الرحیق المختوم
پہلا مرحلہ: ہجرت کے وقت مدینہ کے حالا ت
ہجرت کا مطلب صرف یہی نہیں تھا کہ فتنے اور تمسخر کا نشانہ بننے سے نجات حاصل کر لی جائے بلکہ اس میں یہ مفہوم بھی شامل تھا کہ ایک پُر امن علاقے کے اندر ایک نئے معاشرے کی تشکیل میں تعاون کیا جائے۔ اسی لیے ہرصاحبِ استطاعت مسلمان پر فرض قرار پایا تھا کہ اس وطنِ جدید کی تعمیر میں حصہ لے اور اس کی پختگی ، حفاظت اور رفعتِ شان میں اپنی کوشش صرف کرے۔
یہ بات توقطعی طور پر معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس معاشرے کی تشکیل کے امام، قائد اور رہنماتھے۔ اور کسی نزاع کے بغیر سارے معالات کی باگ ڈور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ہاتھ میں تھی۔
مدینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین طرح کے قوموں سے سابقہ درپیش تھا جن میں سے ہر ایک کے حالات دوسرے سے بالکل جداگانہ تھے اور ہر ایک قوم کے تعلق سے کچھ خصوصی مسائل تھے جودوسری قوموں کے مسائل سے مختلف تھے۔ یہ تینوں اقوام حسبِ ذیل تھیں :
1۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکباز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی منتخب اور ممتاز جماعت۔
2۔ مدینے کے قدیم اور اصلی قبائل سے تعلق رکھنے والے مشرکین ، جو اب تک ایمان نہیں لائے تھے۔
3۔ یہود۔
)الف ) ____صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تعلق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جن مسائل کا سامنا تھا ان کی توضیح یہ ہے کہ ان کے لیے مدینے کے حالات مکے کے حالات سے قطعی طور پر مختلف تھے۔ مکے میں اگر چہ ان کا کلمہ ایک تھا اور ان کے مقاصد بھی ایک تھے مگر وہ خود مختلف گھرانوں میں بکھر ے ہوئے تھے اور مجبور ومقہور اور ذلیل وکمزور تھے۔ ان کے ہاتھ میں کسی طرح کا کوئی اختیار نہ تھا۔ سارے اختیار دشمنان دین کے ہاتھوں میں تھے اور دنیا کا کوئی بھی انسانی معاشرہ جن اجزاء اور لوازمات سے قائم ہوتا ہے مَکہ کے مسلمانوں کے پاس وہ اجزاء سرے سے تھے ہی نہیں کہ ان کی بنیاد پر کسی نئے اسلامی معاشرے کی تشکیل کرسکیں۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ مکی سورتوں میں صرف اسلامی مبادیات کی تفصیل بیان کی گئی ہے اور صرف ایسے احکامات نازل کیے گئے ہیں جن پر ہر آدمی تنہا عمل کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ نیکی بھلائی اور مکارمِ اخلاق کی ترغیب دی گئی ہے۔ اور رَذِیل وذلیل کا موں سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔
اس کے برخلاف مدینے میں مسلمانوں کی زمامِ کار پہلے ہی دن سے خود ان کے اپنے ہاتھ میں تھی۔ ان پر کسی دوسرے کا تسلّط نہ تھا۔ اس لیے اب وقت آگیا تھا کہ مسلمان تہذیب وعمرانیات ، معاشیات واقتصادیات ، سیاست وحکومت اور صلح وجنگ کے مسائل کا سامنا کریں اور ان کے لیے حلال وحرام اور عبادات واخلاق وغیرہ مسائل زندگی کی بھر پور تنقیح کی جائے۔
