الرحیق المختوم
غزوہ بنی المصطلق یا غزوہ مریْسیع
یہ غزوہ جنگی نقطۂ نظر سے کوئی بھاری بھرکم غزوہ نہیں ہے مگر اس حیثیت سے اس کی بڑی اہمیت ہے کہ اس میں چند واقعات ایسے رُونما ہوئے جن کی وجہ سے اسلامی معاشرے میں اضطراب اور ہلچل مچ گئی۔ اور جس کے نتیجے میں ایک طرف منافقین کا پردہ فاش ہو ا۔ تو دوسری طرف ایسے تعزیری قوانین نازل ہوئے جن سے اسلامی معاشرے کو شرف وعظمت اور پاکیزگی کی ایک خاص شکل عطا ہوئی۔ ہم پہلے غزوے کا ذکر کریں گے۔ اس کے بعد واقعات کی تفصیل پیش کریں گے۔
یہ غزوہ ______ عام اہل سیر کے بقول شعبان ۵ ھ میں اور ابن اسحاق کے بقول ۶ ھ[1]میں پیش آیا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ بنو المصطلق کا سردار حارث بن ابی ضرار آپ سے جنگ کے لیے اپنے قبیلے اور کچھ دوسرے عربوں کو ساتھ لے کر آرہا ہے۔ آپ نے بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ کو تحقیق حال کے لیےروانہ فرمایا۔ انہوں نے اس قبیلے میں جاکر حارث بن ضرار سے ملاقات کی اور بات چیت کی۔ اور واپس آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالات سے باخبر کیا۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کی صحت کا اچھی طرح یقین آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو تیاری کا حکم دیا اور بہت جلد روانہ ہوگئے۔ روانگی ۲/شعبان کوہوئی۔ اس غزوے میں آپ کے ہمراہ منافقین کی بھی ایک جماعت تھی۔ جو اس سے پہلے کسی غزوے میں نہیں گئی تھی۔ آپ نے مدینہ کا انتظام حضرت زید بن حارثہ کو (اور کہا جاتا ہے کہ حضرت ابو ذر کو ، اور کہا جاتا ہے کہ نمیلہ بن عبد اللہ لیثی کو ) سونپا تھا۔ حارث بن ابی ضرار نے اسلامی لشکرکی خبر لانے کے لیے ایک جاسوس بھیجا تھا ، لیکن مسلمانوں نے اسے گرفتار کرکے قتل کردیا۔
جب حارث بن ابی ضرار اور اس کے رفقاء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی اور اپنے جاسوس کے قتل کیے جانے کا علم ہوا تو وہ سخت خوفزدہ ہوئے۔ اور جو عرب ان کے ساتھ تھے ، وہ سب بکھر گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چشمۂ مریسیع[1] تک پہنچے تو بنو مصطلق آمادہ ٔ جنگ ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے بھی صف بندی کر لی۔ پورے اسلامی لشکر کے علمبردار حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے اور خاص انصار کا پھریرا حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا کچھ دیر فریقین میں تیروں کا تبادلہ ہوا۔ اس کے بعد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے صحابہ کرام نے یکبارگی حملہ کیا۔ اور فتح یاب ہوگئے ، مشرکین نے شکست کھائی۔ کچھ مارے گئے۔ عورتوں اور بچوں کو قید کرلیا گیا۔ مویشی اور بکریاں بھی ہاتھ آئیں۔ مسلمان کا صرف ایک آدمی ماراگیا۔ اسے ایک انصار ی نے دشمن کا آدمی سمجھ کر مار دیا تھا۔
اس غزوے کے متعلق اہل سیر کا بیان یہی ہے ، لیکن علامہ ابن قیم نے لکھا ہے کہ یہ وہم ہے۔
کیونکہ اس غزوے میں لڑائی نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ آپ نے چشمے کے پاس ان پر چھاپہ مار کر عورتوں بچوں اور مال مویشی پر قبضہ کر لیاتھا۔ جیسا کہ صحیح کے اندر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو المصطلق پر چھاپہ مار ااور وہ غافل تھے۔ الیٰ آخر الحدیث۔[1]
