الرحیق المختوم
پہلی ہجرت حبشہ
جوروستم کا مذکورہ سلسلہ نبوت کے چوتھے سال کے درمیان یا آخر میں شروع ہوا تھا اور ابتداء میں معمولی تھا مگر دن بدن اور ماہ بماہ بڑھتا گیا یہاں تک کہ نبوّت کے پانچویں سال کا وسط آتے آتے اپنے شباب کو پہنچ گیا۔حتّیٰ کے مسلمانوں کے لئے مکہ میں رہنا دوبھر ہو گیا اور انہیں ان پیہم ستم رانیوں سے نجات کی تدبیر سوچنے کیلئے مجبور ہو جانا پڑا۔ ان ہی تاریک اور سنگین حالات میں سورۃ کہف نازل ہوئی۔یہ اصلا" تو مشرکین کے پیش کردہ سوالات کے جواب میں تھی لیکن اس میں جو تین واقعات بیان کئے گئے ہیں ان واقعات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے مستقبل کے بارے میں نہایت بلیغ اشارے تھے۔چنانچہ اصحابٍ کہف کے واقعے میں یہ درس موجود ہے کہ جب دین اور ایمان خطرے میں ہو تو کفروظلم کے مراکز سے ہجرت کے لئے تن بہ تقدیر نکل جانا چاہئیے۔ارشاد ہے:
﴿وَاِذِ اعْتَزَلْتُمُوھُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ اِلاَّ اللّٰه فَاْوُوا اِلَى الْكَہْفِ يَنشُرْ لَكُمْ رَبُّكُم مِّن رَّحْمَتِہ ويُھَيِّئْ لَكُم مِّنْ اَمْرِكُم مِّرْفَقًا﴾(کہف18: 16)
ترجمہ: اور جب تم ان سے اور اللہ کے سوا انکے دوسرے معبودوں سے الگ ہو گئے تو غار میں پناہ گیر ہو جاؤ،تمہارا رب تمہارے لئے اپنی رحمت پھیلا دے گا، اور تمہارے کام کے لئے تمہاری سہولت کی چیز تم کو مہیّا کر دے گا۔
موسیٰ اور خضر علیہما السلام کے واقعے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نتائج ہمیشہ ظاہری حالات کے مطابق نہیں ہوتے بلکہ بسا اوقات ظاہری حالات کے بالکل بر عکس ہوتے ہیں،لہٰذا اس واقعے میں اس بات کی طرف لطیف اشارہ پنہاں ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اس وقت جو ظلم و تشدّد برپا ہےاس کے نتائج بالکل برعکس نکلیں گے۔اور یہ سرکش مشرکین اگر ایمان نہ لائے تو آئندہ ان ہی مقہور و مجبور مسلمانوں سرنگوں ہو کر اپنی قسمت کے فیصلے کے لئے پیش ہونگے۔
ذوالقرنین کے واقعے میں چند خاص باتوں کی طرف اشارہ ہے۔
1۔ یہ کہ زمین اللہ کی ہے۔وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے
2۔ یہ کہ فلاح و کامرانی ایمان ہی کی راہ میں ہے، کفر کی راہ میں نہیں۔
3۔ یہ کہ اللہ تعالیٰ رہرہ کر اپنے بندوں میں سے ایسے افراد کھڑے کرتا رہتا ہے جو مجبور و مقہور انسانوں کو اس دور کے یاجوج وماجوج سے نجات دلاتے ہیں۔
4۔ یہ کہ اللہ کے صالح بندے ہی زمین کی وراثت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔
پھر سورۃ کہف کے بعد سورۃ زمر کا نزول ہوا اور اس میں ہجرت کی طرف اشارہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ اللہ کی زمین تنگ نہیں ہے۔
﴿لِلَّذِينَ اَحْسَنُوا فِي ھَذِہِ الدُّنْيَا حَسَنَہٌ وَاَرْضُ اللّٰه وَاسِعَۃٌ اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ اَجْرَھُم بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴾( الزمر29: 10)
ترجمہ: جن لوگوں نے اس دنیا میں اچھائی کی ان کے لئے اچھائی ہے اور اللہ کی زمین کشادہ ہے،صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بلا حساب دیا جائیگا۔
ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ اصحمہ نجاشی شاہ حبش ایک عادل بادشاہ ہے۔وہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ فتنوں سے اپنے دین کی حفاظت کے لئے حبشہ ہجرت کر جائیں۔ اس کے بعد ایک طے شدہ پروگرام کے مطابق رجب 5 سن نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پہلے گروہ نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔ اس گروہ میں بارہ مرد اور چار عورتیں تھیں۔ حجرت عثمان بن عفّان انکے امیر تھے اور انکے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیّہ رضی اللہ عنہ بھی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے بارے میں فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کے بعد یہ پہلا گھرانہ ہے جس نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔[1]
