الرحیق المختوم

ابو طالب بنی ہاشم اور بنی مطّلب کو جمع کرتے ہیں

حالات کی رفتار بدل چکی تھی،گردوپیش کے ماحول میں فرق آچکا تھا، لیکن ابو طالب کے اندیشے برقرار تھے۔انہیں مشرکین کی طرف سے اپنے بھتیجے کے متعلق برابر خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔ وہ پچھلے واقعات پر برابر غور کر رہے تھے۔مشرکین نے انہیں مقابلہ آرائی کی دھمکی دی تھیپھر انکے بھتیجے کو عمارہ بن ولید کے عوض حاصل کرکے قتل کرنے کیلئے سودے بازی کی کوشش کی تھی۔ابوجہل ایک بھاری پتھر لیکر ان کے بھتیجے کا سر کچلنے اٹھا تھا۔ عقبہ بن ابی معیط نے چادر لپیٹ کر گلا گھونٹنے اور مار ڈالنے کی کوشش کی تھی۔خطاب کا بیٹا تلوار سے ان کا کام تمام کرنے نکلا تھا۔ابو طالب ان واقعات پر غور کرتے تو انہیں ایک ایسے سنگین خطرے کی بو محسوس ہوتی جس سے انکا دل کانپ اٹھتا۔ انہیں یقین ہو چکا تھا کہ مشرکین انکا عہد توڑنے اور انکے بھتیجے کا قتل کرنے کا تہیہ کر چکے ہیں۔اور ان حالات میں خدانخواستہ اگر کوئی مشرک اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ٹوٹ پڑا تو حمزہ یا عمر یا کوئی اور شخص کیا کام دے سکے گا۔ابو طالب کے نزدیک یہ بات یقینی تھی اور بہر حال صحیح بھی تھی۔ کیونکہ مشرکین اعلانیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا فیصلہ کر چکے تھے۔ اور انکے اسی فیصلے کی طرف اللہ تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے: ﴿أَمْ أَبْرَمُوا أَمْرًا فَإِنَّا مُبْرِمُونَ﴾(الزخرف43: 79) ’’اگر انہوں نے ایک بات کا تہیّہ کر رکھا ہے تو ہم بھی تہیّہ کئے ہوئے ہیں۔‘‘ اب سوال یہ تھا کہ ان حالات میں ابو طالب کو کیا کرنا چاہیئے! انہوں نے جب دیکھا کہ قریش ہر جانب سے انکے بھتیجے کی مخالفت میں تل پڑے ہیں تو انہوں نے اپنے جدّ اعلیٰ عبدمناف کے دو صاحبزادوں ہاشم اور مطّلب سے وجود میں آنے والے خاندانوں کو جمع کیا اور انہیں دعوت دی کہ اب تک وہ اپنے بھتیجے کی حفاظت و حمایت کا جو کام تنہا انجام دیتے آ رہے ہیں اب اسے سب مل کر انجام دیں۔ ابو طالب کی یہ بات عربی حمیّت کے پیش نظر ان دونوں خاندانوں کے سارے مسلم اور کافر افراد نے قبول کی۔البتہ صرف ابو طالب کا بھائی ابو لہب ایک ایسا فرد تھا جس نے اسے منظور نہ کیا اور سارے خاندان سے الگ ہو کر مشرکین سے جا ملا اور انکا ساتھ دیا۔[1]