قیدیوں میں حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ جو بنو المصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرارکی بیٹی تھیں۔ وہ ثابت بن قَیس کے حصے میں آئیں۔ ثابت نے انہیں مکاتب[2]بنا لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جانب سے مقررہ رقم ادا کرکے ان سے شادی کرلی۔ اس شادی کی وجہ سے مسلمانوں نے بنو المصطلق کے ایک سو گھرانوں کو جو مسلمان ہوچکے تھے۔ آزاد کردیا۔ کہنے لگے کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال کے لوگ ہیں۔[3]
یہ ہے اس غزوے کی روداد۔ باقی رہے وہ واقعات جو اس غزوے میں پیش آئے توچونکہ ان کی بنیاد عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین اور اس کے رفقاء تھے ، اس لیے بیجانہ ہوگا کہ پہلے اسلامی معاشرے کے اندر ان کے کردار اوررویّے کی ایک جھلک پیش کردی جائے۔ اور بعد میں واقعات کی تفصیل دی جائے۔
غزوہ بنی المصطلق سے پہلے منافقین کا رویہ:
ہم کئی بار ذکر کر چکے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی کو اسلام اور مسلمانوں سے عموماً اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خصوصاً بڑی کَدْ تھی۔ کیونکہ اوس وخزرج اس کی قیادت پر متفق ہوچکے تھے۔ اور اس کی تاجپوشی کے لیے مونگوں کا تاج بنایا جارہا تھا کہ اتنے میں مدینہ کے اندر اسلام کی شعائیں پہنچ گئیں۔ اور لوگوں کی توجہ ابن ابی سے ہٹ گئی ، اس لیے اسے احساس تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بادشاہت چھین لی ہے۔
ا س کی یہ کَدْ اور جَلن ابتدائے ہجرت ہی سے واضح تھی جبکہ ابھی اس نے اسلام کااظہار بھی نہیں کیا تھا۔ پھر اسلام کا اظہار کرنے کے بعدبھی اس کی یہی روش رہی۔ چنانچہ اس کے اظہار اسلام سے پہلے ایک بار رسول صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں ایک مجلس سے گزر ہوا جس میں عبد اللہ بن اُبی بھی تھا۔ اس نے اپنی ناک ڈھک لی اور بو لا : ہم پر غبار نہ اڑاؤ۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مجلس پر قرآن کی تلاوت فرمائی تو کہنے لگا : آپ اپنے گھر میں بیٹھئے۔ ہماری مجلس میں ہمیں نہ گھیریے۔[1]
یہ اظہار ِ اسلام سے پہلے کی بات ہے ، لیکن جنگِ بدر کے بعد جب اس نے ہوا کا رُخ دیکھ کر اسلام کا اظہار کیا تب بھی وہ اللہ ، اس کے رسول اور اہل ایمان کا دشمن ہی رہا۔ اور اسلامی معاشرے میں انتشار برپا کرنے اور اسلام کی آواز کمزور کرنے کی مسلسل تدبیریں سوچتا رہا۔ وہ اعدائے اسلام سے بڑا مخلصانہ ربط رکھتا تھا، چنانچہ بنو قینقاع کے معاملے میں نہایت نامعقول طریقے سے دخل انداز ہوا تھا۔(جس کا ذکر پچھلے صفحات میں آچکا ہے ) اسی طرح اس نے غزوۂ اُحد میں بھی شر ، بدعہدی مسلمانوں میں تفریق اور ان کی صفوں میں بے چینی وانتشار اور کھلبلی پیدا کرنے کی کوششیں کی تھیں۔ (اس کا بھی ذکر گزر چکا ہے )
اس منافق کے مکر وفریب کا یہ عالم تھا کہ یہ اپنے اظہارِ اسلام کے بعد ہر جمعہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے تشریف لاتے تو پہلے خود کھڑا ہو جاتا اور کہتا:لوگو!یہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول ؐ ہیں۔ اللہ نے ان کے ذریعے تمہیں عزت واحترام بخشا ہے ، لہٰذا ان کی مدد کرو ، انہیں قوت پہنچاؤ اور ان کی بات سنو اور مانو۔ اس کے بعد بیٹھ جاتا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر خطبہ دیتے۔ پھر اس کی ڈھٹائی اور بے حیائی اس وقت انتہا کو پہنچ گئی جب جنگِ اُحد کے بعد پہلا جمعہ آیا کیونکہ ۔یہ شخص اس جنگ میں اپنی بدترین دغابازی کے باوجود خطبہ سے پہلے ۔ پھر کھڑا ہوگیا اور وہی باتیں دہرانی شروع کیں جو اس سے پہلے کہا کرتا تھا ، لیکن اب کی بار مسلمانوں نے مختلف اطراف سے ا س کا کپڑا پکڑ لیا اور کہا : او اللہ کے دشمن ! بیٹھ جا۔ تو نے جو جوحرکتیں کی ہیں اس کے بعد اب تو ا س لائق نہیں رہ گیا ہے۔ اس پر وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا اور یہ بڑبڑاتا ہوا باہر نکل گیا کہ میں ان صاحب کی تائید کے لیے اٹھا تو معلوم ہوتا ہے کہ میں نے کوئی مجرمانہ بات کہہ دی۔ اتفاق سے دروازے پر ایک انصاری سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے کہا : تیری بربادی ہو۔ واپس چل ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے لیے دعائے مغفرت کردیں گے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نہیں چاہتاکہ وہ میرے لیے دعائے مغفرت کریں۔[2]
علاوہ ازیں ابن اُبی ّ نے بنونضیر سے بھی رابطہ قائم کررکھا تھا۔ اور ان سے مل کر مسلمانوں کے خلاف درپردہ سازشیں کیا کرتا تھا۔ اسی طرح ابن اُبی ّ اور اس کے رفقاء نے جنگ ِ خندق میں مسلمانوں کے اندر اضطراب اور کھلبلی مچانے اور انہیں مرعوب ودہشت زدہ کرنے کے لیے طرح طرح کے جتن کیے تھے۔ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ احزاب کی حسب ذیل آیات میں کیا ہے:
﴿ وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا ، وَإِذْ قَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ يَاأَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ إِنْ يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا ، وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِمْ مِنْ أَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَآتَوْهَا وَمَا تَلَبَّثُوا بِهَا إِلَّا يَسِيرًا ، وَلَقَدْ كَانُوا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَلُّونَ الْأَدْبَارَ وَكَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُولًا ، قُلْ لَنْ يَنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ إِنْ فَرَرْتُمْ مِنَ الْمَوْتِ أَوِ الْقَتْلِ وَإِذًا لَا تُمَتَّعُونَ إِلَّا قَلِيلًا ، قُلْ مَنْ ذَا الَّذِي يَعْصِمُكُمْ مِنَ اللّٰهِ إِنْ أَرَادَ بِكُمْ سُوءًا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً وَلَا يَجِدُونَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا ، قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِينَ مِنْكُمْ وَالْقَائِلِينَ لِإِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنَا وَلَا يَأْتُونَ الْبَأْسَ إِلَّا قَلِيلًا ، أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ فَإِذَا جَاءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ فَإِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوكُمْ بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى الْخَيْرِ أُولَئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا فَأَحْبَطَ اللّٰهُ أَعْمَالَهُمْ وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيرًا ، يَحْسَبُونَ الْأَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوا وَإِنْ يَأْتِ الْأَحْزَابُ يَوَدُّوا لَوْ أَنَّهُمْ بَادُونَ فِي الْأَعْرَابِ يَسْأَلُونَ عَنْ أَنْبَائِكُمْ وَلَوْ كَانُوا فِيكُمْ مَا قَاتَلُوا إِلَّا قَلِيلًا ﴾(۳۳: ۱۲تا ۲۰)
