الرحیق المختوم

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا جوارِ رحمت میں

جناب ابوطالب کی وفات کے دو ماہ بعد یا صرف تین دن بعد.... علی اختلاف الاقوال.... حضرت اُمّ المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا بھی رحلت فرما گئیں۔ ان کی وفات نبوت کے دسویں سال ماہِ رمضان میں ہوئی۔ اس وقت وہ ۶۵ برس کی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عمر کی پچاسویں منزل میں تھے۔ [3] حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اللہ تعالیٰ کی بڑی گرانقدر نعمت تھیں۔ وہ ایک چوتھائی صدی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفات میں رہیں اور اس دوران رنج و قلق کا وقت آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تڑپ اٹھتیں، سنگین اور مشکل ترین حالات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قوت پہنچاتیں، تبلیغِ رسالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرتیں اور اس تلخ ترین جہاد کی سختیوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریک کار رہتیں۔ اور اپنی جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیر خواہی و غمگساری کرتیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’‘جس وقت لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا وہ مجھ پر ایمان لائیں، جس وقت لوگوں نے مجھے جھٹلایا انھوں نے میری تصدیق کی جس وقت لوگوں نے مجھے محروم کیا انھوں نے مجھے اپنے مال میں شریک کیا اور اللہ نے مجھے ان سے اولاد دی اور دوسری بیویوں سے کوئی اولاد نہ دی۔ ‘‘[1] صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ‘‘اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم)! یہ خدیجہ رضی اللہ عنہ تشریف لا رہی ہیں۔ ان کے پاس ایک برتن ہے۔ جس میں سالن یا کھانا یا کوئی مشروب ہے۔ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہیں اور جنت میں موتی کے ایک محل کی بشارت دیں جس میں نہ شور و شغب ہو گا نہ درماندگی و تکان۔‘‘[2]