الرحیق المختوم
ایمان کی شعاعیں مکہ سے باہر
جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائل اور وفود پر اسلام پیش کیا ، اسی طرح افراد اور اشخاص کو بھی اسلام کی دعوت دی، اور بعض نے اچھا جواب بھی دیا۔ پھر اس موسم حج کے کچھ ہی عرصے بعد کئی افراد نے اسلام قبول کیا۔ ذیل میں ان کی مختصر روداد پیش کی جارہی ہے :
1۔سوید بن صامت :____یہ شاعر تھے۔ گہری سوجھ بوجھ کے حامل اور یثرب کے باشندے ، ان کی پختگی ، شعر گوئی اور شرف ونسب کی وجہ سے ان کی قوم نے انہیں کامل کا خطاب دے رکھا تھا۔ یہ حج یا عمرہ کے لیے مکہ تشریف لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ کہنے لگے : غالباً آپ(صلی اللہ علیہ وسلم)کے پاس جو کچھ ہے وہ ویسا ہی ہے جیسا میرے پاس ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے پاس کیا ہے ؟ سوید نے کہا : حکمتِ لقمان۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :پیش کرو۔ انہوں نے پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ
کلا م يقيناً اچھا ہے ، لیکن میرے پاس جو کچھ ہے وہ اس سے بھی اچھا ہے۔ وہ قرآن ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کیا ہے۔ وہ ہدایت اور نور ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قرآن پڑھ کر سنایا اور اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور بولے : یہ تو بہت ہی اچھا کلام ہے۔ اس کے بعد وہ مدینہ پلٹ کر آئے ہی تھے کہ جنگ بُعاث سے قبل اوس وخزرج کی ایک جنگ میں قتل کر دیئے گئے۔[2] اغلب یہ ہے کہ انہوں نے ۱۱ نبو ی کے آغاز میں اسلام قبول کیا تھا۔ [3]
2۔ایاس بن معاذ : …یہ بھی یثرب کے باشندے تھے اور نوخیز جوان ۱۱ نبوت میں جنگ بُعاث سے کچھ پہلے اوس کا ایک وفد خزرج کے خلاف قریش سے حلف وتعاون کی تلاش میں مکہ آیا تھا۔ آپ بھی اسی کے ہمراہ تشریف لائے تھے۔ اس وقت یثرب میں ان دونوں قبیلوں کے درمیان عداوت کی آگ بھڑ ک رہی تھی اور اوس کی تعداد خزرج سے کم تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفد کی آمد کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پا س تشریف لے گئے اور ان کے درمیان بیٹھ کو یوں خطاب فرمایا : آپ لوگ جس مقصد کے لیے تشریف لائے ہیں کیا اس سے بہتر چیز قبول کرسکتے ہیں ؟ ان سب کہا: وہ کیا چیز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ نے مجھے اپنے بندوں کے پاس اس بات کی دعوت دینے کے لیے بھیجا ہے کہ وہ اللہ عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں۔ اللہ نے مجھ پر کتا ب بھی اتاری ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کا ذکر کیا اور قرآن کی تلاوت فرمائی۔
ایاس بن معاذ بولے : اے قوم یہ اللہ کی قسم! اس سے بہتر ہے جس کے لیے آپ لوگ یہاں تشریف لائے ہیں، لیکن وفد کے ایک رکن ابو الحسیر انس بن رافع نے ایک مٹھی مٹی اٹھا کر ایاس کے منہ پر دے ماری اور بولا: یہ چھوڑو ! میری عمر کی قسم ! یہاں ہم اس کے بجائے دوسرے ہی مقصد سے آئے ہیں۔ ایاس نے خاموشی اختیار کر لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اٹھ گئے۔ وفد قریش کے ساتھ حلف وتعاون کا معاہدہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا اور یوں ہی ناکام مدینہ واپس ہوگیا۔
مدینہ پلٹنے کے تھوڑے ہی دن بعد ایاس انتقال کر گئے۔ وہ اپنی وفات کے وقت تہلیل وتکبیر اور حمد وتسبیح کر رہے تھے، اس لیے لوگوں کو یقین ہے کہ ان کی وفات اسلام پر ہوئی۔[1]
3۔ابوذر غفاری :____یہ یثرب کے اطراف میں سکونت پذیر تھے۔ جب سوید بن صامت اور ایاس بن معاذ کے ذریعے یثرب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر پہنچی تو غالباً یہ خبر ابوذر رضی اللہ عنہ کے کان سے بھی ٹکرائی اور یہی ان کے اسلام لانے کا سبب بنی۔ [2]
