الرحیق المختوم

قریش کا نمائندہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں

ان دونوں بطل جلیل یعنی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن الخطاب کے مسلمان ہو جانے کے بعد ظلم و طغیان کے بادل چھٹنے شروع ہو گئے اور مسلمانوں کو جوروستم کا تختہ مشق بنانے کیلئے مشرکین پر جو بدمستی چھائی ہوئی تھی اس کی جگہ سوجھ بوجھ نے لینی شروع کی۔چنانچہ مشرکین نے یہ کوشش کی کہ اس دعوت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو منشا اور مقصود ہو سکتا ہے اسے فراواں مقدار میں فراہم کرنے کی پیشکش کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی دعوت و تبلیغ سے باز رکھنے کے لئے سودے بازی کی جائے لیکن ان غریبوں کو پتہ نہیں تھا کہ وہ پوری کائنات، جس پر سورج طلوع ہوتا ہے آپ کی دعوت کے مقابل پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتی اس لئے انہیں اپنے اس منصوبے پر ناکام و نامراد ہونا پڑا۔ ابن اسحٰق نے یزید بن زیاد کے واسطے سے محمد بن کعب قرظی کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ مجھے بتایا گیا کہ عُتبہ بن ربیعہ نے جو سردار قوم تھا، ایک روز قریش کی محفل میں کہا____ اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں ایک جگہ تن تنہا تشریف فرما تھے____ کہ قریش کے لوگو! کیوں نہ محمّد کے پاس جا کر ان سے گفتگو کروں، اور انکے سامنے چند امور پیش کروں، ہو سکتا ہے وہ کوئی چیز قبول کرلیں۔تو جو کچھ وہ قبول کر لیں گے،اسے دے کر ہم انہیں اپنے آُ سے باز رکھیں گے! یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہو چکے تھے اور مشرکین نے یہ دیکھ لیا تھا کہ مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ مشرکین نے کہا: ابو ولید! آپ جائیے اور ان سے بات کیجئے۔اس کے بعد عتبہ اٹھا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔اور پھر بولا: "بھتیجے! ہماری قوم میں تمہارا جو مرتبہ اور مقام ہے اور جو بلند پایہ نسب ہے،وہ تمہیں معلوم ہی ہے، اور اب تم اپنی قوم میں ایک بڑا معاملہ لے آئے ہو جسکی وجہ سے تم نے ان کی جماعت میں تفرقہ ڈال دیا، ان کی عقلوں کو حماقت سے دوچار قرار دیا، انکے معبودوں کو اور انکے دین داروں کی عیب چینی کی، اور انکے آباؤاجداد جو گزر چکے ہیں انہیں کافر ٹہرایا۔ لہٰذا میری بات سنو! میں تم پر چند باتیں پیش کر رہا ہوں، ان پر غور کرو، ہو سکتا ہے کوئی بات قبول کرلو"۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ابو ولید کہو! میں سنوں گا"۔ ابو ولید نے کہا: " بھتیجے! یہ معاملہ جسے تم لیکر آئے ہو اگر اس سے تم یہ چاہتے ہو کہ مال حاصل کرو تو ہم تمہارے لئے اتنا مال جمع کئے دیتے ہیں کہ تم ہم میں سب سے زیادہ مال دار ہو جاؤ،اور اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اعزازومرتبہ حاصل کرو تو ہم تمہیں اپنا سردار بنائے لیتے ہیں، یہاں تک کہ تمہارے بغیر کسی معاملے کا فیصلہ نہ کرینگے، اور اگر تم چاہتے ہو کہ بادشاہ بن جاؤ تو ہم تمہیں اپنا بادشاہ بنئے لیتے ہیں؛ اور اگر یہ جو تمہارے پاس آتا ہے کوئی جن یا بھوت ہے جسے تم دیکھتے ہو لیکن اپنے آپ سے دفع نہیں کر سکتے تو ہم تمہارے لئے اسکا علاج تلاش کئے دیتے ہیں اور اس سلسلے میں ہم اپنا اتنا مال خرچ کرنے کو تیار ہیں کہ تم شفا یاب ہو جاؤ، کیونکہ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جن بھوت انسان پر غالب آجاتا ہے اور اسکا علاج کروانا پڑتا ہے۔