وقت آگیا تھا کہ مسلمان ایک نیا معاشرہ، یعنی اسلامی معاشرہ تشکیل کریں جو زندگی کے تمام مرحلوں میں جاہلی معاشرے سے مختلف اور عالمِ انسانی کے اندرموجود کسی بھی دوسرے معاشرے سے ممتاز ہو اور اس دعوت ِ اسلامی کا نمائندہ ہو جس کی راہ میں مسلمانوں نے تیرہ سال تک طرح طرح کی مصیبتیں اور مشقتیں برداشت کی تھیں۔
ظاہر ہے اس طرح کے کسی معاشرے کی تشکیل ایک دن ، ایک مہینہ یا ایک سال میں نہیں ہوسکتی بلکہ اس کے لیے ایک طویل مدت درکار ہوتی ہے تاکہ اس میں آہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ احکام صادر کیے جائیں اور قانون سازی کا کام مشق وتربیت اور عملی نفاذ کے ساتھ ساتھ مکمل کیا جائے۔ اب جہاں تک احکام وقوانین صادر اور فراہم کرنے کا معاملہ ہے تو اللہ تعالیٰ خود اس کا کفیل تھا اور جہاں تک ان احکام کے نفاذ اور مسلمانوں کی تربیت ورہنمائی کا معاملہ ہے تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مامور رتھے۔ چنانچہ ارشادہے :
﴿ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ﴾(۶۲: ۲)
’’وہی ہے جس نے اُمِیّوں میں خود انہیں کے اندر سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اللہ کی آیات تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک وصاف کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے اور یہ لوگ يقيناً پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔‘‘
ادھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ حال تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہمہ تن متوجہ رہتے اور جو حکم صادر ہوتا اس سے اپنے آپ کو آراستہ کر کے خوشی محسوس کرتے، جیسا کہ ارشاد ہے :
﴿ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا﴾(۸: ۲)
’’جب ان پر اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے ایمان کو بڑھا دیتی ہیں۔‘‘
چونکہ ان سارے مسائل کی تفصیل ہمارے موضوع میں داخل نہیں اس لیے ہم اس پر بقدر ضرورت گفتگو کریں گے۔
بہرحال یہی سب سے عظیم مسئلہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کے تعلق سے درپیش تھا اور بڑے پیمانے پر یہی دعوتِ اسلامیہ اور رسالتِ محمدیہؐ کا مقصود بھی تھا۔ لیکن یہ کوئی ہنگامی مسئلہ نہ تھا بلکہ مستقل اور دائمیتھا۔ البتہ اس کے علاوہ کچھ دوسرے مسائل بھی تھے جو فوری توجہ کے طالب تھے۔ جن کی مختصرکیفیت یہ ہے :
مسلمانوں کی جماعت میں دوطرح کے لوگ تھے۔ ایک وہ جو خود اپنی زمین ، اپنے مکان اور اپنے اموال کے اندر رہ رہے تھے اوراس بارے میں ان کو اس سے زیادہ فکرنہ تھی جتنی کسی آدمی کو اپنے اہل وعیال میں امن وسکون کے ساتھ رہتے ہوئے کرنی پڑتی ہے۔ یہ انصار کا گروہ تھا اور ان میں پشتہا پشت سے باہم بڑی مستحکم عداوتیں اور نفر تیں چلی آرہی تھیں۔ ان کے پہلوبہ پہلودوسرا گروہ مہاجرین کا تھا جو ان ساری سہولتوں سے محروم تھا اور لٹ پٹ کر کسی نہ کسی طرح تن بہ تقدیر مدینہ پہنچ گیا تھا۔ ان کے پاس نہ تو رہنے کے لیے کوئی ٹھکانہ تھا نہ پیٹ پالنے کے لیے کوئی کام اور نہ سرے سے کسی قسم کا کوئی مال جس پر ان کی معیشت کا ڈھانچہ کھڑا ہوسکے ، پھر ان پناہ گیر مہاجرین کی تعداد کوئی معمولی بھی نہ تھی اور ان میں دن بہ دن اضافہ ہی ہورہا تھا کیونکہ اعلان کردیا گیا تھا جو کوئی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہے وہ ہجرت کرکے مدینہ آجائے ، اور معلوم ہے کہ مدینے میں نہ کوئی بڑی دولت تھی نہ آمدنی کے ذرائع ووسائل۔ چنانچہ مدینے کا اقتصادی توازن بگڑ گیا اور اسی تنگی ترشی میں اسلام دشمن طاقتوں نے بھی مدینے کا تقریباً اقتصادی بائیکاٹ کردیا جس سے درآمدات بند ہوگئیں اور حالات انتہائی سنگین ہوگئے۔
(ب) دوسری قوم:____یعنی مدینے کے اصل مشرک باشندے ۔ کا حال یہ تھا کہ انہیں مسلمانوں پر کوئی بالادستی حاصل نہ تھی۔ کچھ مشرکین شک وشبہے میں مبتلا تھے اور اپنے آبائی دین کو چھوڑنے میں تردّدمحسوس کررہے تھے ، لیکن اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنے دل میں کوئی عداوت اور داؤ گھات نہیں رکھ رہے تھے۔ اس طرح کے لوگ تھوڑے ہی عرصے کے بعد مسلمان ہوگئے اور خالص اور پکے مسلمان ہوئے۔
اس کے برخلاف کچھ مشرکین ایسے تھے جو اپنے سینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف سخت کینہ وعداوت چھپائے ہوئے تھے لیکن انہیں مَدّ ِ مقابل آنے کی جرأت نہ تھی بلکہ حالات کے پیشِ نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت وخلوص کے اظہار پر مجبور تھے۔ ان میں سرِ فہرست عبد اللہ بن ابی ا بن سلول تھا۔ یہ وہ شخص ہے جس کو جنگ ِ بعاث کے بعد اپنا سربراہ بنانے پر اوس وخزرج نے اتفاق کرلیا تھا حالانکہ اس سے قبل دونوں فریق کسی کی سربراہی پر متفق نہیں ہوئے تھے لیکن اب اس کے لیے مونگوں کا تاج تیار کیا جارہا تھا تاکہ اس کے سر پر تاج شاہی رکھ کر اس کی باقاعدہ بادشاہت کا اعلان کردیا جائے ، یعنی یہ شخص مدینے کا بادشاہ ہونے ہی والا تھا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد آمد ہوگئی اور لوگوں کا رُخ اس کے بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہوگیا، اِس لیے اسے احساس تھا کہ آپؐ ہی نے اس کی بادشاہت چھینی ہے، لہٰذاوہ اپنے نہاں خانہ ٔ دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سخت عداوت چھپا ئے ہوئے تھا۔ اس کے باوجود جب اس نے جنگ ِ بدر کے بعد دیکھا کہ حالات اس کے موافق نہیں ہیں اور وہ شرک پر قائم رہ کر اب دنیا وی فوائد سے بھی محروم ہوا چاہتا ہے تو اس نے بظاہر قبول اسلام کا اعلان کردیا ، لیکن وہ اب بھی درپردہ کا فر ہی تھا، اسی لیے جب بھی اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف کسی شرارت کا موقع ملتا وہ ہرگز نہ چوکتا۔ اس کے ساتھ عموماً وہ رؤساء تھے جو اس کی بادشاہت کے زیرِ سایہ بڑے بڑے مناصب کے حصول کی توقع باندھے بیٹھے تھے مگر اب انہیں اس سے محروم ہوجانا پڑا تھا۔ یہ لوگ اس شخص کے شریکِ کار تھے اور اس کے منصوبوں کی تکمیل میں اس کی مدد کرتے تھے اور اس مقصد کے لیے بسا اوقات نوجوانوں اور سادہ لوح مسلمانوں کوبھی اپنی چابکدستی سے اپنا آلۂ کار بنالیتے تھے۔