ان کے اسلا م لانے کا واقعہ صحیح بخاری میں تفصیل سے مروی ہے۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں قبیلہ غفار کا ایک آدمی تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ مکے میں ایک آدمی نمودار ہوا ہے جو اپنے آپ کو نبی کہتا ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا : تم اس آدمی کے پاس جاؤ، اس سے بات کرو اور میرے پاس اس کی خبر لاؤ۔ وہ گیا ، ملاقات کی ، اور واپس آیا۔ میں نے پوچھا : کیا خبر لائے ہو ؟ بو لا : اللہ کی قسم! میں نے ایک ایسا آدمی دیکھا ہے جو بھلائی کا حکم دیتا ہے ، اور برائی سے روکتا ہے۔ میں نے کہا :تم نے تشفی بخش خبر نہیں دی۔ آخر میں نے خود توشہ دان اور ڈنڈا اٹھا یا اور مکہ کے لیے چل پڑا۔ (وہاں پہنچ تو گیا ) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتا نہ تھا اور یہ بھی گوارا نہ تھا کہ آپ کے متعلق کسی سے پوچھوں۔چنانچہ میں زمزم کا پانی پیتا اور مسجد حرام میں پڑا رہتا۔ آخر میرے پاس سے علی رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا۔ کہنے لگے: آدمی اجنبی معلوم ہوتا ہے۔ میں نے کہا : جی ہاں۔ انہوں نے کہا: اچھا توگھر چلو۔ میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ نہ وہ مجھ سے کچھ پوچھ رہے تھے نہ میں ان سے کچھ پوچھ رہا تھا اور نہ انہیں کچھ بتاہی رہا تھا۔
صبح ہوئی تومیں اس ارادے سے پھر مسجد حرام گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دریافت کروں ، لیکن کوئی نہ تھا جو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کچھ بتا تا۔ آخر میرے پاس پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ گزرے (دیکھ کر) بولے: اس آدمی کوابھی اپنا ٹھکانہ معلوم نہ ہوسکا ؟ میں نے کہا : نہیں۔ انہوں نے کہا :اچھا تو میرے ساتھ چلو۔ اس کے بعد انہوں نے کہا: اچھا تمہارا معاملہ کیا ہے ؟ اور تم کیوں اس شہر میں آئے ہو ؟ میں نے کہا: آپ راز داری سے کام لیں تو بتاؤں۔ انہوں نے کہا : ٹھیک ہے میں ایسا ہی کروں گا۔ میں نے کہا : مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہاں ایک آدمی نمودار ہوا ہے ، جو اپنے آپ کو اللہ کا نبی بتاتا ہے، میں نے اپنے بھائی کو بھیجا کہ وہ بات کر کے آئے مگراس نے پلٹ کر کوئی تشفی بخش بات نہ بتلائی۔ اس لیے میں نے سوچا کہ خود ہی ملاقات کر لوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : بھئ تم صحیح جگہ پہنچے، دیکھو میرا رخ انھی کی طرف ہے۔ جہاں میں گھسوں وہاں تم بھی گھس جانا اور ہاں ! اگر میں کسی ایسے شخص کو دیکھوں گا جو تمہارے لیے خطرہ ہے تو دیوار کی طرف اس طرح جا رہوں گا گویا اپنا جوتا ٹھیک کررہا ہوں ، لیکن تم راستہ چلتے رہنا۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے اور میں بھی ساتھ ساتھ چل پڑا۔ یہاں تک کہ وہ اندر داخل ہوئے، اور میں بھی ان کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا داخل ہوا اور عرض پر داز ہوا کہ آپ( صلی اللہ علیہ وسلم )مجھ پر اسلام پیش کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام پیش فرمایا اور میں وہیں مسلمان ہوگیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے ابوذر ! اس معاملے کو پس پردہ رکھو اور اپنے علاقے میں واپس چلے جاؤ۔ جب ہمارے ظہور کی خبر ملے تو آجانا۔ میں نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں تو ان کے درمیان ببانگ دہل اس کا اعلان کروں گا۔ اس کے بعد میں مسجد الحرام آیا۔ قریش موجود تھے۔ میں نے کہا : قریش کے لوگو!
