی قافیہ بندی یا تک بندی۔ اس پر لوگوں نے کہا: تب ہم کہیں گے کہ وہ پاگل ہے۔ ولید نے کہا نہیں وہ پاگل بھی نہیں۔ہم نے پاگل بھی دیکھے ہیں اور ان کی کیفیت بھی۔ اس شخص کے اندر نہ پاگلوں جیسی سم گھٹنے کی کیفیت اور الٹی سیدھی حرکتیں ہیں اور نہ انکے جیسی بہکی بہکی باتیں۔ لوگوں نے کہا: تب ہم کہیں گے کہ وہ شاعر ہے۔ولید نے کہا وہ شاعر بھی نہیں، ہمیں رَجَز، ہجز، قریض،مقبوض، مبسوط سارے ہی اصناف سخن معلوم ہیں۔ اس کی بات بہر حال شعر نہیں ہے۔ لوگوں نے کہا تب ہم کہیں گے کہ وہ جادوگر ہے۔ولید نے کہا یہ شخص جادو گر بھی نہیں۔ ہم نے جادو گر اور انکا جادو بھی دیکھا ہے، یہ شخص نہ تو ان کی طرح جھاڑ پھونک کرتا ہے نہ گرہ لگاتا ہے۔ لوگوں نے کہا تب ہم کیا کہیں گے؟ ولید نے کہا: خدا کی قسم اس کی بات بڑی شیریں ہے۔ اس کی جڑ پائیدار ہے، اور اس کی شاخ پھلدار، تم جو بات کہوگے لوگ اسکو باطل سمجھیں گے۔ البتّہ اس کے بارے میں سب سے مناسب یہ بات کہہ سکتے ہو کہ وہ جادوگر ہے، اس نے ایسا کلام پیش کیا ہے جو جادو ہے۔اس سے باپ بیٹے، بھائی بھائی، شوہر بیوی اور کنبے قبیلے میں پھوٹ پڑ جاتی ہے۔ بالاخر لوگ اسی تجویز پر متفق ہو کر وہاں سے رخصت ہوئے۔[1] بعض روایات میں یہ تفصیل بھی مذکور ہے کہ جب ولید نے لوگوں کی ساری تجاویز رد کردیں تو لوگوں نے کہا پھر آپ ہی اپنی بے داغ رائے پیش کیجئے۔ اس پر ولید نے کہا: ذرا سوچ لینے دو۔ اس کے بعد وہ سوچتا رہا سوچتا رہا، یہاں تک کہ اپنی مذکورہ بالا رائے ظاہر کی۔[2] اس معاملے میں ولید کے متعلق سورۃ مدّثر کی سولہ 16 آیات نازل ہوئیں جن میں سے چند آیات میں‌اس کے سوچنے کا نقشہ کھینچا گیا۔ چنانچہ ارشاد ہوا: ﴿إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ,فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ,ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ،ثُمَّ نَظَرَ،ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ0ثُمَّ اَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ،فَقَالَ اِنْ ھَذَا اِلاَّ سِحْرٌ يُؤْثَرُ،إِنْ هَذَا إِلاَّ قَوْلُ الْبَشَرِ﴾( مدّثر74: 18۔25) ’’اس نے سوچا اور اندازہ لگایا۔وہ غرت ہو۔ اس نے کیسا اندازہ لگایا۔ پھر غارت ہو اس نے کیسا اندازہ لگایا! پھر نظر دوڑائی۔ پھر پیشانی سکوڑی اور منہ بسورا۔ پھر پلٹا اور تکبّر کیا۔آخرکار کہا کہ یہ نرالا جادو ہے، جو پہلے سے نقل ہوتا آ رہا ہے۔یہ محض انسان کا کلام ہے۔‘‘ بہرحال یہ قرارداد طے پا چکی تو اسکو جامع عمل پہنانے کی کاروائی شروع ہوئی۔کچھ کفار مکہ عازمین حض کے مختلف راستوں پر بیٹھ گئے اور وہاں سے ہر گزرنے والے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے "خطرے" سے آگاہ کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تفصیلات بتانے لگے۔[1] اس کام میں سب سے پیش پیش ابو لہب تھا۔ وہ حج کے ایام میں لوگوں کے ڈیروں اور عکاظ،مجنہ، اور ذوالنجار کے بازاروں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے لگا رہتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے دین کی تبلیغ کرتے اور ابو لہب پیچھے پیچھے یہ کہتا کہ اس کی بات نہ ماننا یہ جھوٹا بددین ہے۔[2] اس دوڑ دھوپ کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ اس حج سے اپنے گھروں کو واپس ہوئی تو ان کے علم میں یہ بات آ چکی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوّت کا دعویٰ کیا ہے اور یوں انکے ذریعے پورے دیار عرب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچا پھیل گیا۔