الرحیق المختوم

غزوۂ احزاب وقریظہ کے بعد کی جنگی مہمات

سلام بن ابی الحُقَیق کا قتل : سلام بن ابی الحقیق ۔ جس کی کنیت ابو رافع تھی ۔ یہود کے ان اکابر مجرمین میں تھا جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف مشرکین کو ورغلا نے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ اور مال اور رسد سے ان کی امداد کی تھی۔[1]اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا بھی پہنچاتا تھا۔ اس لیے جب مسلمان بنو قریظہ سے فارغ ہوچکے تو قبیلہ خزرج کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے قتل کی اجازت چاہی چونکہ اس سے پہلے کعب بن اشرف کا قتل قبیلہ ٔ اوس کے چند صحابہ کے ہاتھوں ہوچکاتھا ، اس لیے قبیلہ خزرج کی خواہش تھی کہ ایسا ہی کوئی کارنامہ ہم بھی انجام دیں ، اس لیے انہوں نے اجازت مانگنے میں جلدی کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت تو دے دی لیکن تاکید فرمادی کہ عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کیا جائے۔ اس کے بعد ایک مختصر سادستہ جو پانچ آدمیوں پر مشتمل تھا اپنی مہم پر روانہ ہوا۔ یہ سب کے سب قبیلہ ٔ خزرج کی شاخ بنو سلمہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اور ان کے کمانڈر حضرت عبد اللہ بن عتیک تھے۔ اس جماعت نے سیدھے خیبر کا رخ کیا کیونکہ ابورافع کا قلعہ وہیں تھا۔ جب قریب پہنچے تو سورج غروب ہوچکا تھا۔ اور لوگ اپنے ڈھور ڈنگر لے کر واپس ہو چکے تھے۔ عبداللہ بن عتیک نے کہا : تم لوگ یہیں ٹھہرو۔ میں جاتا ہوں اور دروازے کے پہرے دار کے ساتھ کوئی لطیف حیلہ اختیار کرتاہوں۔ ممکن ہے اندر داخل ہوجاؤں۔اس کے بعد وہ تشریف لے گئے اور دروازے کے قریب جاکر سرپرکپڑا ڈال کر یوں بیٹھ گئے گویا قضائے حاجت کررہے ہیں۔ پہرے دار نے زور سے پکار کر کہا : اواے اللہ کے بندے ! اگر اندر آنا ہے تو آجاؤ ورنہ میں دروازہ بند کرنے جارہا ہوں۔ عبد اللہ بن عتیک کہتے ہیں کہ میں اندر گھس گیا اور چھپ گیا۔ جب سب لوگ اندر آگئے تو پہرے دار نے دروازہ بند کرکے ایک کھونٹی پر چابیاں لٹکا دیں۔ (کچھ دیر بعد جب ہر طرف سکون ہو گیا تو ) میں نے اٹھ کر چابیاں لیں۔ اور دروازہ کھول دیا۔ ابو رافع بالاخانے میں رہتا تھا۔ اور وہاں مجلس ہواکرتی تھی۔ جب اہل مجلس چلے گئے تو میں اس کے بالاخانے کی طرف چڑھا۔ میں جو کوئی دروازہ بھی کھولتا تھا اسے اندر کی جانب سے بند کر لیتا تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر لوگوں کو میرا پتہ لگ بھی گیا تو اپنے پاس ان کے پہنچنے سے پہلے پہلے ابو رافع کو قتل کرلوں گا۔ اس طرح میں اس کے پاس پہنچ تو گیا ،(لیکن ) وہ اپنے بال بچوں کے درمیان ایک تاریک کمرے میں تھا۔ اور مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ اس کمرے میں کس جگہ ہے۔ اس لیے میں نے کہا : ابو رافع ! اس نے کہا : یہ کون ہے ؟ میں نے جھٹ آواز کی طرف لپک کر اس پر تلوار کی ایک ضرب لگائی لیکن میں اس وقت ہڑبڑایا ہوا تھا۔ اس لیے کچھ نہ کر سکا۔ ادھر اس نے زور کی چیخ ماری۔ لہٰذا میں جھٹ کمرے سے باہر نکل گیا اور ذرا دور ٹھہرکر پھر آگیا۔ اور (آواز بدل کر ) بو لا: ابو رافع ! یہ کیسی آوازتھی؟ اس نے کہا : تیری ماں برباد ہو۔ ایک آدمی نے ابھی مجھے اس کمرے میں تلوار ماری ہے۔ عبداللہ بن عتیک کہتے ہیں کہ اب میں نے ایک زور دار ضرب لگائی۔ جس سے وہ خون میں لت پت ہوگیا لیکن اب بھی میں اسے قتل نہ کرسکا تھا۔ اس لیے میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر دبا دیا۔ اور وہ اس کی پیٹھ تک جارہا۔ میں سمجھ گیا کہ میں نے اسے قتل کرلیا ہے۔ اس لیے اب میں ایک ایک دروازہ کھولتا ہوا واپس ہوا اور ایک سیڑھی کے پاس پہنچ کر یہ سمجھتے ہوئے کہ زمین تک پہنچ چکا ہوں۔ پاؤں رکھا تو نیچے گرپڑا۔ چاندنی رات تھی۔ پنڈلی سرک گئی ، میں نے پگڑی سے اسے کس کر باندھا۔ اور دروازے پر آکر بیٹھ گیا۔ اور جی ہی جی میں کہا کہ آج جب تک کہ یہ معلوم نہ ہوجائے کہ میں نے اسے قتل کرلیا ہے یہاں سے نہیں نکلوں گا۔ چنانچہ جب مرغ نے بانگ دی تو موت کی خبر دینے والا قلعے کی فصیل پر چڑھا۔ اوربلند آواز سے پکار اکہ میں اہلِ حجاز کے تاجر ابو رافع کی موت کی اطلاع دے رہا ہوں۔ اب میں اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا اور کہا: بھاگ چلو۔ اللہ نے ابو رافع کو کیفر ِ کردار تک پہنچا دیا۔ چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ا۔ اور آپ سے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا پاؤں پھیلاؤ۔ میں نے اپنا پاؤں پھیلایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا دست مُبارک پھیرا۔ اور ایسا لگا گویا کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔[1] یہ صحیح بخاری کی روایت ہے۔ ابن اسحاق کی روایت یہ ہے کہ ابو رافع کے گھر میں پانچوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گھسے تھے۔ اور سب نے اس کے قتل میں شرکت کی تھی۔ اور جس صحابی نے اس کے اوپر تلوار کا بوجھ ڈال کر قتل کیا تھا وہ حضرت عبد اللہ بن انیس تھے۔ اس روایت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں نے رات میں ابو رافع کو قتل کرلیا اور عبد اللہ بن عتیک کی پنڈلی ٹوٹ گئی تو انہیں اٹھا لائے۔ اور قلعہ کی دیوار کے آرپار ایک جگہ چشمے کی نہر گئی ہوئی تھی اسی میں گھُس گئے۔ ادھر یہود نے آگ جلائی اور ہرطرف دوڑ دوڑ کر دیکھا۔ جب مایوس ہوگئے تو مقتول کے پاس واپس پلٹ آئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم واپس ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن عتیک کو لادکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے۔[1] اس سرِیہ کی روانگی ذی قعدہ یا ذی الحجہ ۵ھ میں زیر عمل آئی تھی[2] جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احزاب اور قریظہ کی جنگوں سے فارغ ہوگئے۔ اور جنگی مجرمین سے نمٹ چکے توان قبائل اور اعراب کے خلاف تادیبی حملے شروع کی جو امن وسلامتی کی راہ میں سنگ گراں بنے ہوئے تھے۔ اور قُوتِ قاہرہ کے بغیر پُر سکون نہیں رہ سکتے تھے۔ ذیل میں اس سلسلے کے سرایا اور غزوات کا اجمالی ذکر کیا جارہا ہے۔ ۲۔ سریہ محمد بن مسلمہ : احزاب وقریظہ کی جنگوں سے فراغت کے بعد یہ پہلا سریہ ہے جس کی روانگی عمل میں آئی۔ یہ تیس آدمیوں کی مختصر سی نفری پر مشتمل تھا۔ اس سریہ کو نجد کے اندر بکرات کے علاقہ میں ضریہ کے آس پاس قرطاء نامی مقام پر بھیجا گیا تھا۔ ضریہ اور مدینہ کے درمیا ن سات رات کا فاصلہ ہے۔ روانگی ۱۰/محرم ۶ ھ کو عمل میں آئی تھی۔ اور نشانہ بنو بکر بن کلاب کی ایک شاخ تھی۔ مسلمانوں نے چھاپہ مارا تو دشمن کے سارے افراد بھاگ نکلے۔ مسلمانوں نے چوپائے اور بکریاں ہانک لیں۔ اور محرم میں ایک دن باقی تھا کہ مدینہ آگئے۔ یہ لوگ بنو حنیفہ کے سردار ثمامہ بن اثال حنفی کو بھی گرفتار کر لائے تھے۔ وہ مسیلمہ کذاب کے حکم سے بھیس بدل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے نکلے تھے۔[1]لیکن مسلمانوں نے انہیں گرفتار کر لیا۔ اور مدینہ لاکر مسجد نبوی کے ایک کھمبے سے باندھ دیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو دریافت فرمایا : ثمامہ! تمہارے نزدیک کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اے محمد ! میرے نزدیک خیر ہے۔ اگر تم قتل کرو تو ایک خون والے کو قتل کرو گے۔ اور اگراحسان کروتو ایک قدردان پر احسان کرو گے۔ اور اگر مال چاہتے ہوتو جو چاہومانگ لو۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسی حال میں چھوڑ دیا۔ پھر آپ دوبارہ گذرے تو پھر وہی سوال کیا۔ اور ثمامہ نے پھر وہی جواب دیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسری بار گذرے۔ تو پھر وہی سوال وجواب ہوا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ ثمامہ کو آزاد کردو۔ انہوں نے آزاد کردیا۔ ثمامہ مسجد نبوی کے قریب کھجور کے ایک باغ میں گئے۔ غسل کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آکر مشرف باسلام ہوگئے۔ پھرکہا :اللہ کی قسم ! روئے زمین پر کوئی چہرہ میرے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے زیادہ مبغوض نہ تھا ، لیکن اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ دوسرے تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہوگیا ہے۔ اور اللہ کی قسم ! روئے زمین پر کوئی دین میرے نزدیک آپ کے دین سے زیادہ مبغوض نہ تھا۔ مگر اب آپ کا دین دوسرے تمام ادیان سے زیادہ محبوب ہوگیا ہے۔ اور آپ کے سواروں نے مجھے اس حالت میں گرفتار کیا تھا کہ میں عمر ہ کا ارادہ کررہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بشارت دی اور حکم دیا کہ عمرہ کرلیں۔ جب وہ دیارِ قریش میں پہنچے تو انہوں نے کہا کہ ثمامہ ! تم بددین ہوگئے ؟ ثمامہ نے کہا : نہیں ! بلکہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا ہوں۔ اور سنو ! اللہ کی قسم! تمہارے پاس یمامہ سے گیہوں کا ایک دانہ نہیں آسکتا جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت نہ دے دیں۔ یمامہ ، اہل ِ مکہ کے لیے کھیت کی حیثیت رکھتا تھا۔ حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ نے وطن واپس جاکر مکہ کے لیے غلہ کی روانگی بند کردی۔ جس سے قریش سخت مشکلات میں پڑ گئے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرابت کا واسطہ دیتے ہوئے لکھا کہ ثمامہ کو لکھ دیں کہ وہ غلے کی روانگی بند نہ کریں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔[2] ۳۔ غزوہ بنو لحیان : بنو لحیان وہی ہیں جنہوں نے مقام رجیع میں دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دھوکے سے گھیر کر آٹھ کو قتل کردیا تھا۔ اور دو کو اہل ِ مکہ کے ہاتھوں فروخت کردیا تھا۔ جہاں وہ بے دردی سے قتل کردیئے گئے تھے لیکن چونکہ ان کا علاقہ حجاز کے اندر بہت دور حدودِ مکہ سے قریب واقع تھا ، اور اس وقت مسلمانوں اور قریش واعراب کے درمیان سخت کشاکش برپا تھی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس علاقے میں بہت اندر گھُس کر ’’بڑے دشمن ‘‘ کے قریب چلے جانا مناسب نہیں سمجھتے تھے ، لیکن جب کفار کے مختلف گروہوں کے درمیان پھوٹ پڑگئی۔ ان کے عزائم کمزور پڑ گئے۔ اور انہوں نے حالات کے سامنے بڑی حد تک گھٹنے ٹیک دیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ اب بنو لحیان سے رجیع کے مقتولین کا بدلہ لینے کا وقت آگیا ہے۔ چنانچہ آپ نے ربیع الاول یا جمادی الاولیٰ ۶ ھ میں دوسو صحابہ کی معیت میں ان کا رُخ کیا۔ مدینے میں حضرت ابن ام مکتوم کو اپنا جانشین بنایا۔ اور ظاہر کیا کہ آپ ملک شام کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم یلغار کرتے ہوئے امج اور عسفان کے درمیان بطن غران نامی ایک وادی میں ۔جہاں آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شہید کیا گیا تھا ۔ پہنچے اور ان کے لیے رحمت کی دعائیں کیں۔ ادھر بنو لحیان کو آپ کی آمد کی خبر ہوگئی تھی۔ اس لیے وہ پہاڑ کی چوٹیوں پر نکل بھاگے۔ اور ان کا کوئی آدمی گرفت میں نہ آسکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی سر زمین میں دوروز قیام فرمایا۔ اس دوران سریے بھی بھیجے ، لیکن بنو لحیان نہ مل سکے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عسفان کا قصد کیا۔ اور وہاں سے دس شہسوار کو کراع الغمیم بھیجا تاکہ قریش کو بھی آپ کی آمد کی خبر ہو جائے۔ اس کے بعد آپ کل چودہ دن مدینے سے باہر گزار کر مدینہ واپس آگئے۔ _____________________________ اس مہم سے فارغ ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پے درپے فوجی مہمات اور سریے روانہ فرمائے۔ ذیل میں ان کا مختصرا ً ذکر کیا جارہا ہے۔ ۴۔ سریہ غمر : ربیع الاول یا ربیع الآخر ۶ ھ میں حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کو چالیس افراد کی کمان دے کر مقام غمر کی جانب روانہ کیا گیا۔ یہ بنو اسد کے ایک چشمے کا نام ہے۔ مسلمانوں کی آمد سن کر دشمن بھاگ گئے۔ اور مسلمان ان کے دوسو اونٹ مدینہ ہانک لائے۔ ۵۔ سرِ یہ ذو القصہ(۱): ربیع الاول یا ربیع الآخر ۶ ھ میں حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں دس افراد کا ایک دستہ ذو القصہ کی جانب روانہ کیا گیا۔ یہ مقام بنوثعلبہ کے دیار میں واقع تھا۔ دشمن جس کی تعداد ایک سو تھی کمین گا ہ میں چھپ گیا۔ اور جب صحابہ کرام سو گئے تو اچانک حملہ کرکے انہیں قتل کردیا۔ صرف محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوسکے اور وہ بھی زخمی ہو کر۔ ۶۔ سریہ ذو القصہ(۲): محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے رفقاء کی شہادت کے بعد ربیع الآخر۶ھ ہی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ذوالقصہ کی جانب روانہ فرمایا۔ انہوں نے چالیس افراد کی نفری لے کر مذکورہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شہادت گاہ کا رخ کیا۔ اور رات بھر پیدل سفر کر کے علی الصباح بنو ثعلبہ کے دیار میں پہنچتے ہی چھاپہ ماردیا لیکن بنو ثعلبہ اس تیزی سے پہاڑوں میں بھاگے کہ مسلمانوں کی گرفت میں نہ آسکے۔ صرف ایک آدمی پکڑا گیا اور وہ مسلمان ہوگیا۔ البتہ مویشی اور بکریاں ہاتھ آئیں۔ ۷۔ سریہ جموم : یہ سریہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے زیرقیادت ربیع الآخر ۶ ھ میں جموم کی جانب روانہ کیا گیا۔ جموم ، مَرّالظّہرَان (موجودہ وادی فاطمہ ) میں بنو سُلیم کے ایک چشمے کانام ہے۔ حضرت زید وہاں پہنچے تو قبیلہ مُزَیْنہ کی ایک عورت جس کا نام حلیمہ تھا گرفت میں آگئی۔ اس نے بنوسلیم کے ایک مقام کا پتہ بتایا جہاں سے بہت مویشی ، بکریاں اور قیدی ہاتھ آئے۔ حضرت زید یہ سب لے کر مدینہ واپس آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مزنی عورت کو آزاد کر کے اس کی شادی کردی۔ ۸۔ سریہ عِیْص: یہ سریہ ایک سو ستر سواروں پر مشتمل تھا۔ اور اسے بھی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے زیر قیادت جمادی الاولیٰ ۶ھ میں عیص کی جانب روانہ کیا گیا۔ اس مہم میں قریش کے ایک قافلے کا مال ہاتھ آیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد حضرت ابو العاص کی قیادت میں سفر کررہا تھا۔ ابو العاص رضی اللہ عنہ اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے۔ وہ گرفتار تو نہ ہوسکے لیکن بھاگ کر سیدھے مدینہ پہنچے۔ اور حضرت زینب کی پناہ لے کر ان سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ کر قافلے کا مال واپس دلادیں۔ حضرت زینب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات پیش کی تو آپ نے کسی طرح کا دباؤ ڈالے بغیر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اشارہ کیا کہ مال واپس کردیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تھوڑا زیادہ اور چھوٹا بڑ اجو کچھ تھا سب واپس کردیا۔ ابو العاص سارا مال لے کر مکہ پہنچے امانتیں ان کے مالکوں کے حوالے کیں۔ پھر مسلمان ہو کر مدینہ تشریف لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی نکاح کی بنیاد پر حضرت زینب کو ان کے حوالہ کردیا ، جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے۔[1] آپ نے پہلے ہی نکاح کی بنیاد پر اس لیے حوالہ کردیا تھا کہ اس وقت تک کفار پر مسلمان عورتوں کے حرام کیے جانے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ اور ایک حدیث میں یہ جوآیا ہے کہ آپ نے نکاح جدید کے ساتھ رخصت کیا تھا۔ یا یہ کہ چھ برس کے بعدرخصت کیا تھا تو یہ نہ معنی ً صحیح ہے نہ سنداً۔[1]بلکہ دونوں لحاظ سے ضعیف ہے اور جو لوگ اسی ضعیف حدیث کے قائل ہیں۔ وہ ایک عجیب متضاد بات کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ابو العاص ۸ ھ کے اواخر میں فتح مکہ سے کچھ پہلے مسلمان ہوئے تھے۔ پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ ۸ ھ کے اوائل میں حضرت زینب کا انتقال ہوگیا تھا۔ حالانکہ اگر یہ دونوں باتیں صحیح مان لی جائیں تو تضاد بالکل واضح ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں ابو العاص کے اسلام لانے اور ہجرت کرکے مدینہ پہنچنے کے وقت حضرت زینب زندہ ہی کہاں تھیں کہ انہیں ان کے پا س نکاح ِ جدید یا نکاح ِ قدیم کی بنیاد پر ابو العاص کے حوالے کیا جاتا۔ ہم نے اس موضوع پر بلوغ المرام کی تعلیق میں بسط سے گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ آپ حدیبیہ کی صلح فرمالینے کے باوجود قریش کے قافلے پرچھاپہ مارنے کے لیے مسلمانوں کو بھیجیں گے۔ تمام اہلِ سیر کا اتفاق ہے کہ اس صلح کی خلاف ورزی مسلمانوں نے نہیں بلکہ قریش نے کی تھی۔ مشہور صاحب مغازی موسیٰ بن عقبہ کا رجحان اس طرف ہے کہ یہ واقعہ۷ ھ میں ابو بصیر اور ان کے رفقاء کے ہاتھوں پیش آیا تھا لیکن یہ نہ حدیث صحیح کے موافق ہے نہ حدیث ضعیف کے۔ ۹۔ سر یہ طرف یا طرق : یہ سریہ بھی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں جمادی الآخر ہ ۶ھ میں طرف یا طرق نامی مقام کی طرف روانہ کیا گیا۔ یہ مقام بنو ثعلبہ کے علاقہ میں تھا۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ صرف پندرہ آدمی تھے لیکن بدوؤں نے خبر پاتے ہی راہ فرار اختیار کی۔ انہیں خطرہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لارہے ہیں۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ کو چار اونٹ ہاتھ لگے۔ اور وہ چار روز بعد واپس آئے۔ ۱۰۔ سریہ وادی القریٰ: یہ سریہ بارہ آدمیوں پر مشتمل تھا اور اس کے کمانڈر بھی حضرت زید رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ وہ رجب ۶ھ میں وادی القری کی جانب روانہ ہوئے۔ مقصد دشمن کی نقل وحرکت کا پتہ لگانا تھا مگر وادی القریٰ کے باشندوں نے ان پر حملہ کر کے نو صحابہ کو شہید کردیا۔ اور صرف تین بچ سکے۔ جن میں ایک خود حضرت زید رضی اللہ عنہ تھے۔[2] ۱۱۔ سریہ ٔخبط: ا س سریہ کا زمانہ رجب ۸ ھ بتایا جاتا ہے مگر سیاق بتاتا ہے کہ یہ حدیبیہ سے پہلے کا واقعہ ہے۔ حضرت جابر کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو سواروں کی جمعیت روانہ فرمائی۔ ہمارے امیر ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے۔ قریش کے ایک قافلہ کا پتہ لگانا تھا۔ ہم اس مہم کے دوران سخت بھوک سے دوچار ہوئے۔ یہاں تک کہ پتے جھاڑ جھاڑ کر کھا نا پڑے۔ اسی لیے اس کا نام جیش خبط پڑ گیا۔ (خبط جھاڑے جانے والے پتوں کو کہتے ہیں۔ ) آخر ایک آدمی نے تین اونٹ ذبح کیے۔ پھر تین اونٹ ذبح کیے۔ پھر تین اونٹ ذبح کیے ، لیکن اس کے بعد ابو عبیدہ نے اسے منع کردیا۔ پھر اس کے بعد ہی سمندر نے عنبر نامی ایک مچھلی پھینک دی۔ جس سے ہم آدھے مہینے تک کھاتے رہے۔ اوراس کا تیل بھی لگاتے رہے۔ یہاں تک کہ ہمارے جسم ہماری طرف پلٹ آئے۔ اور تندرست ہوگئے۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلی کا ایک کانٹا لیا۔ اور لشکر کے اندر سب سے لمبے آدمی اور سب سے لمبے اونٹ کو دیکھ کر آدمی کو اس پر سوار کیا۔ اور وہ (سوار ہوکر ) کانٹے کے نیچے سے گزر گیا۔ ہم نے اس کے گوشت کے کچھ ٹکڑے توشہ کے طور پر رکھ لیے اور جب مدینہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک رزق ہے ، جو اللہ نے تمہارے لیے برآمد کیا تھا۔ اس کا گوشت تمہارے پاس ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ۔ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ گوشت بھیج دیا۔[1]واقعہ کی تفصیل ختم ہوئی۔ اوپر جویہ کہا گیا ہے کہ اس واقعے کا سیاق بتا تا ہے کہ یہ حدیبیہ سے پہلے کا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان قریش کے کسی قافلے سے تعرض نہیں کرتے تھے۔