الرحیق المختوم
مدینہ میں داخلہ
جمعہ کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے اور اسی دن سے اس شہر کا نام یثرب کے بجائے مدینۃ الرسول ____شہر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ____پڑگیا۔ جسے مختصراً مدینہ کہا جاتا ہے۔ یہ نہایت تابناک تاریخی دن تھا گلی کوچے تقدیس وتحمید کے کلمات سے گونج رہے تھے اور انصار کی بچیاں خوشی ومسرت سے ان اشعار کے نغمے بکھیر رہی تھیں۔[4]
طلع البدر علینا من ثنیات الوداع
’’ان پہاڑوں سے جو ہیں سوئے جنوب چودھویں کا چاند ہے ہم پر چڑھا
وجب الشکر علینا ما دعا للّٰه داع
کیسا عمدہ دین اور تعلیم ہے شکر واجب ہے ہمیں اللہ کا
أیہا المبعوث فینا جئت بالأمر المطاع
ہے اطاعت تیرے حکم کی بھیجنے والا ہے تیر ا کبریا
انصار اگر چہ بڑے دولت مند نہ تھے لیکن ہرا یک کی یہی آرزو تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے یہاں قیام فرمائیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے جس مکان یامحلے سے گزرتے وہاں کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل پکڑلیتے اور عرض کرتے کہ تعداد وسامان اور ہتھیار وحفاظت فرشِ راہ ہیں تشریف لائیے ! مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ اونٹنی کی راہ چھوڑدو۔ یہ اللہ کی طرف سے مامور ہے۔ چنانچہ اونٹنی مسلسل چلتی رہی اورا س مقام پر پہنچ کر بیٹھی جہاں آج مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے نہیں اترے یہاں تک کہ وہ اٹھ کر تھوڑی دور گئی۔ پھرمڑ کر دیکھنے کے بعد پلٹ آئی اور اپنی پہلی جگہ بیٹھ گئی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے تشریف لائے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ننہیال والوں، یعنی بنو نجار کا محلہ تھا اور یہ اونٹنی کے لیے محض توفیق الٰہی تھی۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ننہیال میں قیام فرماکر ان کی عزت افزائی کرنا چاہتے تھے۔ اب بنونجار کے لوگوں نے اپنے اپنے گھر لے جانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض معروض شروع کی لیکن ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے لپک کر کجاوہ اٹھا لیا اور اپنے گھر لے کر چلے گئے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : آدمی اپنے کجاوے کے ساتھ ہے۔ ادھر حضرت اسعد بن زرارہ رضی ا للہ عنہ نے آکر اونٹنی کی نکیل پکڑ لی۔ چنانچہ یہ اونٹنی انھی کے پاس رہی۔[1]
صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے کس آدمی کا گھر زیادہ قریب ہے ؟ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا ، اے اللہ کے رسول ؐ ! یہ رہا میرا مکان اور یہ رہامیرا دروازہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور ہمارے لیے قَیْلُولہ کی جگہ تیار کردو۔ انہوں نے عرض کی:آپ دونوں حضرات تشریف لے چلیں اللہ برکت دے۔[1]
چند دنوں کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت سَوْدَہ رضی اللہ عنہا اور آپ کی دونوں صاحبزایاں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ام کلثوم ، اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اور ام ایمن بھی آگئیں۔ ان سب کو حضرت عبد اللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ آل ابی بکر کے ساتھ جن میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بھی تھیں لے کر آئے تھے۔ البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی حضرت زینب، حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے پاس باقی رہ گئیں انہوں نے آنے نہیں دیا۔اور وہ جنگ ِ بدر کے بعد تشریف لاسکیں۔[2]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ ہم مدینہ آئے تو یہ اللہ کی زمین میں سب سے زیادہ وباخیز جگہ تھی۔ وادیٔ بطحان سڑے ہوئے پانی سے بہتی تھی۔
ان کا یہ بھی بیا ن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بخار آگیا۔میں نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر دریافت کیا کہ اباجان آپ کا کیا حال ہے ؟ اور اے بلال ! آپ کا کیا حال ہے ؟ وہ فرماتی ہیں کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بخار آتا تو یہ شعر پڑھتے :
کل امرئ مصبح فی أہلہ والموت أدنی من شراک نعلہ
’’ہر آدمی سے اس کے اہل کے اندر صبح بخیر کہا جاتا ہے، حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔‘‘
اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی حالت کچھ سنبھلتی تو وہ اپنی کربناک آواز بلند کرتے اور کہتے :
ألا لیت شعری ہل أبییتن لیلۃ بواد وحولی إذخر وجلیل
وہل أردن یوماّ میاہ مجنۃ وہل یبدون لی شامۃ وطفیل
’’کاش! میں جانتا کہ کوئی رات وادی (مکہ ) میں گزارسکوں گا اور میرے گرد اِذْخر اور جلیل (گھاس) ہوں گی اور کیا کسی دن مجنہ کے چشمے پروارد ہوسکوں گا اور مجھے شامہ اور طفیل (پہاڑ ) دکھلائی پڑیں گے۔‘‘
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! ہمارے نزدیک مدینہ کو اسی طرح محبوب کر دے جیسے مکہ محبوب تھا، یااس سے بھی زیادہ اور مدینہ کی فضا ء صحت بخش بنا دے ، اور اس کے صاع اور مد (غلے کے پیمانوں ) مین برکت دے۔ اوراس کا بخار منتقل کرکے جحفہ پہنچادے۔ [3]اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سن لی اور حالات بدل گئے ۔
یہاں تک حیات طیبہ کی ایک قسم اوراسلامی دعوت کا ایک دور (یعنی مکی دور )پورا ہوتا ہے ۔