أشہد أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ وأشہد أن محمدا عبدہ ورسولہ
’’میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد، د صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘
لوگوں نے کہا : اٹھو۔ اس بے دین کی خبر لو ، لوگ اٹھ پڑے۔ مجھے اس قدر مارا گیا کہ مرجاؤں لیکن حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے آبچایا۔ انہوں نے مجھے جھک کر دیکھا، پھر قریش کی طرف پلٹ کر بولے : تمہاری بربادی ہو۔ تم لوگ غفار کے ایک آدمی کو مارے دے رہو ؟ حالانکہ تمہاری تجارت گاہ اور گزر گاہ غفار ہی سے ہوکر جاتی ہے۔ اس پر لوگ مجھے چھوڑ کر ہٹ گئے۔ دوسرے دن صبح ہوئی تو میں پھر وہیں گیا اور جوکچھ کل کہا تھا آج پھر کہا اور لوگوں نے پھر کہا: اٹھو !اس بے دین کی خبر لو۔ اس کے بعد پھر میرے ساتھ وہی ہوا جو کل ہوچکا تھا اور آج بھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ ہی نے مجھے آبچایا، وہ مجھ پر جھکے پھر ویسی ہی بات کہی جیسی کل کہی تھی۔[1]
4۔ طفیل بن عمر و دوسی:____یہ شریف انسان شاعر ، سوجھ بوجھ کے مالک اور قبیلہ ٔ دوس کے سردار تھے۔ ان کے قبیلے کو بعض نواحی یمن میں امارت یا تقریبا ًامارت حاصل تھی۔ وہ نبوت کے گیارہویں سال مکہ تشریف لائے تو وہاں پہنچنے سے پہلے ہی اہل مکہ نے ان کا استقبال کیا اور نہایت عزت واحترام سے پیش آئے۔ پھر ان سے عرض پرداز ہوئے کہ اے طفیل ! آپ ہمارے شہر تشریف لائے ہیں اور یہ شخص جو ہمارے درمیان ہے اس نے ہمیں سخت پیچیدگی میں پھنسا رکھا ہے۔ ہماری جمعیت بکھیر دی ہے اور ہمارا شیرازہ منتشر کردیا ہے۔ اس کی بات جادو کاسا اثر رکھتی ہے کہ آدمی اور اس کے باپ کے درمیان اور آدمی اس کے بھائی کے درمیا ن اور آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان تفرقہ ڈال دیتی ہے۔ ہمیں ڈرلگتا ہے کہ جس افتاد سے ہم دوچار ہیں کہیں وہ آپ پر اور آپ کی قوم پر بھی نہ آن پڑے۔ لہٰذا آپ اس سے ہرگز گفتگو نہ کریں اور اس کی کوئی چیز نہ سنیں۔
حضرت طفیل رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ یہ لوگ مجھے برابر اسی طرح کی باتیں سمجھاتے رہے یہاں تک کہ میں تہیہ نے کرلیاکہ نہ آپ کی کوئی چیز سنوں گا نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کروں گا۔ حتیٰ کہ جب میں صبح کو مسجد حرام گیا تو کان میں روئی ٹھونس رکھی تھی کہ مبادا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات میرے کان میں نہ پڑ جائے ، لیکن اللہ کومنظور تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض باتیں مجھے سنا ہی دے۔ چنانچہ میں نے بڑا عمدہ کلام سنا، پھر میں نے اپنے جی میں کہا: ہائے مجھ پر میری ماں کی آہ وفغاں ! میں تو واللہ! ایک سوجھ بوجھ رکھنے والا شاعر آدمی ہوں ، مجھ پر بھلا برا چھپا نہیں رہ سکتا ، پھر کیوں نہ میں اس شخص کی بات سنوں؟اگر اچھی ہوئی تو قبول کرلوں گا، بری ہوئی تو چھوڑ دوں گا۔ یہ سوچ کر میں رک گیا اور جب آپؐ گھر پلٹے تو میں بھی پیچھے ہولیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے تو میں بھی داخل ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آمد کا واقعہ اور لوگوں کے خوف دلانے کی کیفیت ، پھر کان میں روئی ٹھونسنے ، اور اس کے باوجود آپؐ کی باتیں سن لینے کی تفصیلات بتائیں۔ پھر عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات پیش کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر اسلام پیش کیا اور قرآن کی تلاوت فرمائی۔ اللہ گواہ ہے میں نے اس سے عمدہ قول اور اس سے زیادہ انصاف کی بات کبھی نہ سنی تھی۔ چنانچہ میں نے وہیں اسلام قبول کرلیا اور حق کی شہادت دی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میری قوم میں میری بات مانی جاتی ہے میں ان کے پاس پلٹ کرجاؤں گا اور انہیں اسلام کی دعوت دوں گا۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے کوئی نشانی دے دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔
حضرت طفیل کو جو نشانی عطا ہوئی وہ یہ تھی کہ جب وہ اپنی قوم کے قریب پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے چہرے پر چراغ جیسی روشنی پیدا کردی۔ انہوں نے کہا : یا اللہ ! چہرے کے بجائے کسی اور جگہ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ اسے مثلہ کہیں گے، چنانچہ یہ روشنی ان کے ڈنڈے میں پلٹ گئی۔ پھر انہوں نے اپنے والد اور اپنی بیوی کو اسلام کی دعوت دی اور وہ دونوں مسلمان ہوگئے لیکن قوم نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی مگر حضرت طفیل رضی اللہ عنہ بھی مسلسل کوشاں رہے حتیٰ کہ غزوۂ خندق کے بعد[1]جب انہوں نے ہجرت فرمائی توا ن کے ساتھ ان کی قوم کے ستر یا اسی خاندان تھے۔ حضرت طفیل رضی اللہ عنہ نے ے اسلام میں بڑے اہم کارنامے انجام دے کر یمامہ کی جنگ میں جام شہادت نوش فرمائی۔[2]
5۔ضماد ازدی :…یہ یمن کے باشندے تھے اور قبیلہ ازد شنوء ہ کے ایک فرد تھے۔جھاڑ پھونک کرنا اور آسیب اتارنا ان کا کام تھا۔ مکہ آئے تو وہاں کے احمقوں سے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پاگل ہیں۔ سوچا کیوں نہ اس شخص کے پاس چلوں ہوسکتا ہے اللہ میرے ہی ہاتھوں سے اسے شفا دے دے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی ، اور کہا : اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم)میں آسیب اتارنے کے لیے جھاڑ پھونک کیا کرتا ہوں، کیا آپ(صلی اللہ علیہ وسلم)کو بھی اس کی ضرورت ہے ؟ آپ نے جواب میں فرمایا :
(( إن الحمد للّٰه نحمدہ ونستعینہ، من یہدہ اللّٰه فلا مضل لہ ، ومن یضللّٰه فلا ہادی لہ ، وأشہد أن لا إلہ إلا اللّٰه وحدہ لا شریک لہ وأشہد أن محمدا عبدہ ورسولہ ، أما بعد))
’’ يقيناً ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے اللہ بھٹکا دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اما بعد ! ‘‘
ضماد نے کہا: ذرا اپنے یہ کلمات مجھے پھر سنا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دہرایا، اس کے بعد ضماد نے کہا : میں کاہنوں ، جادوگروں اور شاعر وں کی بات سن چکا ہوں لیکن میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)کے ان جیسے کلمات کہیں نہیں سنے۔ یہ تو سمندر کی اتھاہ گہرائی کو پہنچے ہوئے ہیں۔ لائیے ! اپنا ہاتھ بڑھایئے ! آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)سے اسلام پر بیعت کروں اور اس کے بعد انہوں نے بیعت کرلی۔[1]