الرحیق المختوم

مدینہ کی راہ میں

جب جستجو کی آگ بجھ گئی۔ تلاش کی تگ ودو رک گئی اور تین روز کی مسلسل اور بے نتیجہ دوڑ دھوپ کے بعد قریش کے جوش وجذبات سرد پڑ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مدینہ کے لیے نکلنے کا عزم فرمایا۔ عبد اللہ بن اریقط لَیْثی سے ، جو صحرائی اور بیابانی راستوں کا ماہر تھا، پہلے ہی اجرت پر مدینہ پہنچانے کا معاملہ طے ہو چکا تھا۔ یہ شخص ابھی قریش ہی کے دین پر تھا لیکن قابل اطمینان تھا۔ اس لیے سواریاں اس کے حوالے کردی گئی تھیں اور طے ہواتھا کہ تین راتیں گزر جانے کے بعد وہ دونوں سواریاں لے کر غار ثور پہنچ جائے گا۔ چنانچہ جب دوشنبہ کی رات جو ربیع الاول ۱ ھ کی چاند رات تھی (مطابق ۱۶؍ستمبر ۶۲۲ ء) عبد اللہ بن اریقط سواریاں لے کر آگیا اور اسی مو قع پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں افضل ترین اونٹنی پیش کرتے ہوئے گزارش کی کہ آپ میری ان دوسواریوں میں سے ایک قبول فرمالیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ قیمۃً لوں گا ۔‘‘ ادھر اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بھی زاد سفر لے کر آئیں۔ مگر اس میں لٹکانے والا بندھن لگانا بھول گئیں۔ جب روانگی کا وقت آیا اور حضرت اسماء نے توشہ لٹکانا چاہا تو دیکھا کہ اس میں بندھن ہی نہیں ہے۔ انہوں نے اپنا پٹکا (کمر بند) کھولا اور دوحصوں میں چاک کر کے ایک میں توشہ لٹکا دیا اور دوسرا کمر میں باندھ لیا۔ اسی وجہ سے ان کا لقب ذاتُ النّطاقین پڑ گیا۔[1] اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کوچ فرمایا۔ عامر بن فُہیرہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے۔ دلیل راہ عبداللہ بن اریقط نے ساحل کا راستہ اختیار کیا۔ غار سے روانہ ہوکر اس نے سب سے پہلے یمن کے رخ پر چلایا اور جنوب کی سمت خوب دورتک لے گیا۔ پھر پچھم کی طرف مڑا اور ساحل سمندر کا رخ کیا۔ پھر ایک ایسے راستے پر پہنچ کر جس سے عام لوگ واقف نہ تھے۔شمال کی طرف مڑ گیا ، یہ راستہ ساحل بحرِ احمر کے قریب ہی تھا اور اس پر شاذونادر ہی کوئی چلتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس راستے میں جن مقامات سے گزرے ابن اسحاق نے ان کا تذکرہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب راہنماآپ دونوں کو ساتھ لے کر نکلا تو زیرین مکہ سے لے چلا پھر ساحل کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا زیر ین عسفان سے راستہ کاٹا ، پھر زیرین امج سے گزرتا ہوا آگے بڑھا اور قد ید پار کرنے کے بعد پھر راستہ کا ٹا اور وہیں سے آگے بڑھتا ہو ا خرار سے گزرا۔ پھر ثنیۃ المرہ سے ، پھر لقف سے ، پھر بیابان لقف سے گزرا ، پھر مجاح کے بیابان یں پہنچا اور وہاں سے پھر مجاح کے موڑ سے گزرا۔ پھر ذی الغضوین کے موڑ کے نشیب میں چلا۔ پھر ذی کشرکی وادی میں داخل ہوا۔ پھر جدا جدکا رخ کیا۔ پھر اجرد پہنچا اور اس کے بعد بیابا ن تعہن کے وادئ ذو سلم سے گزرا۔ وہاں سے عبابید اور اس کے بعد فاجہ کا رخ کیا۔ پھر عرج میں اترا۔ پھر رکوبہ کے داہنے ہاتھ ثنیۃ العائر میں چلا، یہاں تک کہ وادی رئم میں اترا اور اس کے بعد قبا ء پہنچ گیا۔