الرحیق المختوم
مسلمانوں میں بھائی چارگی
جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کا اہتمام فرماکر باہمی اجتماع اور میل ومحبت کے ایک مرکز کو وجود بخشا اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاریخ ِ انسانی کا ایک اور نہایت تابناک کارنامہ انجام دیا جسے مہاجرین وانصار کے درمیان مواخات اور بھائی چارے کے عمل کا نام دیا جاتا ہے۔ ابن قیم لکھتے ہیں :
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے مکان میں مہاجرین وانصار کے درمیان بھائی چارہ کرایا۔ کل نوے آدمی تھے ، آدھے مہاجرین اور آدھے انصار۔ بھائی چارے کی بنیاد یہ تھی کہ یہ ایک دوسرے کے غمخوار ہوں گے اور موت کے بعد نسبتی قرابتداروں کے بجائے یہی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ وراثت کا یہ حکم جنگ ِ بدر تک قائم رہا ، پھر یہ آیت نازل ہوئی کہ :
﴿ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ ﴾(۳۳: ۶)
’’نسبتی قرابتدار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔‘‘ (یعنی وراثت میں)
توانصار ومہاجرین میں باہمی توارُث کا حکم ختم کردیا گیا لیکن بھائی چارے کا عہد باقی رہا۔ کہا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور بھائی چارہ کرایا تھا جو خود باہم مہاجرین کے درمیان تھا لیکن پہلی بات ہی ثابت ہے۔ یون بھی مہاجرین اپنی باہمی اسلامی اخوت ، وطنی اخوت اور رشتہ وقرابتداری کی اخوت کی بنا پر آپس میں اب مزید کسی بھائی چارے کے محتاج نہ تھے جبکہ مہاجرین اور انصار کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ [1]
اس بھائی چارے کا مقصود _____جیسا کہ محمد غزالی نے لکھا ہے ___ یہ تھا کہ جاہلی عصبیتیں تحلیل ہوجائیں۔حمیت و غیرت جو کچھ ہو وہ اسلام کےلیے ہو۔ نسل ، رنگ اور وطن کے امتیاز ات مٹ جائیں۔ بلندی و پستی کا معیار انسانیت و تقویٰ کے علاوہ کچھ اور نہ ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بھائی چارے کو محض کھوکھلے الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا تھا بلکہ اسے ایک ایسا نافذ العمل عہد و پیمان قرار دیا تھا جو خون اور مال سے مروبط تھا۔ یہ خالی خولی اسلامی اور مبارکباد نہ تھی کہ زبان پر روانی کے ساتھ جاری رہے مگر نتیجہ کچھ نہ ہو بلکہ اس بھائی چارے کے ساتھ ایثار و غمگساری اور ہوانست کے جذبات بھی مخلوط تھے اور اسی لیے اس نے اس نئے معاشرے کو بڑے نادر اور تابناک کارناموں سے پر کر دیا تھا ۔ [2]
اس بھائی چارے کے ساتھ ایثار وغمگساری اور موانست اور خیر وبھلائی کرنے کے جذبات مخلوط تھے، اسی لیے اس نے اس نئے معاشرے کو بڑے نادر اور تابناک کارناموں سے پُر کردیا تھا۔
چنانچہ صحیح بخاری میں مروی ہے کہ مہاجرین جب مدینہ تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور سعد رضی اللہ عنہ بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ کرادیا۔ اس کے بعد حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’انصار میں میں سب سے زیادہ مال دار ہوں۔ آپ میرا مال دوحصوں میں بانٹ کر (آدھا لے لیں) اور میری دوبیویاں ہیں، آپ دیکھ لیں جو زیادہ پسند ہو مجھے بتادیں میں اسے طلاق دے دوں اور عدت گزرنے کے بعد آپ اس سے شادی کرلیں۔‘‘ حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ آپ کے اہل اور مال میں برکت دے۔ آپ لوگوں کا بازار کہا ں ہے ؟ لوگوں نے انہیں بنو قینقاع کا بازار بتلادیا۔ وہ واپس آئے تو ان کے پاس کچھ فاضل پنیر اور گھی تھا۔اس کے بعدوہ روزانہ جاتے رہے، پھر ایک دن آئے تو اُن پر زردی کا اثر تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا :میں نے شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عورت کو مہر کتنا دیا ہے ؟ بولے : ایک نواۃ (گٹھلی ) کے ہموزن (یعنی کوئی سواتولہ ) سونا۔[1]
اسی طرح حضرتِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت آئی ہے کہ انصار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان اور ہمارے بھائیوں کے درمیان ہمارے کھجور کے باغات تقسیم فرمادیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں۔ انصار نے کہا : تب آپ لوگ، یعنی مہاجرین ہمارا کام کردیا کریں اور ہم پھل میں اپ لوگوں کو شریک رکھیں گے۔ انہوں نے کہا : ٹھیک ہے ہم نے بات سنی اور مانی۔[2]
اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انصار نے کس طرح بڑھ چڑھ کر اپنے مہاجر بھائیوں کا اعزاز واکرام کیاتھا اور کس قدر محبت ، خلوص ، ایثار اور قربانی سے کام لیا تھا اور مہاجرین ان کی اس کرم ونوازش کی کتنی قدر کرتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اس کا کو ئی غلط فائد ہ نہیں اٹھا یا بلکہ ان سے صرف اتنا ہی حاصل کیا جس سے وہ اپنی ٹوٹی ہوئی معیشت کی کمرسیدھی کرسکتے تھے۔
اور حق یہ ہے کہ بھائی چارہ ایک نادر حکمت ، حکیمانہ سیاست اور مسلمانوں کو درپیش بہت سارے مسائل کا ایک بہترین حل تھا۔