’’اور جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہہ رہے تھے کہ ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے جو وعدہ کیا تھا وہ محض فریب تھا۔ اور جب ان میں سے ایک گروہ کہہ رہا تھا کہ اے یثرب والو ! اب تمہارے لیے ٹھہرنے کی گنجائش نہیں لہٰذا پلٹ چلو۔ اور ان کا ایک فریق یہ کہہ کر نبی سے اجازت طلب کررہا تھا کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں ( یعنی ان کی حفاظت کا انتظام نہیں ) حالانکہ وہ کھلے پڑ ے نہ تھے۔ یہ لوگ محض بھاگنا چاہتے تھے۔ اور اگر شہر کے اطراف سے ان پر دھاوا بول دیا گیا ہوتا۔ اور ان سے فتنے (میں شرکت ) کا سوال کیا گیا ہو تا تو یہ اس میں جاپڑتے۔ اور بمشکل ہی کچھ رکتے۔ انہوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کیا تھا کہ پیٹھ نہ پھیریں گے۔ اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پُرس ہو کر رہنی ہے۔ آپ کہہ دیجیے کہ تم موت یا قتل سے بھاگوگے تو یہ بھگدڑ تمہیں نفع نہ دے گی۔ اور ایسی صورت میں تمتع کا تھوڑا ہی موقع دیا جائے گا۔ آپ کہہ دیں کہ کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچاسکتا ہے اگر وہ تمہارے لیے برا ارادہ کرے یا تم پر مہربانی کرنا چاہے۔ اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی اور کو حامی ومدد گار نہیں پائیں گے۔ اللہ تم میں سے ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے جو روڑے اٹکاتے ہیں۔ اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہماری طرف آؤ۔ اور جو لڑائی میں محض تھوڑا سا حصہ لیتے ہیں۔ جو تمہارا ساتھ دینے میں انتہائی بخیل ہیں۔ جب خطرہ آپڑے تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کی طرف اس طرح دے دے پھر اپھرا کر دیکھتے ہیں جیسے مرنے والے پر موت طاری ہورہی ہے۔ اور جب خطرہ ٹل جائے تو مال ودولت کی حِرص میں تمہار ااستقبال تیزی کے ساتھ چلتی ہوئی زبانوں سے کرتے ہیں۔ یہ لوگ درحقیقت ایمان ہی نہیں لائے ہیں۔ اس لیے اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے۔ اور اللہ پر یہ بات آسان ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں ہیں۔ اور اگر وہ (پھرپلٹ کر ) آجائیں تو یہ چاہیں گے کہ بدوؤں کے درمیان بیٹھے تمہاری خبر پوچھتے رہیں۔اور اگر یہ تمہارے درمیان رہیں بھی تو کم ہی لڑائی میں حصہ لیں گے۔‘‘
ان آیا ت میں موقع کی مناسبت سے منافقین کے انداز ِ فکر ، طرز عمل ، نفسیات اور خود غرضی وموقع پرستی کا ایک جامع نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔
ان سب کے باوجود یہود ، منافقین اور مشرکین غرض سارے ہی اعدائے اسلام کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ اسلام کے غلبے کا سبب مادّی تفوُّق ،اور اسلحے لشکر اور تعداد کی کثرت نہیں ہے۔ بلکہ اس کا سبب وہ اللہ پر ستی اور اخلاقی قدریں ہیں جن سے پورا اسلامی معاشرہ اور دین ِ اسلام سے تعلق رکھنے والا ہر فرد سرفراز وبہرہ مند ہے۔ ان اعدائے اسلام کو یہ بھی معلوم تھا کہ اس فیض کا سر چشمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے ، جو ان اخلاقی قدروں کا معجزے کی حد تک سب سے بلند نمونہ ہے۔
