الرحیق المختوم

دوسری ہجرت حبشہ

اس کے بعد ان مہاجرین پر خصوصاً اور مسلمانوں پر عملاً قریش کا ظلم و ستم اور بڑھ گیا اور ان کے خاندان والوں نے انہیں خوب ستایا کیونکہ قریش کو انکے ساتھ نجاشی کے حسن سلوک کی جو خبر ملی تھی اس پر وہ نہایت چیں بجیں تھےناچار رسول اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو پھر ہجرت حبشہ کا مشورہ دیا، لیکن یہ دوسری ہجرت پہلی ہجرت کے بالمقابل اپنے دامن میں زیادہ مشکلات لئے ہوئے تھی۔ کیونکہ اب کی بار قریش پہلے سے چوکنا تھے اور ایسی کوشش کو ناکام بنانے کا تہیہ کئے ہوئے تھے، لیکن مسلمان ان سے کہیں زیادہ مستعد ثابت ہوئے اور اللہ نے ان کے لئے سفر آسان بنا دیا چنانچہ وہ قریش کی گرفت میں آنے سے پہلے ہی شاہ حبش کے پاس پہنچ گئے۔ اس دفعہ کل 82 یا 83 مردوں نے ہجرت کی ( حضرت عمّار کی ہجرت مختلف فیہ ہے) اور اٹھارہ یا 19 عورتوں نے۔[1] علامہ منصور پوری نے یقین کے ساتھ عورتوں کی تعداد اٹھارہ 18 لکھی ہوئی ہے۔[2]