(ج) تیسری قوم:____یہود تھی ۔ جیسا کہ گزرچکا ہے ۔ یہ لوگ اشوری اور رومی ظلم وجبر سے بھا گ کر حجاز میں پناہ گزین ہوگئے تھے۔ یہ درحقیقت عبرانی تھے لیکن حجاز میں پناہ گزین ہونے کے بعد ان کی وضع قطع ، زبان اور تہذیب وغیرہ بالکل عربی رنگ میں رنگ گئی تھی یہاں تک کہ ان کے قبیلوں اور افراد کے نام بھی عربی ہوگئے تھے اور ان کے اور عربوں کے آپس میں شادی بیاہ کے رشتے بھی قائم ہوگئے تھے لیکن ان سب کے باوجود ان کی نسلی عصبیت برقرار تھی اور وہ عربوں میں مدغم نہ ہوئے تھے بلکہ اپنی اسرائیلی ۔۔ یہودی۔۔ قومیت پر فخر کرتے تھے اور عربوں کو انتہائی حقیر سمجھتے تھے۔ حتیٰ کہ انہیں اُمیّ کہتے تھے جس کا مطلب ان کے نزدیک یہ تھا : بدھو ، وحشی ، رذیل ، پسماندہ اور اچھوت۔
ان کا عقیدہ تھا کہ عربوں کا مال ان کے لیے مباح ہے ، جیسے چاہیں کھائیں۔ چنانچہ اللہ کا ارشاد ہے :
﴿ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ ﴾(۳: ۷۵)
’’انہوں نے کہا ہم پر اُمیوں کے معاملے میں کوئی راہ نہیں۔‘‘
یعنی امیوں کا مال کھانے میں ہماری کو ئی پکڑ نہیں۔ ان یہودیوں میں اپنے دین کی اشاعت کے لیے کوئی سرگرمی نہیں پائی جاتی تھی۔ لے دے کر ان کے پاس دین کی جو پونجی رہ گئی تھی وہ تھی فال گیری ، جادو اور جھاڑ پھونک وغیرہ۔ انہیں چیزوں کی بدولت وہ اپنے آپ کو صاحبِ علم وفضل اور روحانی قائد وپیشوا سمجھتے تھے۔
یہودیوں کو دولت کمانے کے فنون میں بڑی مہارت تھی۔ غلّے ، کھجور ، شراب ، اور کپڑے کی تجارت انہیں کے ہاتھ میں تھی۔ یہ غلے ، کپڑے اور شراب درآمد کرتے تھے اور کھجور برآمد کرتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی ان کے مختلف کام تھے جن میں وہ سرگرم رہتے تھے۔ وہ اموالِ تجارت میں عربوں سے دوگنا تین گنا منافع لیتے تھے اور اسی پر بس نہ کرتے تھے بلکہ وہ سود خور بھی تھے۔ اس لیے وہ عرب شیوخ اور سرداروں کوسودی قرض کے طور پر بڑی بڑی رقمیں دیتے تھے۔ جنہیں یہ سردار حصولِ شہرت کے لیے اپنی مدح سرائی کرنے والے شعراء وغیرہ پر بالکل فضول اور بے دریغ خرچ کردیتے تھے۔ ادھر یہود ان رقموں کے عوض ان سرداروں سے ان کی زمینیں ، کھیتیاں اور باغات وغیرہ گرو ی رکھوالیتے تھے۔ اورچند سال گزرتے گزرتے ان کے مالک بن بیٹھے تھے۔
یہ لوگ دسیسہ کاریوں ، سازشوں اور جنگ وفساد کی آگ بھڑکانے میں بھی بڑے ماہر تھے۔ ایسی باریکی سے ہمسایہ قبائل میں دشمنی کے بیج بوتے اور ایک کو دوسرے کے خلاف بھڑکاتے کہ ان قبائل کو احساس تک نہ ہوتا۔ اس کے بعد ان قبائل میں پیہم جنگ برپارہتی اور اگر خدانخواستہ جنگ کی یہ آگ سر د پڑتی دکھائی دیتی تو یہود کی خفیہ انگلیاں پھر حرکت میں آجاتیں اور جنگ پھر بھڑک اٹھتی۔ کمال یہ تھا کہ یہ لوگ قبائل کو لڑا بھڑا کر چپ چاپ کنارے بیٹھ رہتے اور عربوں کی تباہی کاتماشا دیکھتے۔ البتہ بھاری بھرکم سود ی قرض دیتے رہتے تاکہ سرمائے کی کمی کے سبب لڑائی بند نہ ہونے پائے اور اس طرح دوہر انفع کماتے رہتے۔ ایک طرف اپنی یہودی جمعیت کو محفوظ رکھتے اور دوسری طرف سود کا بازار ٹھنڈا نہ پڑنے دیتے بلکہ سود در سود کے ذریعے بڑی بڑی دولت کماتے۔
یثرب میں ان یہود کے تین مشہور قبیلے تھے:
1۔ بنو قینقاع:____یہ خزرج کے حلیف تھے اور ان کی آبادی مدینے کے اندر ہی تھی۔
2۔ بنو نضیر
3۔ بنو قریظہ:____یہ دونوں قبیلے اوس کے حلیف تھے اور ا ن دونوں کی آبادی مدینے کے اطراف میں تھی۔
ایک مدت سے یہی قبائل اوس وخزرج کے درمیا ن جنگ کے شعلے بھڑکارہے تھے اور جنگ بعاث میں اپنے اپنے حلیفوں کے ساتھ خود بھی شریک ہوئے تھے۔
فطری بات ہے کہ ان یہود سے اس کے سواکوئی اور توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ یہ اسلام کو بغض وعداوت کی نظر سے دیکھیں کیونکہ پیغمبر ان کی نسل سے نہ تھے کہ ان کی نسلی عصبیت کو، جواُن کی نفسیات اور ذہنیت کا جزولاینفک بنی ہوئی تھی، سکون ملتا۔ پھر اسلام کی دعوت ایک صالح دعوت تھی جو ٹوٹے دلوں کو جوڑتی تھی۔ بغض وعداوت کی آگ بجھاتی تھی۔تمام معاملات میں امانتداری برتنے اور پاکیزہ اور حلال مال کھانے کی پابندبناتی تھی۔اِ س کا مطلب یہ تھا کہ اب یثرب کے قبائل آپس میں جُڑ جائیں گے اور ایسی صورت میں لازماًوہ یہود کے پنجوں سے آزاد ہوجائیں گے ، لہٰذا ان کی تاجرانہ سرگرمی ماند پڑجائے گی اور وہ اس سودی دولت سے محروم ہو جائیں گے جس پر ان کی مالداری کی چکی گردش کررہی تھی بلکہ یہ بھی اندیشہ تھا کہ کہیں یہ قبائل بیدار ہو کر اپنے حساب میں وہ سودی اموال بھی داخل نہ کرلیں جنہیں یہود نے ان سے بلا عوض حاصل کیا تھا اور اس طرح وہ ان زمینوں اور باغات کو واپس نہ لے لیں جنہیں سود کے ضمن میں یہودیوں نے ہتھیالیا تھا۔
جب سے یہود کو معلوم ہوا تھا کہ اسلامی دعوت یثرب میں اپنی جگہ بنانا چاہتی ہے تب ہی سے انہوں نے ان ساری باتوں کو اپنے حساب میں داخل کررکھا تھا۔ اسی لیے یثرب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے وقت ہی سے یہود کو اسلام اور مسلمانوں سے سخت عداوت ہوگئی تھی ، اگرچہ وہ اس کے مظاہر ے کی جسارت خاصی مدت بعد کرسکے۔ اس کیفیت کا بہت صاف صاف پتا ابن ِ اسحاق کے بیان کیے ہوئے ایک واقعے سے لگتا ہے۔
ان کاارشاد ہے کہ مجھے اُمّ المومنین حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا سے یہ روایت ملی ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں اپنے والد اور چچا ابو یاسر کی نگاہ میں اپنے والد کی سب سے چہیتی اولاد تھی۔ میں چچا اور والد سے جب کبھی ان کی کسی بھی اولاد کے ساتھ ملتی تو وہ اس کے بجائے مجھے ہی اُٹھا تے۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور قباء میں بنو عمر و بن عوف کے یہاں نزول فرماہوئے تو میرے والد حیی بن اخطب اور میرے چچا ابو یاسر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صبح تڑکے حاضر ہوئے اور غروب ِ آفتاب کے وقت واپس آئے۔ بالکل تھکے ماندے ، گرتے پڑتے لڑکھڑاتی چال چلتے ہوئے۔ میں نے حسب ِ معمول چہک کر ان کی طرف دوڑ لگائی ، لیکن انہیں اس قدر غم تھا کہ واللہ! دونوں میں سے کسی نے بھی میری طرف التفات نہ کیا اور میں نے اپنے چچا کو سنا وہ میرے والد حیی بن اخطب سے کہہ رہے تھے:
کیا یہ وہی ہے ؟
انہوں نے کہا : ہاں ! اللہ کی قسم۔
چچا نے کہا: آپ انھیں ٹھیک ٹھیک پہچان رہے ہیں ؟
والد نے کہا: ہاں!
