الرحیق المختوم
فتح مکہ کے بعد کے سَرایَا اور عُمّال کی روانگی
اس طویل اور کامیاب سفر سے واپسی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں قدرے طویل قیام فرمایا۔ اس دوران آپ وفود کا استقبال فرماتے رہے۔ حکومت کے عُمّال بھیجتے رہے۔ داعیان ِ دین کو روانہ فرماتے رہے اور جنہیں اللہ کے دین میں داخلے اور عرب کے اندر برپا امر واقعہ کے سامنے سپر اندازی سے انکا ر واستکبار تھا ، انہیں سرنگوں فرماتے رہے۔ ان امور کا مختصر ساخاکہ پیش خدمت ہے۔
تحصیلدارانِ زکوٰۃ :
گزشتہ مباحث سے معلوم ہوچکا ہے کہ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۸ ھ کے اواخر میں تشریف لائے تھے۔ ۹ھ کا ہلالِ محرم طلوع ہوتے ہی آپ نے قبائل کے پاس صدقات کی وصولی کے لیے عمال روانہ فرمائے۔ جن کی فہرست یہ ہے :
عُمّال کے نام وہ قبیلہ جس سے زکوٰۃ وصول کرنی تھی
1۔ عُیینہ بن حصن بنو تمیم
2۔ یزید بن الحصین اسلم اور غفار
3۔ عباد بن بشیر اشہلی سلیم اور مُزینہ
4۔ رافع بن مکیث جُہَینہ
5۔ عُمرو بن العاص بنو فزارہ
6۔ ضحاک بن سفیان بنو کلاب
7۔ بشیر بن سفیان بنو کعب
8۔ ابن اللُتبِیَّہ ازدی بنو ذبیان
9۔ مہاجر بن ابی امیہ شہر صنعاء (ان کی موجودگی میں ان کے خلاف اسود عنسی نے صنعاء میں خروج کیا تھا)
10۔ زیاد بن لبید علاقہ حضرموت
11۔ عدی بن حاتم طی ٔ اور بنو اسد
12۔ مالک بن نُوَیرہ بنو حنظلہ
13۔ زبر قان بن بدر بنو سعد (کی ایک شاخ)
14۔ قیس بن عاصم بنو سعد (کی دوسری شاخ)
15۔ علاء بن الحضرمی علاقہ بحرین
16۔ علی بن ابی طالب علاقہ نجران (زکوٰۃ اور جزیہ دونوں وصول کرنے کے لیے )
واضح رہے کہ یہ سارے عمال محرم ۹ھ ہی میں روانہ نہیں کردیے گئے تھے۔ بلکہ بعض بعض کی روانگی خاصی تاخیر سے اس وقت عمل میں ائی تھی جب متعلقہ قبیلہ نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ البتہ اس اہتمام کے ساتھ ا ن عمال کی روانگی کی ابتدا محرم ۹ھ میں ہوئی تھی۔ اور اسی سے صلح حدیبیہ کے بعد اسلامی دعوت کی کامیابی کی وسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ باقی رہا فتح مکہ کے بعد کا دور تو اس میں تو لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے۔
سرایا
جس طرح قبائل کی طرف زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے عمال بھیجے گئے اسی طرح جزیرۃ العرب کے عام علاقوں میں امن وامان کے دور دورے کے باوجود مختلف مقامات پر متعدد فوجی مہمات بھی بھیجنی پڑیں۔ فہرست یہ ہے :
۱۔ سریہ عُیینہ بن حصن فزاری: ( محرم ۹ ھ)
عیینہ کو پچاس سواروں کی کمان دے کر بنوتمیم کے پاس بھیجا گیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ بنو تمیم نے قبائل کو بھڑکا کر جزیہ کی ادائیگی سے روک دیا تھا۔ اس مہم میں کوئی مہاجر یا انصاری نہ تھا۔
عیینہ بن حصن رات کو چلتے اور دن کو چھپتے ہوئے آگے بڑھے۔ یہاں تک کہ صحرا میں بنوتمیم پر ہلہ بول دیا۔ وہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور ان کے گیارہ آدمی ، اکیس عورتیں اور تیس بچے گرفتار ہوئے جنہیں مدینہ لاکر رملہ بنت حارث کے مکان میں ٹھہرایا گیا۔
پھر ان کے سلسلے میں بنوتمیم کے دس سردار آئے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر جاکر یوں آواز لگائی : اے محمد ! ہمارے پاس آؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چمٹ کرباتیں کرنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ ٹھہرے رہے۔ یہاں تک کہ ظہر کی نماز پڑھائی۔ اس کے بعد مسجد نبوی کے صحن میں بیٹھ گئے۔ انہوں نے فخر ومباہات میں مقابلہ کی خواہش ظاہر کی اور اپنے خطیب عطارد بن حاجب کو پیش کیا۔ اس نے تقریر کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطیب ِ اسلام حضرت ثابت بن قیس بن شماس کو حکم دیا ، اور انہوں نے جوابی تقریر کی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے شاعر زبرقان بن بدر کو آگے بڑھایا اور اس نے کچھ فخریہ اشعار کہے۔ اس کا جواب شاعرِ اسلام حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے دیا۔