اسی طرح یہ اعدائے اسلام چار پانچ سال تک برسرِ پیکار رہ کر یہ بھی سمجھ چکے تھے کہ اس دین اور اس کے حاملین کو ہتھیار وں کے بل پر نیست و نابود کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے انہوں نے غالبا ًیہ طے کیا کہ اخلاقی پہلو کو بنیاد بنا کراس دین کے خلاف وسیع پیمانے پر پر وپیگنڈے کی جنگ چھیڑ دی جائے۔ اور اس کا پہلا نشانہ خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو بنایا جائے چونکہ منافقین مسلمانوں کی صف میں پانچواں کالم تھے۔ اور مدینہ ہی کے اندر رہتے تھے۔ مسلمانوں سے بلا تردُّد مل جل سکتے تھے۔ اور ان کے احساسات کو کسی بھی ’’مناسب ‘‘موقع پر بآسانی بھڑ کا سکتے تھے۔ اس لیے اس پروپیگنڈے کی ذمہ داری ان منافقین نے اپنے سر لی ، یا ان کے سر ڈالی گئی اور عبد اللہ بن اُبیّ رئیس المنافقین نے اس کی قیادت کا بیڑ ااٹھایا۔
ان کا پروگرام اس وقت ذرا زیادہ کھل کر سامنے آیا جب حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے حضرت زینب کو طلاق دی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی۔ چونکہ عرب کا دستور یہ چلا آرہا تھا کہ وہ مُتَبَنّیٰ (منہ بولے بیٹے ) کو اپنے حقیقی لڑکے کا درجہ دیتے تھے۔ اور اس کی بیوی کو حقیقی بیٹے کی بیوی کی طرح حرام سمجھتے تھے ، اس لیے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب سے شادی کی تو منافقین کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف شور وشغب برپا کرنے کے لیے اپنی دانست میں دو کمزور پہلو ہاتھ آئے۔
ایک یہ کہ حضرت زینب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پانچوین بیوی تھیں۔ جبکہ قرآن نے چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ اس لیے یہ شادی کیونکر درست ہوسکتی ہے ؟
دوسرے یہ کہ زینب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ۔یعنی منہ بولے بیٹے ۔ کی بیوی تھیں۔ اس لیے عرب دستور کے مطابق ان سے شادی کر نا نہایت سنگین جرم اور زبردست گناہ تھا۔ چنانچہ اس سلسلے میں خوب پروپیگنڈہ کیا گیا۔ اور طرح طرح کے افسانے گھڑے گئے۔ کہنے والوں نے یہاں تک کہا کہ محمد نے زینب کو اچانک دیکھا اور ان کے حسن سے اس قدر متأثر ہوئے کہ نقد دل دے بیٹھے۔ اور جب ان کے صاحبزادے زید کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے زینب کا راستہ محمدؐ کے لیے خالی کردیا۔
منافقین نے اس افسانے کا اتنی قوت سے پروپیگنڈہ کیا کہ اس کے اثرات کتب احادیث وتفاسیر میں اب تک چلے آرہے ہیں۔ اس وقت یہ سارا پروپیگنڈہ کمزور اور سادہ لوح مسلمانوں کے اندر اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ بالآخر قرآن مجید میں اس کی بابت واضح آیات نازل ہوئیں۔ جن کے اندر شکوک ِ پنہاں کی بیماری کا پورا پورا علاج تھا۔ اس پر وپیگنڈے کی وسعت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ سورۂ احزاب کا آغاز ہی اس آیت کریمہ سے ہوا۔
﴿ يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴾ (۳۳: ۱)
’’اے نبی ، اللہ سے ڈرو۔ اور کافرین ومنافقین سے نہ دبو۔ بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘
یہ منافقین کی حرکتوں اور کارروائیوں کی طرف ایک طائرانہ اشارہ اور ان کاایک مختصر ساخاکہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ ساری حرکتیں صبر ، نرمی اور تلطف کے ساتھ برداشت کررہے تھے۔ اور عام مسلمان بھی ان کے شر سے دامن بچا کر صبر و برداشت کے ساتھ رہ رہے تھے۔ کیونکہ انہیں تجربہ تھا کہ منافقین قدرت کی طرف سے رہ رہ کر رسواکیے جاتے رہیں گے۔ چنانچہ ارشاد ہے :
﴿ أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ﴾ (۹: ۱۲۶)
’’وہ دیکھتے نہیں کہ انہیں ہر سال ایک بار یادو بار فتنے میں ڈالاجاتا ہے، پھروہ نہ توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت پکڑتے ہیں۔‘‘
غزوۂ بنوالمصطلق میں منافقین کا کردار