چچانے کہا : تو اب آپ کے دل میں ان کے متعلق کیا ارادے ہیں؟
والد نے کہا : عداوت ۔ اللہ کی قسم ۔جب تک زندہ رہوں گا۔[1]
اسی کی شہادت صحیح بخاری کی اس روایت سے بھی ملتی ہے جس میں حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ موصوف ایک نہایت بلند پایہ یہودی عالم تھے۔ آپ کو جب بنو النجار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر ملی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بہ عجلت تمام حاضر ہوئے اور چند سوالات پیش کیے جنہیں صرف نبی ہی جانتا ہے اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کے جوابات سنے تو وہیں اسی وقت مسلمان ہوگئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہود ایک بہتان باز قوم ہے۔ اگر انہیں اس سے قبل کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دریافت فرمائیں ، میرے اسلام لانے کا پتا لگ گیا تو وہ آپ کے پاس مجھ پر بہتان تراشیں گے۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو بلا بھیجا۔ وہ آئے ۔ اور ادھر عبد اللہ رضی اللہ عنہ بن سلام گھر کے اندر چھپ گئے تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عبد اللہ بن سلام تمہارے اندر کیسے آدمی ہیں ؟ انہوں نے کہا : ’’ہمارے سب سے بڑے عالم ہیں اور سب سے بڑے عالم کے بیٹے ہیں، ہمارے سب اچھے آدمی ہیں اور سب سے اچھے آدمی کے بیٹے ہیں‘‘ __ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار کے بیٹے ہیں اور ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ہمارے سب سے اچھے آدمی ہیں اور سب سے اچھے آدمی کے بیٹے ہیں ، اور ہم میں سب سے افضل ہیں اور سب سے افضل آدمی کے بیٹے ہیں…رسول اللہ نے فرمایا : ’’اچھا یہ بتاؤ اگر عبداللہ مسلمان ہوجائیں تو؟‘‘ یہود نے دو تین بار کہا: اللہ ان کو اس سے محفوظ رکھے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ برآمد ہوئے اور فرمایا: أشہد أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ وأشہد أن محمداً رسول اللّٰہ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ) اتنا سننا تھا کہ یہود بول پڑے :
شرّنا وابن شرّنا’’یہ ہمارا سب سے بُرا آدمی ہے اور سب سے برے آدمی کا بیٹا ہے۔‘‘ اور (اسی وقت) ان کی برائیاں شروع کردیں۔ ایک روایت میں ہے کہ اس پر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اے جماعتِ یہود! اللہ سے ڈرو۔ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں تم لوگ جانتے ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حق لے کر تشریف لائے ہیں ،‘‘ لیکن یہودیوں نے کہا کہ تم جھوٹ کہتے ہو۔[1]
یہ پہلا تجربہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہود کے متعلق حاصل ہوا اور مدینے میں داخلے کے پہلے ہی دن حاصل ہوا۔
