الرحیق المختوم

غم ہی غم

یہ دونوں الم انگیز حادثے صرف چند دنوں کے دوران پیش آئے۔ جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں غم و الم کے احساسات موجزن ہو گئے اور اس کے بعد قوم کی طرف سے بھی مصائب کا طومار بندھ گیا کیونکہ ابوطالب کی وفات کے بعد ان کی جسارت بڑھ گئی اور وہ کھل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت اور تکلیف پہنچانے لگے۔ اس کیفیت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غم و الم میں اور اضافہ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مایوس ہو کر طائف کی راہ لی کہ ممکن ہے وہاں لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ دیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں، لیکن وہاں نہ کوئی پناہ دہندہ ملا نہ مددگار، بلکہ اُلٹے انھوں نے سخت اذیت پہنچائی اور ایسی بدسلوکی کی کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے ویسی بدسلوکی نہ کی تھی۔ (تفصیل آگے آرہی ہے) یہاں اس بات کا اعادہ بے محل نہ ہو گا کہ اہلِ مکہ نے جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ظلم و جور کا بازار گرم کر رکھا تھا اسی طرح وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفقا کے خلاف بھی ستم رانی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمدم و ہمراز ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مکہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور حبشہ کے ارادے سے تن بہ تقدیر نکل پڑے، لیکن بَرکِ غماد پہنچے تو ابنِ دغنہ سے ملاقات ہو گئی اور وہ اپنی پناہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ واپس لے آیا۔[3] ابنِ اسحاق کا بیان ہے کہ جب ابوطالب انتقال کر گئے تو قریش نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی اذیت پہنچائی کہ ابوطالب کی زندگی میں کبھی اس کی آرزو بھی نہ کر سکے تھے حتیٰ کہ قریش کے ایک احمق نے سامنے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مٹی ڈال دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں گھر تشریف لائے۔ مٹی آپ کے سر پر پڑی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی نے اُٹھ کر مٹی دھوئی۔ وہ دھوتے ہوئے روتی جا رہی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں تسلی دیتے ہوئے فرماتے جا رہے تھے: ‘‘بیٹی! روؤ نہیں، اللہ تمھارے ابا کی حفاظت کرے گا۔’’ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرماتے جا رہے تھے کہ ابوطالب کا انتقال ہو گیا۔ [1] اسی طرح کے پے درپے آلام و مصائب کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سال کا نام عام الحزن یعنی غم کا سال رکھ دیا اور یہ سال اسی نام سے تاریخ میں مشہور ہو گیا۔