جب غزوہ بنی المصطلق پیش آیا۔ اور منافقین بھی اس میں شریک ہوئے، تو انہوں نے ٹھیک وہی کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے:
﴿ لَوْ خَرَجُوا فِيكُمْ مَا زَادُوكُمْ إِلَّا خَبَالًا وَلَأَوْضَعُوا خِلَالَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ ﴾(۹: ۴۷)
’’اگر وہ تمہارے اندر نکلتے تو تمہیں مزید فساد ہی سے دوچار کرتے اور فتنے کی تلاش میں تمہارے اندر تگ ودو کرتے۔‘‘
چنانچہ اس غزوے میں انہیں بھڑاس نکالنے کے دو مواقع ہاتھ آئے۔ جس کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے مسلمانوں کی صفوں میں خاصا اضطراب وانتشار مچایا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بدترین پر وپیگنڈہ کیا۔ ان دونوں مواقع کی کسی قدر تفصیلات یہ ہیں :
۱۔ مدینہ سے ذلیل ترین آدمی کو نکالنے کی بات :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بنی المصطلق سے فارغ ہوکر ابھی چشمہ مُریسیع پر قیام فرماہی تھے کہ کچھ لوگ پانی لینے گئے ان ہی میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ایک مزدور بھی تھا۔ جس کا نام جَہْجَاہ غِفاری تھا۔ پانی پر ایک اور شخص سنان بن وبرجُہنی سے اس کی دھکم دھکا ہوگئی۔ اور دونوں لڑپڑے۔ پھر جُہنی نے پکارا : یا معشر الانصار (انصار کے لوگو! مدد کو پہنچو ) اور جہجاہ نے آوازدی : یامعشر المہاجرین (مہاجرین ! مدد کو آؤ!) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خبر پاتے ہی وہاں تشریف لے گئے۔ اور )فرمایا: میں تمہارے اندر موجود ہوں اور جاہلیت کی پکار پکاری جارہی ہے ؟ اسے چھوڑو، یہ بدبودار ہے۔
اس واقعے کی خبر عبد اللہ بن ابی بن سَلُول کو ہوئی تو غصے سے بھڑک اٹھا۔ اور بولا: کیا ان لوگوں نے ایسی حرکت کی ہے؟ یہ ہمارے علاقے میں آکر اب ہمارے ہی حریف اور مدّ ِ مقابل ہوگئے ہیں۔ اللہ کی قسم ! ہماری اور ان کی حالت پر تو وہی مثل صادق آتی ہے ، جو پہلوں نے کہی ہے کہ اپنے کتے کو پال پوس کر موٹا تازہ کرو تاکہ وہ تمہیں کو پھاڑ کھائے۔ سنو ! اللہ کی قسم ! اگر ہم مدینہ واپس ہوئے تو ہم میں کا معزز ترین آدمی ، ذلیل ترین آدمی کونکال باہر کرے گا۔ پھر حاضرین کی طرف متوجہ ہوکر بولا: یہ مصیبت تم نے خود مول لی ہے۔ تم نے انہیں اپنے شہر میں اتارا۔ اور اپنے اموال بانٹ کر دیئے۔ دیکھو ! تمہارے ہاتھوں میں جو کچھ ہے اگر اسے دینا بند کر دو تو یہ تمہارا شہر چھوڑ کر کہیں اور چلتے بنیں گے۔
اس وقت مجلس میں ایک نوجوان صحابی حضرت زید بن ارقم بھی موجود تھے۔ انہوں نے آکر اپنے چچا کو پوری بات کہہ سنائی۔ ان کے چچا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی۔ اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ بولے : حضور عباد بن بِشر سے کہئے کہ اسے قتل کردیں۔ آپ نے فرمایا : عمر ! یہ کیسے مناسب رہے گا لوگ کہیں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کررہا ہے ؟ نہیں بلکہ تم کوچ کا اعلان کردو۔ یہ ایسا وقت تھا جس میں آپ کوچ نہیں فرمایا کرتے تھے۔ لوگ چل پڑے تو حضرت اُسید بن حُضَیر رضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہوئے۔ اور سلام کر کے عرض کیا کہ آج آپ نے ناوقت کوچ فرمایا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تمہارے صاحب (یعنی ابن اُبیّ) نے جو کچھ کہا ہے تمہیں اس کی خبر نہیں ہوئی ؟ انہوں نے دریافت کیا کہ اس نے کیا کہا ہے ؟ آپ نے فرمایا: اس کا خیال ہے کہ وہ مدینہ واپس ہوا تو معززترین آدمی ذلیل ترین آدمی کو مدینہ سے نکال باہر کرے گا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ اگر چاہیں تو اسے مدینے سے نکال باہر کریں۔ اللہ کی قسم! وہ ذلیل ہے اور آپ باعزت ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے ساتھ نرمی برتئے۔ کیونکہ واللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو ہمارے پا س اس وقت لے آیا جب اس کی قوم اس کی تاجپوشی کے لیے مونگوں کا تاج تیار کررہی تھی۔ اس لیے اب وہ سمجھتا ہے کہ آپ نے اس سے اس کی بادشاہت چھین لی ہے۔
پھر آپ شام تک پورا دن اور صبح تک پوری رات چلتے رہے بلکہ اگلے دن کے ابتدائی اوقات میں اتنی دیر تک سفر جاری رکھا کہ دھوپ سے تکلیف ہونے لگی۔ اس کے بعد اتر کر پڑاؤ ڈالا گیا تو لوگ زمین پر جسم رکھتے ہی بے خبر ہوگئے۔ آپ کا مقصد بھی یہی تھا کہ لوگوں کو سکون سے بیٹھ کر گپ لڑانے کا موقع نہ ملے۔
ادھر عبداللہ بن ابی کو جب پتہ چلا کہ زید بن ارقم نے بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اللہ کی قسم کھا کر کہنے لگا کہ اس نے جوبات آپ کو بتائی ہے وہ بات میں نے نہیں کہی ہے۔ اور نہ اسے زبان پر لے آیا ہوں۔ اس وقت وہاں انصار کے جو لوگ موجود تھے انہوں نے بھی کہا: یارسول اللہ ! ابھی وہ لڑکا ہے۔ ممکن ہے اسے وہم ہوگیا ہو۔ اور اس شخص نے جو کچھ کہا تھا اسے ٹھیک ٹھیک یاد نہ رکھ سکا ہو۔ اس لیے آپ نے ابن ابی کی با ت سچ مان لی۔ حضرت زید کا بیان ہے کہ اس پر مجھے ایسا غم لاحق ہوا کہ ویسے غم سے میں کبھی دوچار نہیں ہوا تھا۔ میں صدمے سے اپنے گھر میں بیٹھ رہا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ ٔ منافقین نازل فرمائی۔ جس میں دونوں باتیں مذکور ہیں۔
﴿ هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا ﴾(۶۳: ۷)
’’یہ منافقین وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جولوگ رسول اللہ کے پاس ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ چلتے بنیں ‘‘
﴿ قُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ﴾ (۶۳: ۸)
’’یہ منافقین کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ واپس ہوئے تو اس سے عزت والا ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔‘‘
حضرت زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( اس کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا۔ اور یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں ، پھر فرمایا : اللہ نے تمہاری تصدیق کردی۔ [1]
اس منافق کے صاحبزادے جن کا نام عبد اللہ ہی تھا ، اس کے بالکل برعکس نہایت نیک طینت انسان اور خیارِ صحابہ میں سے تھے۔ انہوں نے اپنے باپ سے برأت اختیار کرلی۔ اور مدینہ کے دروازے پر تلوار سونت کر کھڑے ہوگئے۔ جب ان کا باپ عبد اللہ بن اُبیّ وہاں پہنچاتو اس سے بولے : اللہ کی قسم! آپ یہاں سے آگے نہیں بڑھ سکتے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دے دیں۔ کیونکہ حضور عزیز ہیں اور آپ ذلیل ہیں۔ اس کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے تو آپ نے اس کو مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت دی۔ اور تب صاحبزادے نے باپ کا راستہ چھو ڑا۔ عبداللہ بن اُبی کے ان ہی صاحبزادے حضرت عبد اللہ نے آپ سے یہ بھی عرض کی تھی کہ اے اللہ کے رسول ! آپ اسے قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو مجھے فرمایئے اللہ کی قسم میں اس کا سر آپ کی خدمت میں حاضر کر دوں گا۔[2]