______________
یہاں تک جو کچھ ذکر کیا گیا یہ مدینے کے داخلی حالات سے متعلق تھا۔ بیرون ِ مدینہ مسلمانوں کے سب سے کٹر دشمن قریش تھے اور تیرہ سال تک جب کہ مسلمان ان کے زیر دست تھے ، دہشت مچانے ، دھمکی دینے اور تنگ کرنے کے تمام ہتھکنڈے استعمال کرچکے تھے۔ طرح طرح کی سختیاں اور مظالم کرچکے تھے۔ منظم اور وسیع پر وپیگنڈے اور نہایت صبر آزما نفسیاتی حربے استعمال میں لاچکے تھے۔ پھر جب مسلمانوں نے مدینہ ہجرت کی تو قریش نے ان کی زمینیں ، مکانات اور مال ودولت سب کچھ ضبط کر لیا اور مسلمانو ں اور اس کے اہل وعیال کے درمیان رکاوٹ بن کر کھڑے ہوگئے ، بلکہ جس کو پاس کے قید کر کے طرح طرح کی اذیتیں دیں ، پھر اسی پر بس نہ کیا بلکہ سربراہِ دعوت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو بیخ وبُن سے اکھاڑنے کے لیے خوفناک سازشیں کیں اور اسے رُوبہ عمل لانے کے لیے اپنی ساری صلاحیتیں صرف کردیں۔ بایں ہمہ جب مسلمان کسی طرح بچ بچا کر کوئی پانچ سو کیلو میٹر دور مدینہ کی سرزمین پر جاپہنچے تو قریش نے اپنی ساکھ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گھناؤنا سیاسی کردار انجام دیا۔ یعنی یہ چونکہ حرم کے باشندے اور بیت اللہ کے پڑوسی تھے اور اس کی وجہ سے انہیں اہلِ عرب کے درمیان دینی قیادت اور دنیاوی ریاست کا منصب حاصل تھا، اس لیے انہوں نے جزیرۃ العرب کے دوسرے مشرکین کو بھڑکااور ورغلا کر مدینے کا تقریباً مکمل بائیکاٹ کرادیا جس کی وجہ سے مدینہ کی درآمدات نہایت مختصر رہ گئیں جب کہ وہاں مہاجرین پناہ گیروں کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی تھی۔ درحقیقت مکے کے ان سرکشوں اور مسلمانوں کے اس نئے وطن کے درمیان حالت جنگ قائم ہوچکی تھی اور یہ نہایت احمقانہ بات ہے کہ اس جھگڑے کا الزام مسلمانوں کے سرڈالاجائے۔
مسلمانوں کو حق پہنچتا تھا کہ جس طرح ان کے اموال ضبط کیے گئے تھے اسی طرح وہ بھی ان سرکشوں کے اموال ضبط کریں ، جس طرح انہیں ستایا گیا تھا اسی طرح وہ بھی ان سرکشوں کو ستائیں ، اور جس طرح مسلمانوں کی زندگیوں کے آگے رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں اسی طرح مسلمان بھی ان سرکشوں کی زندگیوں کے آگے رکاوٹیں کھڑی کریں اور ان سرکشوں کو ’’جیسے کا تیسا‘‘ والا بدلہ دیں تاکہ انہیں مسلمانوں کو تباہ کرنے اور بیخ وبن سے اکھاڑنے کا موقع نہ مل سکے۔
______________________________
یہ تھے وہ قضا یا اور مسائل جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ تشریف لانے کے بعد بحیثیت رسول وہادی اور امام وقائد واسطہ درپیش تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام مسائل کے تئیں مدینہ میں پیغمبرانہ کردار اور قائدانہ رول ادا کیا اور جو قوم نرمی ومحبت یاسختی ودرشتی جس سلوک کی مستحق تھی اس کے ساتھ وہی سلوک کیا اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رحمت ومحبت کا پہلو سختی اور درشتی پر غالب تھا ، یہاں تک کہ چند برسوں میں زمامِ کار اسلام اور اہل اسلا م کے ہاتھ آگئی۔ اگلے صفحات میں انہی باتوں کی تفصیلات ہدیۂ قارئین کی جائیں گی۔