[2] آیئے ! اب راستے کے چند واقعات بھی سنتے چلیں: 1۔صحیح بخاری میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:ہم لوگ (غار سے نکل کر) رات بھراور دن میں دوپہر تک چلتے رہے۔ جب ٹھیک دوپہر کا وقت ہو گیا ، راستہ خالی ہوگیا اور کوئی گزرنے والا نہ رہا تو ہمیں ایک لمبی چٹان دکھلائی پڑی جس کے سائے پردھوپ نہیں آئی تھی۔ ہم وہیں اترپڑے۔ میں نے اپنے ہاتھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے کے لیے ایک جگہ برابر کی اور اس پر ایک پوستین بچھا کر گزارش کی اے اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو جائیں اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد وپیش کی دیکھ بھال کیے لیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گردوپیش کی دیکھ بھا ل کے لیے نکلا۔ اچانک کیا دیکھتا ہو ں کہ ایک چرواہا اپنی بکریاں لیے چٹان کی جانب چلا آرہا ہے، وہ بھی اس چٹان سے وہی چاہتا تھا جوہم نے چاہا تھا۔ میں نے اس سے کہا : اے جوان تم کس کے آدمی ہو ؟ اس نے مکہ یا مدینہ کے کسی آدمی کا ذکر کیا۔ میں نے کہا: تمہاری بکریوں میں کچھ دودھ ہے ؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: دوھ سکتا ہوں۔ اس نے کہا:ہاں اور ایک بکری پکڑی۔ میں نے کہا: ذرا تھن کومٹی ، بال اور تنکے وغیرہ سے صاف کرلو۔ اس نے ایک کاب میں تھوڑا سا دودھ دوہا اور میرے پاس ایک چرمی لوٹا تھا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے اور وضو کرنے کے لیے رکھ لیا تھا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا لیکن گوارانہ ہوا کہ آپ کو بیدار کروں۔ چنانچہ جب آپ بیدار ہوئے تومیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور دودھ پر پانی انڈیلا یہاں تک کہ اس کا نچلا حصہ ٹھنڈا ہوگیا۔ اس کے بعد میں نے کہا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)! پی لیجئے۔ آپ نے پیا یہاں تک کہ میں خوش ہوگیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا: ابھی کوچ کا وقت نہیں ہوا ؟ میں کہا: کیوں نہیں ؟ اس کے بعد ہم لوگ چل پڑے۔[1] 2۔ اس سفر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف رہا کرتے تھے۔ یعنی سواری پر حضورؐ کے پیچھے بیٹھا کرتے تھے۔ چونکہ ان پر بڑھاپے کے آثار نمایاں تھے۔ اس لیے لوگوں کی توجہ انہیں کی طرف جاتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ابھی جوانی کے آثار غالب تھے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف توجہ کم جاتی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ کسی آدمی سے سابقہ پڑتا تو وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھتا کہ یہ آپ کے آگے کون ساآدمی ہے ؟ (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کا بڑا لطیف جواب دیتے ) فرماتے : ’’یہ آدمی مجھے راستہ بتا تا ہے۔‘‘ اس سے سمجھنے والا سمجھتا کہ وہ یہی راستہ مراد لے رہے ہیں حالانکہ وہ خیر کا راستہ مراد لیتے تھے۔[2] 3۔ اسی سفر میں دوسرے یا تیسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اُمّ معبد خزاعیہ کے خیمے سے ہو ا۔ یہ خیمہ قدید کے اطرف میں مشلل کے اندر واقع تھا۔ اس کا فاصلہ مکہ مکرمہ سے ایک سوتیس (۱۳۰) کیلو میٹر ہے۔ اُمّ معبد ایک نمایاں اور توانا خاتون تھیں۔ ہاتھ میں گھٹنے ڈالے خیمے کے صحن میں بیٹھی رہتیں اور آنے جانے والے کو کھلاتی پلاتی رہتیں۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ پاس میں کچھ ہے ؟ بولیں : واللہ! ہمارے پاس کچھ ہوتا تو آپ لوگوں کی میزبانی میں تنگی نہ ہوتی۔ بکریاں بھی دور دراز ہیں۔ یہ قحط کا زمانہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ خیمے کے ایک گوشے میں ایک بکری ہے۔ فرمایا : ام معبد ! یہ کیسی بکری ہے؟ بولیں:اسے کمزوری نے ریوڑ سے پیچھے چھوڑ رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ اس میں کچھ دودھ ہے ؟ بولیں : وہ اس سے کہیں زیادہ کمزور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اجازت ہے کہ اسے دھو لوں؟ بولیں: ہاں ،میرے ماں باپ تم پر قربان۔ اگر تمہیں اس میں دودھ دکھائی دے رہا ہے تو ضرور دھولو۔ اس گفتگو کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کے تھن پر ہاتھ پھیرا، اللہ کا نام لیا اوردعا کی۔ بکری نے پاؤں پھیلادیئے۔ تھن میں بھر پور دودھ اُتر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام معبد کا ایک بڑا سا برتن لیا جو ایک جماعت کو آسودہ کرسکتا تھا اور اس میں اتنا دوہا کہ جھاگ اوپر آگیا۔ پھر ام معبد کو پلایا، وہ پی کر شکم سیر ہوگئیں تو اپنے ساتھیوں کوپلایا۔ وہ بھی شکم سیر ہوگئے توخود پیا ، پھر اسی برتن میں دوبارہ اتنادودھ دوہا کہ برتن بھر گیا اور اسے ام ِ معبد کے پاس چھوڑ کر آگے چل پڑے۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ان کے شوہر ابو معبد اپنی کمزور بکریوں کو ، جو دُبلے پن کی وجہ سے مریل چال چل رہی تھیں ، ہانکتے ہوئے آپہنچے۔ دودھ دیکھا تو حیرت میں پڑ گئے۔ پوچھا :یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا ؟ جبکہ بکریاں دور دراز تھیں اور گھر میں دودھ دینے والی بکری نہ تھی ؟ بولیں: واللہ! کوئی بات نہیں سوائے اس کے کہ ہمارے پاس سے ایک بابرکت آدمی گزرا جس کی ایسی اور ایسی بات تھی اور یہ اور یہ حال تھا۔ ابومعبد نے کہا: یہ تو وہی صاحب قریش معلوم ہوتا ہے جسے قریش تلاش کررہے ہیں۔ اچھا ذرا اس کی کیفیت تو بیان کرو۔ اس پر اُمِ معبد نے نہایت دلکش انداز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف وکمالات کا ایسا نقشہ کھینچا کہ گویا سننے والا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہے ۔۔ کتا ب کے اخیر میں یہ اوصاف درج کیے جائیں گے ۔۔ یہ اوصاف سن کر ابو معبد نے کہا : واللہ! یہ تو وہی صاحبِ قریش ہے جس کے بارے میں لوگوں نے قسم قسم کی باتیں بیان کی ہیں۔ میرا ارادہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اختیا ر کروں اور کوئی راستہ ملا تو ایسا ضرور کروں گا۔ ادھرمکے میں ایک آواز ابھری جسے لوگ سن رہے تھے مگر اس کا بولنے والا دکھائی نہیں پڑرہا تھا۔ آواز یہ تھی : جزی اللّٰه رب العرش خیر جزائہ رفیقین حلا خیمتی أم معبد ہما نزلا بالبر وارتحلا بہ وأفلح من أمسی رفیق محمد فیا لقصی ما زوی اللّٰه عنکم بہ من فعال لا یجازی وسودد لیہن بنی کعب مکان فتاتہم ومقعدہا للمؤمنین بمرصد سلوا أختکم عن شأتہا وإنائہا فإنکم إن تسألوا الشاۃ تشہد ’’اللہ رب العرش ان دورفیقوں کو بہتر جزادے جو امِ معبد کے خیمے میں نازل ہوئے۔ وہ دونوں خیر کے ساتھ اترے اور خیر کے ساتھ روانہ ہوئے اور جومحمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رفیق ہو اوہ کامیاب ہوا۔ ہائے قصی ! اللہ نے اس کے ساتھ کتنے بے نظیر کارنامے اور سرداریاں تم سے سمیٹ لیں۔بنوکعب کو ان کی خاتون کی قیام گاہ اور مومنین کی نگہداشت کا پڑاؤ مبارک ہو۔ تم اپنی خاتون سے اس کی بکری اور برتن کے متعلق پوچھو۔ تم خود بکری سے پوچھو گے تو وہ بھی شہادت دے گی۔‘‘ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمیں معلوم نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدھر کا رخ فرمایا ہے کہ ایک جن زیرین مکہ سے یہ اشعار پڑھتا ہو آیا۔ لوگ اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ اس کی آواز سن رہے تھے لیکن خود اسے نہیں دیکھ رہے تھے۔ یہاں تک کہ وہ بالائی مکہ سے نکل گیا ، وہ کہتی ہیں کہ جب ہم نے اس کی بات سنی تو ہمیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدھر کا رُخ فرمایا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رُخ مدینہ کی جانب ہے۔[1] 4۔ راستے میں سُراقَہ بن مالک نے تعاقب کیا اور اس واقعے کو خود سُراقہ نے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں : میں اپنی قوم بنی مد لج کی ایک مجلس میں بیٹھا تھا کہ اتنے میں ایک آدمی آکر ہمارے پاس کھڑا ہوا اور ہم بیٹھے تھے۔ اس نے کہا:اے سُراقَہ ! میں نے ابھی ساحل کے پاس چند افراد دیکھے ہیں۔میرا خیال ہے کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھی ہیں۔ سراقہ کہتے ہیں کہ میں سمجھ گیا یہ وہی لوگ ہیں لیکن میں نے اس آدمی سے کہا کہ یہ وہ لوگ نہیں ہیں۔ بلکہ تم نے فلاں اور فلاں کودیکھا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے گزر کر گئے ہیں۔ پھرمیں مجلس میں کچھ دیر تک ٹھہرا رہا۔ اس کے بعد اٹھ کر اندر گیا اور اپنی لونڈی کو حکم دیا کہ وہ میرا گھوڑا نکالے اورٹیلے کے پیچھے روک کرمیرا انتظار کرے۔ ادھر میں نے اپنا نیزہ لیا، اور گھر کے پچھواڑے سے باہر نکلا۔ لاٹھی کا ایک سرازمین پر گھسیٹ رہا تھا اور دوسرا اوپری سرا نیچے کر رکھا تھا۔ اس طرح میں اپنے گھوڑے کے پاس پہنچا اور اس پر سوار ہوگیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ حسب معمول مجھے لے کر دوڑ رہا ہے۔ یہاں تک کہ میں ان کے قریب آگیا۔ اس کے بعد گھوڑا مجھ سمیت پھِسلا میں اس سے گرگیا ، میں نے اٹھ کر ترکش کی طرف ہاتھ بڑھایا اور پانسے کا تیر نکال کر یہ جاننا چاہا کہ میں انہیں ضرر پہنچا سکوں گا یا نہیں ؟ تو وہ تیر نکلا جو مجھے ناپسند تھا ، لیکن میں نے تیر کی نافرمانی کی اور گھوڑے پر سوار ہوگیا وہ مجھے لے کر دوڑنے لگا۔ یہاں تک کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراء ت سن رہا تھا اور آپ التفات نہیں فرماتے تھے ، جبکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ باربار مڑ کر دیکھ رہے تھے ______ تو میرے گھوڑے کے اگلے دونوں پاؤں زمین میں دھنس گئے یہاں تک کہ گھٹنوں تک جاپہنچے اور میں اس سے گرگیا۔ پھر میں نے اسے ڈانٹا تو اس نے اٹھنا چاہا لیکن وہ اپنے پاؤں بمشکل نکال سکا۔ بہر حال جب وہ سیدھا کھڑا ہوا تو اس کے پاؤں کے نشان سے آسمان کی طرف دھویں جیسا غبار اُڑرہا تھا۔ میں نے پھر پانسے کے تیر سے قسمت معلوم کی اور پھر وہی تیر نکلا جو مجھے ناپسند تھا۔ اس کے بعد میں نے امان کے ساتھ انہیں پکارا تو وہ لوگ ٹھہر گئے۔اور میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر ان کے پاس پہنچا جس وقت میں ان سے روک دیا گیا تھا اسی وقت میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامعاملہ غالب آکر رہے گا۔ چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدلے دیت(کا انعام ) رکھاہے اور ساتھ ہی میں نے لوگوں کے عزائم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا اور توشہ اور سازو سامان کی بھی پیش کش کی۔ مگر انہوں نے میرا کوئی سامان نہیں لیا اور نہ مجھ سے کوئی سوال کیا۔ صرف اتنا کہا کہ ہمارے متعلق رازداری برتنا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پروانہ ٔ امن لکھ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن فہیرہ کو حکم دیا اور انہوں نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر لکھ کر میرے حوالے کردیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے۔[1] اس واقعے سے متعلق خود ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بھی ایک روایت ہے۔ ان کا بیان ہے کہ ہم لوگ روانہ ہوئے تو قوم ہماری تلاش میں تھی مگر سراقہ بن مالک بن جعشم کے سوا ۔جو اپنے گھوڑے پر آیا تھا ۔ اور کوئی ہمیں نہ پاس کا۔ میں نے کہا :اے اللہ کے رسول ! یہ پیچھا کرنے والا ہمیں آلینا چاہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( لا تحزن إن اللّٰہ معنا)) ’’غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ [2] بہر حال سراقہ واپس ہوا تو دیکھا کہ لوگ تلاش میں سرگرداں ہیں۔ کہنے لگا: ادھر کی کھوج خبر لے چکا ہوں۔ یہاں تمہارا جو کام تھا کیا جاچکا ہے۔ (اس طرح لوگوں کو واپس لے گیا ) یعنی دن کے شروع میں تو چڑھا آرہا تھا اور آخر میں پاسبان بن گیا۔[1] 5۔راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بریدہ اسلمی ملے، یہ اپنی قوم کے سردار تھے اور قریش نے جس زبردست انعام کا اعلان کر رکھا تھا اسی کے لالچ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تلاش میں نکلے تھے، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سامنا ہوا اور بات چیت ہوئی تو نقد دل دے بیٹھے اور اپنی قوم کے ستّر آدمیوں سمیت وہیں مسلمان ہو گئے۔ پھر اپنی پگڑی اتار کر نیزہ سے باندھ لی جس کا سفید پھریرا ہوا میں لہراتا اور بشارت سناتا تھا کہ امن کا بادشاہ، صلح کا حامی، دنیا کو عدالت و انصاف سے بھرپور کرنے والا تشریف لا رہا ہے۔[2] 6۔راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ملے۔ یہ مسلمانوں کے ایک تجارت پیشہ گروہ کے ساتھ ملک شام سے واپس آ رہے تھے۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سفید پارچہ جات پیش کئے۔[3]