الرحیق المختوم

غزوہ طائف

یہ غزوہ درحقیقت غزوۂ حنین کا امتداد ہے۔ کیونکہ ہوازن و ثقیف کے بیشتر شکست خوردہ افراد اپنے جنرل کمانڈر مالک بن عوف نصری کے ساتھ بھاگ کر طائف ہی آئے تھے اور یہیں قلعہ بند ہوگئے تھے۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین سے فارغ ہوکر اور جعرانہ میں مال غنیمت جمع فرما کر اسی ماہ شوال ۸ ھ میں طائف کا قصد فرمایا۔ اس مقصد کے لیے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں ایک ہزار فوج کا ہر اَول دستہ روانہ کیا گیا، پھر آپ نے خود طائف کا رُخ فرمایا۔ راستہ میں نخلہ ٔ یمانیہ ، پھر قرن منازل پھر لیہ سے گزرہوا۔ لیہ میں مالک بن عوف کا ایک قلعہ تھا۔ آپ نے اسے منہدم کروادیا۔ پھر سفر جاری رکھتے ہوئے طائف پہنچے اور قلعہ طائف کے قریب خیمہ زن ہو کر اس کا محاصرہ کرلیا۔ محاصرہ نے قدرے طول پکڑا۔ چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ یہ چالیس دن تک جاری رہا۔ اہل سیر میں سے بعض نے اس کی مدت بیس دن بتائی ہے۔ بعض نے دس دن سے زیادہ ، بعض نے اٹھارہ دن اور بعض نے پندرہ دن۔ [1] دورانِ محاصرہ دونوں طرف سے تیر اندازی اور پتھر بازی کے واقعات بھی پیش آتے رہے۔ بلکہ پہلے پہل جب مسلمانوں نے محاصرہ کیا تو قلعہ کے اندر سے ان پر اس شدت سے تیر اندازی کی گئی کہ معلوم ہوتا تھا ٹڈی دَل چھایا ہوا ہے اس سے متعدد مسلمان زخمی ہوئے۔ بارہ شہید ہوئے۔ اور انہیں اپنا کیمپ اٹھا کر موجودہ مسجد طائف کے پاس لے جانا پڑا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے اہل طائف پر منجنیق نصب کی ، اور متعدد گولے پھینکے ، جس سے قلعہ کی دیوار میں شگاف پڑگیا۔ اور مسلمانو ں کی ایک جماعت دبابہ کے اندر گھس کر آگ لگانے کے لیے دیوار تک پہنچ گئی۔ لیکن دشمن نے ان پر لوہے کے جلتے ٹکڑے پھینکے ، جس سے مجبور ہوکر مسلمان دبابہ کے نیچے سے باہر نکل آئے، مگر باہر نکلے تو دشمن نے ان پر تیروں کی بارش کردی جس سے بعض مسلمان شہید ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کو زیر کرنے کے لیے ایک اور جنگی حکمت ِ عملی کے طور پر حکم دیا کہ انگور کے درخت کاٹ کر جلا دیے جائیں۔ مسلمانوں نے ذرا بڑھ چڑھ کر ہی کٹائی کردی۔ اس پر ثقیف نے اللہ اور قرابت کا واسطہ دے کر گزارش کی کہ درختوں کو کاٹنا بند کردیں۔ آپ نے اللہ کے واسطے اور قرابت کی خاطر ہاتھ روک لیا۔ دورانِ محاصرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا: جو غلام قلعہ سے اتر کر ہمارے پاس آجائے وہ آزاد ہے۔ اس اعلان پر تیئس آدمی قلعہ سے نکل کر مسلمانوں میں آشامل ہوئے۔[1]انہیں میں حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہ قلعہ کی دیوار پر چڑھ کر ایک چرخی یا گھراری کی مدد سے (جس کے ذریعہ رہٹ سے پانی کھینچاجاتا ہے) لٹک کر نیچے آئے تھے۔ (چونکہ گھراری کو عربی میں بکرہ کہتے ہیں ) اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کنیت ابو بکرہ رکھ دی۔ ان سب غلاموں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کردیا۔ اور ہر ایک کو ایک ایک مسلمان کے حوالے کردیا کہ اسے سامان بہم پہنچائے۔ یہ حادثہ قلعہ والوں کے لیے بڑا جانکاہ تھا۔ جب محاصرہ طول پکڑ گیا اور قلعہ قابو میں آتا نظر نہ آیا۔ اور مسلمانوں پر تیر وں کی بارش اور گرم لوہوں کی زد پڑی۔ اور ادھر اہلِ قلعہ نے سال بھر کا سامان خورد ونوش بھی جمع کرلیا تھا ۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نو فل بن معاویہ دیلی سے مشورہ طلب کیا۔ اس نے کہا : لومڑی اپنے بھٹ میں گھس گئی ہے۔ اگر آپ اس پر ڈٹے رہے تو پکڑلیں گے اور اگر چھوڑ کر چلے گئے تو وہ آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاصرہ ختم کرنے کا فیصلہ فرما لیا ، اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ذریعہ لوگوں میں اعلان کروادیا کہ ہم ان شاء اللہ کل واپس ہوں گے لیکن یہ اعلان صحابہ کرام پر گراں گزار۔ وہ کہنے لگے: ہونہہ ! طائف فتح کیے بغیر واپس ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تو کل صبح لڑائی پرچلنا ہے۔ چنانچہ دوسرے دن لوگ لڑائی پر گئے، لیکن چوٹ کھانے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا تو اس کے بعد آپ نے پھر فرمایا کہ ہم ان شاء اللہ کل واپس ہوں گے۔ اس پر لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اور انہو ں نے بے چون وچرا رخت ِ سفر باندھنا شروع کردیا۔ یہ کیفیت دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے۔ اس کے بعد جب لوگوں نے ڈیرہ ڈنڈا اٹھا کر کوچ کیا تو آپ نے فرمایا کہ یوں کہو: (( آئبون ، تائبون ، عابدون ، لربنا حامدون)) ’’ہم پلٹنے والے ، توبہ کرنے والے ، عبادت گزار ہیں ، اور اپنے رب کی حمد کرتے ہیں۔‘‘ کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ ثقیف پربددعا کریں۔ آپ نے فرمایا : اے اللہ ! ثقیف کو ہدایت دے اور انہیں لے آ۔ جعرانہ میں اموالِ غنیمت کی تقسیم : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے محاصرہ ختم کر کے واپس آئے تو جعرانہ میں کئی روز مال ِ غنیمت تقسیم کیے بغیرٹھہرے رہے۔ اس تاخیر کا مقصد یہ تھا کہ ہوازن کا وفد تائب ہوکر آپ کی خدمت میں آجائے تو اس نے جو کچھ کھویا ہے سب لے جائے۔ لیکن تاخیر کے باوجود جب آپ کے پاس کوئی نہ آیا تو آپ نے مال کی تقسیم شروع کردی، تاکہ قبائل کے رؤساء اور مکہ کے اشراف جو اُچک اُچک کر تاک رہے تھے ان کی زبان خاموش ہوجائے۔ مؤلفۃ القلوب [1]کی قسمت نے سب سے پہلے یاوری کی۔ اور انہیں بڑے بڑے حصے دیے گئے۔ ابو سفیان بن حرب کو چالیس اَوْقِیہ (کچھ کم چھ کلو چاندی ) اور ایک سو اونٹ عطا کیے گئے۔ اس نے کہا : میرا بیٹا یزید ؟ آپ نے اتنا ہی یزید کو دیا۔ اس نے کہا : اور میرا بیٹا معاویہ ؟ آپ نے اتناہی معاویہ کو بھی دیا۔ (یعنی تنہا ابو سفیان کو اس کے بیٹوں سمیت تقریبا ۱۸ کلو چاندی اور تین سواونٹ حاصل ہوگئے ) حکیم بن حزام کو ایک سو اونٹ دیے گئے۔ اس نے مزید سو اونٹوں کا سوال کیا توا سے پھر ایک سو اونٹ دیے گئے۔ اسی طرح صفوان بن امیہ کو سو اونٹ ، پھر سواونٹ اور پھر سواونٹ (یعنی تین سو اونٹ ) دیئے گئے۔ [2] حارث بن کلدہ کو بھی سو اونٹ دیے گئے۔ اور کچھ مزید قریشی وغیر قریشی رؤساء کو سو سو اونٹ دیے گئے کچھ دوسروں کو پچاس پچاس اور چالیس چالیس اونٹ دیے گئے۔ یہاں تک کہ لوگوں میں مشہور ہوگیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بے دریغ عطیہ دیتے ہیں کہ انہیں فقر کا اندیشہ ہی نہیں۔ چنانچہ مال کی طلب میں بَدُّو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ٹوٹ پڑے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک درخت کی جانب سمٹنے پر مجبور کردیا۔ اتفاق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر درخت میں پھنس کررہ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! میری چادر دے دو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میرے پاس تہامہ کے درختوں کی تعداد میں بھی چوپائے ہوں تو انہیں بھی تم پر تقسیم کردوں گا۔ پھر تم مجھے نہ بخیل پاؤ گے ، نہ بزدل ، نہ جھوٹا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ کے بازو میں کھڑے ہوکر اس کی کوہان سے کچھ بال لیے اور چٹکی میں رکھ کر بلند کرتے ہوئے فرمایا : لوگو! واللہ میرے لیے تمہارے مالِ فے میں سے کچھ بھی نہیں، حتیٰ کہ اتنا بال بھی نہیں۔ صرف خُمس ہے اور خمس بھی تم پر ہی پلٹا دیا جاتا ہے۔ مؤلّفَۃ القلوب کو دینے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ مالِ غنیمت اور فوج کو یکجا کرکے لوگوں پر غنیمت کی تقسیم کا حساب لگائیں۔ انہوں نے ایسا کیا تو ایک ایک فوجی کے حصے میں صرف چار چار اونٹ یا چالیس چالیس بکریاں آئیں۔ جو شہسوار تھا اسے بارہ اونٹ یا ایک سو بیس بکریا ں ملیں۔ یہ تقسیم ایک حکیمانہ سیاست پر مبنی تھی کیونکہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنی عقل کے راستے سے نہیں بلکہ پیٹ کے راستے سے حق پر لائے جاتے ہیں ۔ یعنی جس طرح جانوروں کو ایک مٹھی ہری گھاس دکھلادیجئے اور وہ اس کی طرف بڑھتے لپکتے اپنے محفوظ ٹھکانے تک جا پہنچتے ہیں اسی طرح مذکورہ قسم کےانسانوں کے لیے بھی مختلف ڈھنگ کے اسباب کشش کی ضرورت پڑتی ہےتاکہ وہ ایمان سے مانوس ہو کر اس کےلیے پرجوش بن جائیں ۔ [1] انصار کا حزن واضطراب: یہ سیاست پہلے پہل سمجھی نہ جاسکی، اس لیے کچھ زبانوں پر حرفِ اعتراض آگیا۔ انصار پر خصوصاً اس سیاست کی زور پڑی تھی ___ کیونکہ وہ سب کے سب حنین کے ان عطایا سے بالکلیہ محروم رکھے گئے ۔ حالانکہ مشکل کےوقت انہیں کو پکارا گیا تھا اور وہی اڑ کر آئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر اس طرح جنگ کی تھی کہ فاش شکست شاندار فتح میں تبدیل ہو گئی تھی لیکن اب وہ دیکھ رہےتھے کہ بھاگنے والوں کے ہاتھ پر ہیں اوروہ خود محروم و تہی دست۔ [2] ابن اسحاق نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اورقبائل عرب کو وہ عطیے دیئے۔ اور انصار کو کچھ نہ دیا تو انصار نے جی ہی جی میں پیچ وتاب کھایا۔ اور ان میں بہت چہ میگوئی ہوئی۔ یہاں تک کہ ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم سے جا ملے ہیں۔ اس کے بعد حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاصل شدہ مالِ فے میں جو کچھ کیا ہے اس پر انصار اپنے جی ہی جی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیچ وتاب کھا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی قوم میں تقسیم فرمایا۔ قبائل ِ عرب کو بڑے بڑے عطیے دیے لیکن انصار کو کچھ نہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے سعد ! اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! میں بھی تو اپنی قوم ہی کا ایک آدمی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اچھا تو اپنی قوم کو اس چھولداری میں جمع کرو۔ سعد رضی اللہ عنہ نے نکل کر انصار کو اس چھولداری میں جمع کیا۔ کچھ مہاجرین بھی آگئے تو انہیں داخل ہونے دیا۔ پھر کچھ دوسرے لوگ بھی آگئے تو انہیں واپس کردیا۔ جب سب لوگ جمع ہوگئے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ قبیلہ ٔ انصار آپ کے لیے جمع ہوگیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ اللہ کی حمد وثنا کی پھر فرمایا : انصار کے لوگو! تمہاری یہ کیا چہ میگوئی ہے جو میرے علم میں آئی ہے ؟ اور یہ کیا ناراضگی ہے جو جی ہی جی میں تم نے مجھ پر محسوس کی ہے ؟ کیا ایسا نہیں کہ میں تمہارے پاس اس حالت میں آیا کہ تم گمراہ تھے ، اللہ نے تمہیں ہدایت دی۔ اور محتاج تھے ، اللہ نے غنی بنادیا ؟ اور باہم دشمن تھے ، اللہ نے تمہارے دل جوڑ دیے ؟ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کا بڑا فضل وکرم ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انصار کے لوگو! مجھے جواب کیوں نہیں دیتے ؟ انصار نے عرض کیا : یارسول اللہ ! بھلا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دیں ؟ اللہ اور اس کے رسول کا فضل وکرم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو! اللہ کی قسم! اگر تم چاہو توکہہ سکتے ہو ____اور سچ ہی کہوگے اور تمہاری بات سچ ہی مانی جائے گی ____کہ آپ ہمارے پاس اس حالت میں آئے کہ آپ کو جھٹلایا گیا تھا ، ہم نے آپ کی تصدیق کی۔ آپ کو بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا تھا ، ہم نے آپ کی مدد کی۔ آپ کو دھتکار دیا گیا تھا ، ہم نے آپ کو ٹھکانا دیا۔ آپ محتاج تھے ، ہم نے آپ کی غمخواری وغمگساری کی۔ اے انصار کے لوگو! تم اپنے جی میں دنیا کی ایک حقیر سی گھاس کے لیے ناراض ہوگئے جس کے ذریعے سے میں نے لوگوں کا دل جوڑا تھا تاکہ وہ مسلمان ہوجائیں۔ اور تم کو تمہارے اسلام کے حوالے کردیا تھا؟ اے انصار ! کیا تم اس سے راضی نہیں کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے کرجائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے ڈیروں میں پلٹو ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔ اگر سارے لوگ ایک راہ چلیں اور انصار دوسری راہ چلیں تو میں بھی انصار ہی کی راہ چلوں گا۔ اے اللہ ! انصار پر رحم فرما اور انصار کے بیٹوں اور انصار کے بیٹوں کے بیٹوں (پوتوں ) پر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خطاب سن کر لوگ اس قدر روئے کی داڑ ھیاں تر ہوگئیں۔ اور کہنے لگے : ہم راضی ہیں کہ ہمارے حصے اور نصیب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوگئے اور لوگ بھی بکھر گئے۔ [1] وفد ہوازن کی آمد: غنیمت تقسیم ہوجانے کے بعد ہوازن کا وفد مسلمان ہوکر آگیا۔ یہ کل چودہ آدمی تھے۔ ان کا سربراہ اور خطیب زُہیر بن صُرَد تھا۔ اور ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رضاعی چچا ابو برقان بھی تھا۔وفد نے سوال کیا کہ آپ مہربانی کرکے قیدی اورمال واپس کردیں ۔ اور اس انداز کی بات کی کہ دل پیچ دجائے ۔[2]آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے ساتھ جولوگ ہیں انہیں دیکھ ہی رہے ہو۔ اور مجھے سچ بات زیادہ پسند ہے۔ اس لیے بتاؤ کہ تمہیں اپنے بال بچے زیادہ محبوب ہیں یا مال ؟ انہوں نے کہا : ہمارے نزدیک خاندانی شرف کے برابرکوئی چیز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اچھا تو جب میں ظہر کی نماز پڑھ لوں تو تم لوگ اُٹھ کر کہنا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مومنین کی جانب سفارشی بناتے ہیں اور مومنین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سفارشی بناتے ہیں کہ آپ ہمارے قیدی ہمیں واپس کردیں۔ اس کے بعد جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ان لوگوں نے یہی کہا۔ جوابا ً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک اس حصے کا تعلق ہے جو میرا ہے اور بنی عبدالمطلب کا ہے تو وہ تمہارے لیے ہے۔ اور میں ابھی لوگوں سے پوچھے لیتا ہو ں۔ اس پر انصار اور مہاجرین نے اٹھ کر کہا : جو کچھ ہمارا ہے وہ سب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔ اس کے بعد اَقْرَع بن حابس نے کہا : لیکن جو کچھ میرا اور بنو تمیم کا ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہیں۔ اور عُیَْینہ بن حصن نے کہا کہ جو کچھ میرا اور بنوفزارہ کا وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہیں۔ اور عباس بن مرداس نے کہا : جو کچھ میرا اور بنوسلیم کا ہے وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہیں۔ اس پر بنو سلیم نے کہا : جی نہیں ، جو کچھ ہمارا ہے وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔ عباس بن مرداس نے کہا : تم لوگوں نے میری توہین کردی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دیکھو ! یہ لوگ مسلمان ہوکر آئے ہیں (اور اسی غرض سے ) میں نے ان کے قیدیوں کی تقسیم میں تاخیر کی تھی۔ اور اب میں نے انہیں اختیار دیا تو انہوں نے بال بچوں کے برابر کسی چیز کو نہیں سمجھا۔ لہٰذا جس کسی کے پاس کوئی قیدی ہو ، اور وہ بخوشی واپس کردے تو یہ بہت اچھی راہ ہے اور جو کوئی اپنے حق کو روکنا ہی چاہتا ہو تو وہ بھی ان کے قیدی تو انہیں واپس ہی کردے۔ البتہ آئندہ جو سب سے پہلا مالِ فے حاصل ہوگا اس سے ہم اس شخص کو ایک کے بدلے چھ دیں گے۔ لوگوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بخوشی دینے کو تیار ہیں۔ آپ نے فرمایا: ہم جان نہ سکے کہ آپ میں سے کون راضی ہے اور کون نہیں؟ لہٰذا آپ لوگ واپس جائیں ، اور آپ کے چودھری حضرات آپ کے معاملے کو ہمارے سامنے پیش کریں۔ اس کے بعد سارے لوگوں نے ان کے بال بچے واپس کردیے۔ صرف عُیینہ بن حصن رہ گیا جس کے حصے میں ایک بڑھیا آئی تھی۔ اس نے واپس کرنے سے انکار کردیا، لیکن آخر میں اس نے بھی واپس کردیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے قیدیوں کو ایک ایک قبطی چادر عطا فرماکر واپس کردیا۔ عمرہ اور مدینہ کو واپسی : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت کی تقسیم سے فارغ ہوکر جِعّرانہ ہی سے عمرہ کا احرام باندھا اور عمرہ ادا کیا۔ اس کے بعد عَتَّاب بن اسید کو مکہ کا والی بنا کر مدینہ روانہ ہوگئے۔ مدینہ واپسی ۲۴/ ذیقعدہ ۸ ھ کو ہوئی۔ محمد غزالی کہتےہیں ، ان فاتحانہ اوقات میں جبکہ اللہ نےآپ کے سرپر فتح مبین کا تاج رکھا اور اس وقت میں جبکہ آپ اسی شہر عظیم میں آٹھ سال پہلے تشریف لائے تھے کتنا لمبا چوڑا فاصلہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں اس حالت میں آئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امان کے طالب تھے ۔ اجنبی اور وحشت زدہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انس والفت کی تلاش تھی ۔ وہاں کے باشندوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب قدر و منزلت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگہ دی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی ، اور جو نور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نازل کیا گیا تھا اس کی پیروی کی ، اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ساری دنیا کی عداوت ہیچ سمجھی۔اب وہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ جس شہر نے ایک خوف زدہ مہاجر کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا تھا آج آٹھ سال بعد وہی شہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس حیثیت سے استقبال کر رہا ہے کہ مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیرنگیں ہے اور اس نے اپنی کبریائی اور جاہلیت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروں تلے ڈال دیاہےاور آپ اس کی پچھلی خطا معاف کر کے اسے اسلام کے ذریعے سرفرازی بخش رہےہیں۔ ﴿ إِنَّهُ مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ﴾(12: 90) ’’یقیناً جو شخص راستبازی اور صبر اختیار کرےتو بلاشبہ اللہ نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا ۔ ‘‘ [1]