‘‘ عُتبہ یہ باتیں کہتا رہا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سنتے رہے، جب وہ فارغ ہو چکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ابو ولید! تم فارغ ہو گئے ہو؟" اس نے کہا: "ہاں" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اچھا اب میری بات سنو"! اس نے کہا: ٹھیک ہے سنوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بسم اللّٰہ الرحمن الرحيم ﴿حم ،تَنزِيلٌ مِّنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ،كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُہُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ،بَشِيرًا وَنَذِيرًا فَاَعْرَضَ اَكْثَرُھُمْ فَھُمْ لا يَسْمَعُونَ ،وَقَالُوا قُلُوبُنَا فِي اَكِنَّہٍ مِّمَّا تَدْعُونَا اِلَيْہِ﴾(فصلت41: 1۔5) ’’حم۔ یہ رحمٰن و رحیم کی طرف سے نازل کی ہوئی ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی گئی ہیں۔ عربی قران ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ہے، لیکن اکثر لوگوں نے اعراض کیا اور وہ سنتے نہیں۔ کہتے ہیں کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو، اس کے لئے ہمارے دلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے پڑھتے جا رہے تھے اور عتبہ اپنے دونوں ہاتھ پیچھے زمین پر ٹیکے چپ چاپ سنتا جا رہا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیت سجدہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا پھر فرمایا: ’’ ابو ولید! تمہیں جو کچھ سننا تھا سن چکے اب تم جانو اور تمہارا کام جانے۔‘‘ عتبہ اٹھا اور سیدھا اپنے آدمیوں کے پاس آیا۔ اسے آتا دیکھ کر مشرکین نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا: "خدا کی قسم! ابو ولید تمہارے پاس وہ چہرہ لے کر نہیں آرہا جو چہرہ لے کر گیا تھا" پھر جب ابو ولید آکر بیٹھ گیا تو لوگوں نے پوچھا: " ابو ولید ! پیچھے کی کیا خبر ہے"؟ اس نے کہا: " پیچھے کی خبر یہ ہے کہ میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے کہ ویسا کلام واللہ میں نے کبھی نہیں سنا۔خدا کی قسم وہ نہ شعر ہے نہ جادو، نہ کہانت۔ قریش کے لوگو! میری بات مانو اور اس معاملے کو مجھ پر چھوڑ دو( میری رائے یہ ہے کہ) اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ کر الگ تھلگ بیٹھ رہو۔ خدا کی قسم! میں نے اسکا جو قول سنا ہے اس سے کوئی زبردست واقعی رونما ہو کر رہے گا۔ پھر اگر اس شخص کو عرب نے مار ڈالا تو تمہارا کام دوسروں کے ذریعے انجام پا جائیگا۔اور اگر یہ شخص عرب پر غالب آگیا تو اس کی بادشاہت تمہاری بادشاہت اور اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی ،اور اسکا وجود سب سے بڑھ کر تمہارے لئے سعادت کا باعث ہوگا" لوگوں نے کہا: " ابو ولید! خدا کی قسم تم پر بھی اس کی زبان کا جادو چل گیا"۔ عُتبہ نے کہا: اس شخص کے بارے میں کری رائے یہی ہے اب تمہیں جو ٹھیک معلوم ہو کرو۔[1] ایک دوسری روایت میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تلاوت شروع کی تو عتبہ چپ چاپ سنتا رہا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے اس قول پر پہنچے: ﴿فَاِنْ اَعْرَضُوا فَقُلْ اَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَۃً مِّثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَثَمُودَ﴾(فصلت41: 13) ترجمہ: پس اگر وہ روگرانی کریں تو تم کہہ دو کہ میں عاد و ثمود کی کڑک جیسی ایک کڑک کے خطرے سے آگاہ کر رہا ہوں۔ تو عتبہ تھرّا کر کھڑا ہو گیا اور یہ کہتے ہوئے اپنا ہاتھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر رکھ دیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا اور قرابت کا واسطہ دیتا ہوں (کہ ایسا نہ کریں) اسے خطرہ تھا کہ کہیں یہ ڈراوا آن نہ پڑے،اس کے بعد وہ اپنی قوم کے پاس گیا اور یہ گفتگو ہوئی۔[1]