الرحیق المختوم

یثرب کی چھ سعادت مند روحیں

گیارہویں سن نبوت کے موسم حج (جولائی ۶۲۰ء ) میں اسلامی دعوت کو چند کارآمد بیج دستیاب ہوئے۔ جو دیکھتے دیکھتے سروقامت درختوں میں تبدیل ہوگئے اور ان کی لطیف اور گھنی چھاؤں میں بیٹھ کر مسلمانوں نے برسوں ظلم وستم کی تپش سے راحت ونجات پائی۔ اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کا جو بیڑا اٹھا رکھا تھا اس کے تئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی یہ تھی کہ آپ رات کی تاریکی میں قبائل کے پاس تشریف لے جاتے۔ تاکہ مکے کا کوئی مشرک رکاوٹ نہ ڈال سکے۔ اسی حکمت عملی کے مطابق ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہمراہ لے کر باہر نکلے۔ بنو ذُہل اور بنو شیبان بن ثعلبہ کے ڈیروں سے گزرے تو ان سے اسلام کے بارے میں بات چیت کی۔ انہوں نے جواب تو بڑا امید افزا دیا ، لیکن اسلام قبول کرنے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ کیا۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور بنو ذُہل کے ایک آدمی کے درمیان سلسلہ نسب کے متعلق بڑا دلچسپ سوال وجواب بھی ہوا۔ دونوں ہی ماہر انساب تھے۔ [1] اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ کی گھاٹی سے گزرے تو کچھ لوگوں کو باہم گفتگو کرتے سنا۔[2] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدھے ان کا رخ کیا اور ان کے پاس جاپہنچے، یہ یثرب کے چھ جوان تھے اور سب کے سب قبیلۂ خزرج سے تعلق رکھتے تھے۔ نام یہ ہیں : 1 اسعد بن زُرَارَہ (قبیلۂ بنی النَّجار ) 2 عوف بن حارث بن رفاعہ (ابن عَفْراء ) ( ؍؍ ؍؍ ؍؍ ) 3 رافع بن مالک بن عجلان (قبیلۂ بنی زُریق ) 4 قطبہ بن عامر بن حدیدہ (قبیلۂ بنی سلمہ ) 5 عقبہ بن عامر نابی (قبیلہ بنی حرام بن کعب ) 6 حارث بن عبد اللہ بن رِئاب (قبیلۂ بنی عبید بن غنم ) یہ اہل یثرب کی خوش قسمتی تھی کہ وہ اپنے حلیف یہود مدینہ سے سنا کرتے تھے کہ اس زمانے میں ایک نبی بھیجا (صحیح مسلم ، مشکاۃ المصابیح باب علامات النبوۃ ۲/۵۲۵ ) (دیکھئے : مختصرالسیرہ للشیخ عبد اللہ ص ۱۵۰تا ۱۵۲ ) جانے والا ہے اور اب جلد ہی وہ نمودار ہوگا۔ ہم اس کی پیروی کرکے اس کی معیت میں تمہیں عادِ ارَم کی طرح قتل کر ڈالیں گے۔ [3] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس پہنچ کر دریافت کیا کہ آپ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا :ہم قبیلۂ خزرج سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یعنی یہود کے حلیف ؟ بولے: ہاں۔ فرمایا : پھر کیوں نہ آپ حضرات بیٹھیں،کچھ بات چیت کی جائے، وہ لوگ بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے اسلا م کی حقیقت بیان فرمائی۔ انہیں اللہ عزوجل کی طرف دعوت دی اور قرآن کی تلاوت فرمائی۔ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا : بھئی دیکھو ! یہ تو وہی نبی معلوم ہوتے ہیں جن کا حوالہ دے کر یہود تمہیں دھمکیاں دیا کرتے ہیں۔ لہٰذا یہود تم پر سبقت نہ کرنے پائیں، اس کے بعد انہوں نے فوراًآپ ؐ کی دعوت قبول کرلی اور مسلمان ہوگئے۔ یہ یثرب کے عقلاء الرجال تھے۔ حال ہی میں جنگ گزرچکی تھی ، اور جس کے دھویں اب تک فضا کو تاریک کیے ہوئے تھے ، اس جنگ نے انہیں چور چور کردیا تھا۔ اس لیے انہوں نے بجا طور پر یہ توقع قائم کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ، جنگ کے خاتمے کا ذریعہ ثابت ہوگی۔ چنانچہ انہوں نے کہا : ہم اپنی قوم کو اس حالت میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ کسی اور قوم میں ان کے جیسی عداوت ودشمنی نہیں پائی جاتی۔ امید ہے کہ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے انہیں یکجا کردے گا۔ ہم وہاں جاکر لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد کی طرف بلائیں گے اور یہ دین جو ہم نے خود قبول کر لیا ہے ان پر بھی پیش کریں گے۔ اگر اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کو یکجا کردیا تو پھر آپ سے بڑھ کر کوئی اور معزز نہ ہوگا۔ اس کے بعد جب یہ لوگ مدینہ واپس ہوئے تو اپنے ساتھ اسلام کا پیغام بھی لے گئے، چنانچہ وہاں گھر گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچا پھیل گیا۔[1]