الرحیق المختوم
نئے معاشرے کی تشکیل
ہم بیا ن کر چکے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں بنو النجار کے یہاں جمعہ ۱۲ ؍ ربیع الاول ۱ ھ مطابق ۲۷؍ ستمبر ۶۲۲ ء کو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان کے سامنے نزول فرمایا تھا اور اسی وقت فرمایا تھا کہ ان شاء اللہ یہیں منزل ہوگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہوگئے تھے۔
مسجد نبوی کی تعمیر:
اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا قدم یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ِ نبوی کی تعمیر شروع کی اور اس کے لیے وہی جگہ منتخب کی جہاں اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بیٹھی تھی۔ اس زمین کے مالک دویتیم بچے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ زمین قیمتاً خریدی اور بنفس ِنفیس مسجد کی تعمیر میں شریک ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اینٹ اور پتھر ڈھوتے تھے اور ساتھ ہی فرماتے جاتے تھے :
اللہم لا عیش إلا عیش الآخرۃ فاغفر للأنصار والمہاجرۃ
’’اے اللہ زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے ، پس انصار ومہاجرین کو بخش دے۔‘‘
یہ بھی فرماتے :
ہذا الحمال لا حمال خیبر ہذا أبر ربنا وأطہر
’’یہ بوجھ خیبر کا بوجھ نہیں ہے۔ یہ ہمارے پروردگار کی قسم زیادہ نیک اور پاکیزہ ہے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرزِ عمل سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جوش و خروش اور سرگرمی میں بڑا اضافہ ہوجاتا تھا، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہتے تھے :
لئن قعدنا والنبی یعمل لذاک منا العمل المضلل
’’اگر ہم بیٹھے رہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کام کریں تو ہمارا یہ کام گمراہی کا کام ہوگا۔‘‘
اس زمین میں مشرکین کی چند قبریں بھی تھیں، کچھ ویرانہ بھی تھا۔ کھجور اور غَرْ قَد کے چند درخت بھی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی قبریں اکھڑوا دیں ، ویرانہ برباد کرادیا ، اور کھجور وں اور درختوں کو کاٹ کر قبلے کی جانب لگادیا۔ ____
اس وقت قبلہ بیت المقدس تھا…دروازے کے بازو کے دونوں پائے پتھر کے بنائے گئے۔ دیواریں کچی اینٹ اور گارے سے بنائی گئیں۔ چھت پر کھجور کی شاخیں اور پتے ڈلوادیئے گئے اور کھجور کے تنوں کے کھمبے بنادیے گئے۔ زمین پر ریت اور چھوٹی چھوٹی کنکریاں (چھریاں) بچھادی گئیں۔ تین دروازے لگا ئے گئے۔ قبلے کی دیوار سے پچھلی دیوار تک ایک سو ہاتھ لمبائی تھی۔ چوڑائی بھی اتنی یااس سے کچھ کم تھی۔ بنیاد تقریباًتین ہاتھ گہری تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے بازو میں چند مکانات بھی تعمیر کیے جن کی دیواریں کچی اینٹ کی تھیں اور چھتیں کھجور کے تنوں کی کڑیاں دے کر کھجور کی شاخ اور پتوں سے بنائی گئی تھی۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے حجرے تھے۔ ان حجروں کی تعمیر مکمل ہوجانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان سے یہیں منتقل ہوگئے۔[1]
مسجد محض ادائے نماز ہی کے لیے نہ تھی بلکہ یہ ایک یونیورسٹی تھی جس میں مسلمان اسلامی تعلیمات وہدایات کا درس حاصل کرتے تھے اور ایک محفل تھی جس میں مدتوں جاہلی کشاکش ونفرت اور باہمی لڑائیوں سے دوچار رہنے والے قبائل کے افراد اب میل محبت سے مل جل رہے تھے۔ نیز یہ ایک مرکز تھا جہاں سے اس ننھی سی ریاست کا سارانظام چلایا جاتا تھا اور مختلف قسم کی مہمیں بھیجی جاتی تھیں۔ علاوہ ازیں اس کی حیثیت ایک پارلیمنٹ کی بھی تھی جس میں مجلسِ شوریٰ اور مجلس ِ انتظامیہ کے اجلاس منعقد ہوا کرتے تھے۔
ان سب کے ساتھ ساتھ یہ مسجد ہی ان فقراء مہاجرین کی ایک خاصی بڑی تعدادکا مسکن تھی جن کا وہاں پر نہ کوئی مکان تھا نہ مال اور نہ اہل وعیال۔
پھر اوائل ہجرت ہی میں اذان بھی شروع ہوئی۔ یہ ایک لاہوتی نغمہ تھا جو روز انہ پانچ بار اُفق میں گونجتا تھا اور جس سے پورا عالمِ وجود لرز اٹھتا تھا۔ اس سلسلے میں حضرت عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برقرار رکھا اور یہی خواب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی دیکھا۔ (تفصیل جامع ترمذی ، سنن ابی داؤد ، مسند احمد اور صحیح ابنِ خزیمہ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے )