الرحیق المختوم

قریش کی تگ و دَو

ادھر قریش کا یہ حال تھا کہ جب منصوبۂ قتل کی رات گزر گئی اور صبح کو یقینی طور پر معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں تو ان پر گویا جنون طاری ہوگیا۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنا غصہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر اتارا آپ کو گھسیٹ کر خانہ کعبہ لے گئے اور ایک گھڑی زیر حراست رکھا کہ ممکن ہے ان دونوں کی خبر لگ جائے۔[3]لیکن جب حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کچھ حاصل نہ ہوا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ برآمد ہوئیں۔ ان سے پوچھا :تمہارے ابا کہاں ہیں ؟ انہوں نے کہا: واللہ! مجھے معلوم نہیں کہ میرے ابا کہا ں ہیں۔ اس پر کمبخت خبیث ابوجہل نے ہاتھ اٹھا کر ان کے رخسار پر اس زور کا تھپڑ مارا کہ ان کے کان کی بالی گرگئی۔[4] اس کے بعد قریش نے ایک ہنگامی اجلاس کر کے یہ طے کیا کہ ان دونوں کو گرفتار کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل کام میں لائے جائیں۔ چنانچہ مکے سے نکلنے والے تمام راستوں پر خواہ وہ کسی بھی سمت جارہا ہو نہایت کڑا مسلح پہرہ بٹھا دیا گیا۔ اسی طرح یہ اعلان عام بھی کیا گیا کہ جوکوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یا ان میں سے کسی ایک کو زندہ یامردہ حاضر کرے گا اسے ہر ایک کے بدلے سو اونٹوں کا گرانقدر انعام دیا جائے گا۔ [5]اس اعلان کے نتیجے میں سوار اور پیادے اور نشانات ِ قدم کے ماہر کھوجی نہایت سرگرمی سے تلاش میں لگ گئے اور پہاڑوں ، وادیوں اور نشیب وفراز میں ہر طرف بکھر گئے لیکن نتیجہ اور حاصل کچھ نہ رہا۔ تلاش کرنے والے غار کے دہانے تک بھی پہنچے لیکن اللہ اپنے کام پر غالب ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں تھا۔ سر اٹھا یا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگوں کے پاؤں نظر آرہے ہیں۔ میں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! اگر ان میں سے کوئی شخص محض اپنی نگاہ نیچی کردے تو ہمیں دیکھ لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر ! خاموش رہو (ہم ) دوہیں جن کا تیسرا اللہ ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : ((ما ظنک یا أبا بکر باثنین اللّٰه ثالثھما)) [1] ’’ ابوبکر ! ایسے دوآدمیوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔ جن کا تیسرا اللہ ہے۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک معجزہ تھا جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرف فرمایا، چنانچہ تلاش کرنے والے اس وقت واپس پلٹ گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان اور ان کے درمیان چند قدم سے زیادہ فاصلہ باقی نہ رہ گیا تھا۔