یہ لوگ تاریکی کے راستے میں چپکے سے نکل کر اپنی نئی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔رازداری کا مقصد یہ تھا کہ قریش کو اسکا علم نہ ہو سکے۔ رخ بحرہ احمر کی بندرگاہ شُُُُعیبہ کی جانب تھا۔ خوش قسمتی سے وہاں دو تجارتی کشتیاں موجود تھیں جو انکو اپنے دامن عافیت میں لے کر سمندر پار حبشہ چلی گئیں۔ قریش کو کسی قدر بعد ان کی روانگی کا علم ہو سکا،تاہم انہوں نے پیچھا کیا اور ساحل تک پہنچے لیکن صحابہ کرام آگے جا چکے تھے اس لئے نامراد واپس آئے۔ ادھر مسلمانوں نے حبشہ پہنچ کر بڑے چین کا سانس لیا۔[1] اسی سال رمضان شریف میں یہ واقعہ پیش آیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار حرم تشریف لے گئے، وہاں قریش کا بڑا مجمع تھا،انکے سردار اور بڑے بڑے لوگ جمع تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دم اچانک ہی کھڑے ہو کر سورۃ نجم کی تلاوت شروع کردی۔ان کفّار نے اس سے پہلے عموماًقران سنا نہیں تھا کیونکہ انکا دائمی وطیرہ قران کے الفاظ میں یہ تھا کہ:
﴿لا تَسْمَعُوا لِھَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيہِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ﴾( فصلت41: 26)
’’اس قران کو مت سنو اور اسمیں خلل ڈالو۔(اودھم مچاؤ) تاکہ تم غالب رہو۔‘‘
لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک اس سورت کی تلاوت شروع کر دی اور انکے کانوں میں ایک ناقابل بیان رعنائی و دلکشی اور عظمت لئے ہوئے کلام الٰہی کی آواز پڑی تو انہیں کچھ ہوش نہ رہا۔سب کے سب گوش بر آواز ہو گئے کسی کے دل میں کوئی اور خیال ہی نہیں آیا۔یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ کے اواخر میں دل دہلا دینے والی آیات تلاوت فرما کر اللہ کا یہ حکم سنایا کہ:
﴿فَاسْجُدُوا للّٰه وَاعْبُدُوا﴾( النجم53: 62)
’’اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو۔‘‘
اور اس کے ساتھ ہی سجدہ فرمایا تو کسی کو اپنے آپ پر قابو نہ رہا اور سب کے سب سجدے میں گر پڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس موقع پر حق کی رعنائی اور جلال نے متکبّرین و مستہزمیں کی ہٹ دھرمی کا پردہ چاک کر دیا تھا۔اس لئے انہیں اپنے آپ پر قابو نہ رہ گیا تھا اور وہ بے اختیار سجدے میں گر پڑے تھے۔[2]
بعد میں انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ کلام الٰہی کے جلال نے ان کی لگام موڑ دی اور وہ ٹھیک وہی کام کر بیٹھے جسے مٹانے کے لئے انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا تھا۔ اور اس کے ساتھ ہی اس واقعے میں حیر مشرکین نے ان پر ہر طرف سے عتاب اور ملامت کی بوچھاڑ شروع کی تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور انہوں نے اپنی جان چھڑانے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء پردازی کی اور یہ جھوٹ گھڑا کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے بتوں کا ذکر عزت و احترام سے کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ:
تِلکَ اَلغَرَانِیقُ اَلعُلٰی،وَاِنَّ شَفَا عَتَھُنَّ لَتُرتَجیٰ
یہ بلند پایہ دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے۔
حالانکہ یہ صریح جھوٹ تھا جو محض اس لئے گھڑ لیا گیا تھا تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرنے کی جو غلطی ہو گئی ہے اس کے لئے ایک "معقول" عذر پیش کیا جا سکے۔ اور ظاہر ہے کہ جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمیشہ جھوٹ گھڑتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہمیشہ دسیسہ کاری اور افتراء پردازی کرتے رہے تھے وہ اپنا دامن بچانے کے لئے اسطرح کا جھوٹ کیوں نہ گھڑتے۔[1]
بہرحال مشرکین کے سجدہ کرنے کے اس واقعے کی خبر حبشہ کے مہاجرین کو بھی معلوم ہوئی لیکن اپنی اصلی صورت سے بالکل ہٹ کے، یعنی انہیں یہ معلوم ہوا کہ قرہش مسلمان ہو گئے ہیں، چنانچہ انہوں نے ماہٍ شوّال میں مکہ واپسی کی راہ لی لیکن جب اتنے قریب آگئے کہ مکہ ان سے ایک دن سے بھی کم فاصلے پر رہ گیا تو حقیقت آشکارا ہوئی۔اس کے بعد کچھ لوگ تو سیدھے حبشہ پلٹ گئے اور کچھ لوگ چھپ چھپا کر قریش کے کسی آدمی کی پناہ لیکر مکے میں داخل ہوئے۔[2]