الرحیق المختوم

قبا ء میں تشریف آوری

دوشنبہ ۸؍ ربیع الاول ۱۴ نبوت …یعنی ۱ ہجری مطابق ۲۳؍ ستمبر ۶۲۲ ء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء میں وارد ہوئے۔[4] حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مسلمانانِ مدینہ نے مکہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کی خبرسن لی تھی۔ اس لیے لوگ روزانہ صبح ہی صبح حرہ کی طرف نکل جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ تکتے رہتے۔ جب دوپہر کو دھوپ سخت ہوجاتی تو واپس پلٹ آتے۔ ایک روز طویل انتظار کے بعد واپس پلٹ کر لوگ اپنے اپنے گھروں کو پہنچ چکے تھے کہ ایک یہودی اپنے کسی ٹیلے پر کچھ دیکھنے کے لیے چڑھا۔ کیا دیکھتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفقاء سفید کپڑوں میں ملبوس ۔جن سے چاندنی چھٹک رہی تھی ۔ تشریف لارہے ہیں۔ اس نے بیخود ہوکر نہایت بلند آواز سے کہا : عرب کے لوگو! یہ رہا تمہارا نصیب ، جس کا تم انتظار کررہے تھے۔ یہ سنتے ہی مسلمان ہتھیار وں کی طرف دوڑ پڑے۔ [1] (اور ہتھیار سے سج دھج کر استقبال کے لیے امنڈ پڑے ) اور حرہ کی پشت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا۔ ابن قیم کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ ہی بنی عمر و بن عوف (ساکنان ِ قباء ) میں شور بلند ہوا اور تکبیر سنی گئی۔ مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی میں نعرہ ٔ تکبیر بلند کرتے ہوئے استقبال کے لیے نکل پڑے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر تحیہ نبوت پیش کیا اور گرد وپیش پر وانوں کی طرح جمع ہوگئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سکینت چھائی ہوئی تھی اور یہ وحی نازل ہورہی تھی : ﴿فَإِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ﴾(۶۶: ۴) ’’اللہ آپ کا مولیٰ ہے اور جبریل علیہ السلام اور صالح مومنین بھی اور اس کے بعد فرشتے آپ کے مددگارہیں۔‘‘[2] حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ لوگوں سے ملنے کے بعد آپ ان کے ساتھ داہنے جانب مڑے، اور بنی عمرو بن عوف میں تشریف لائے۔ یہ دوشنبہ کا دن اور ربیع الاول کا مہینہ تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ آنے والوں کے استقبال کے لیے کھڑے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چپ چاپ بیٹھے تھے۔ انصار کے جولوگ آتے تھے، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا نہ تھا وہ سیدھے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سلام کرتے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دھوپ آگئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چادر تان کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا۔ تب لوگوں نے پہچانا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔[3] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال اور دیدار کے لیے سارا مدینہ امنڈ پڑا تھا۔ یہ ایک تاریخی دن تھا ، جس کی نظیر سر زمین مدینہ نے کبھی نہ دیکھی تھی۔ آج یہود نے بھی حبقوق نبی کی اس بشارت کا مطلب دیکھ لیا تھا ’’کہ اللہ جنوب سے اور وہ جو قدوس ہے کوہ فاران سے آیا۔‘‘[4] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قباء میں کلثوم بن ہدم…اور کہا جاتا ہے کہ سعد بن خیثمہ…کے مکان میں قیام فرمایا۔ ___پہلا قول زیادہ قوی ہے۔ ادھر حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مکہ میں تین روز ٹھہر کر اور لوگوں کی جوامانتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں انہیں ادا کر کے پیدل ہی مدینہ کا رخ کیا اور قباء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آملے اور کلثوم بن ہدم کے یہاں قیام فرمایا۔[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قباء میں کل چار دن[2] (دوشنبہ ، منگل ، بدھ ، جمعرات ) یادس سے زیادہ دن قیام فرمایا اور اسی دوران مسجد قباء کی بنیاد رکھی ، اور اس میں نماز بھی پڑھی۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد پہلی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی۔ پانچویں دن (یابارہویں دن ) جمعہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم الٰہی کے مطابق سوار ہوئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوالنجار کو ۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموؤں کا قبیلہ تھا ۔ اطلاع بھیج دی تھی۔ چنانچہ وہ تلوار حمائل کیے حاضر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کی معیت میں ) مدینہ کا رخ کیا۔ بنو سالم بن عوف کی آبادی میں پہنچے تو جمعہ کا وقت آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطن وادی میں اس مقام پر جمعہ پڑھا جہاں اب مسجد ہے ، کل ایک سو آدمی تھے۔[3]