جب دونوں خطیب اور دونوں شاعر فارغ ہوچکے تو اقرع بن حابس نے کہا : ان کا خطیب ہمارے خطیب سے زیادہ پُر زور اور ان کا شاعر ہمارے شاعر سے زیادہ پُر گو ہے۔ ان کی آوازیں ہماری آوازوں سے زیادہ اونچی ہیں اور ان کی باتیں ہماری باتوں سے زیادہ بلند پایہ ہیں۔ اس کے بعد ان لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بہترین تحائف سے نوازا اور ان کی عورتیں اور بچے انہیں واپس کردیئے۔[1]
۲۔ سریہ قطبہ بن عامر: (صفر ۹ ھ )
یہ سریہ تربہ کے قریب تبالہ کے علاقے میں قبیلہ خثعم کی ایک شاخ کی جانب روانہ کیا گیا۔ قطبہ بیس آدمیوں کے درمیان روانہ ہوئے۔ دس اونٹ تھے جن پر یہ لوگ باری باری سوار ہوتے تھے۔ مسلمانوں نے شبخون مارا۔ جس پر سخت لڑائی بھڑک اٹھی۔ اور فریقین کے خاصے افراد زخمی ہوئے۔ اور قطبہ کچھ دوسرے افراد سمیت مارے گئے۔ تاہم مسلمان بھیڑ بکریوں اور بال بچوں کو مدینہ ہانک لائے۔
۳۔ سریہ ضحاک بن سفیان کلابی: (ربیع الاول ۹ ھ )
یہ سریہ بنو کلاب کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے روانہ کیا گیا تھا لیکن انہوں نے انکار کرتے ہوئے جنگ چھیڑ دی مسلمانوں نے انہیں شکست دی اور ان کا ایک آدمی تہ تیغ کیا۔
۴۔ سریہ علقمہ بن مجرز مدلجی: (ربیع الآخر ۹ ھ )
انہیں تین سو آدمیوں کی کمان دے کر ساحل جدہ کی جانب روانہ کیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ کچھ حبشی ساحل جدہ کے قریب جمع ہوگئے تھے۔ اور اہل مکہ کے خلاف ڈاکہ زنی کرنا چاہتے تھے۔ علقمہ نے سمندر میں اتر کر ایک جزیرہ تک پیش قدمی کی۔ حبشیوں کو مسلمانوں کی آمد کا علم ہوا تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔[2]
۵۔ سریہ علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب: (ربیع الاول ۹ ھ )
انہیں قبیلہ طی کے ایک بُت کو ____جس کا نام قلس(کلیسا) تھا ____ڈھانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ آپ کی سرکردگی میں ایک سواونٹ اور پچاس گھوڑوں سمیت ڈیڑھ سو آدمی تھے۔ جھنڈیاں کالی اور پھریرا سفید تھا۔ مسلمانوں نے فجر کے وقت حاتم طائی کے محلہ پر چھاپہ مارکر قلس کو ڈھا دیا۔ اور قیدیوں ، چوپایوں اور بھیڑ بکریوں سے ہاتھ پُر کرلیے۔ انہیں قیدیو ں میں حاتم طائی کی صاحبزادی بھی تھیں۔ البتہ حاتم کے صاحبزادے عدی ملک شام بھاگ گئے تھے۔ مسلمانوں نے قلس کے خزانے میں تین تلواریں اور تین زرہیں پائیں۔ اور راستے میں مال غنیمت تقسیم کرلیا۔ البتہ منتخب مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علیحدہ کردیا اور آل ِ حاتم کو تقسیم نہیں کیا۔
مدینہ پہنچے تو حاتم کی صاحبزادی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رحم کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہاں جو آسکتا تھا لاپتہ ہے۔ والد گذرچکے ہیں اور میں بڑھیاہوں۔ خدمت کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ آپ مجھ پر احسان کیجیے ، اللہ آپ پر احسان کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : تمہارے لیے کون آسکتا تھا۔ بولیں : عدی بن حاتم۔ فرمایا : وہی جو اللہ اور رسول سے بھاگا ہے۔ پھر آپ آگے بڑھ گئے۔ دوسرے دن اس نے پھر یہی بات دہرائی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی فرمایا جو کل فرمایا تھا۔ تیسرے دن پھر اس نے وہی بات کہی تو آپ نے احسان فرماتے ہوئے اسے آزاد کردیا۔ اس وقت آپ کے بازو میں ایک صحابی تھے غالباً حضرت علی رضی اللہ عنہ ، انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا بھی سوال کرو۔ اس نے سواری کا سوال کیا۔ آپ نے سواری فراہم کرنے کا بھی حکم صادر فرمایا۔
حاتم کی صاحبزادی لوٹ کر اپنے بھائی عدی کے پاس ملک شام گئیں۔ جب ان سے ملاقات ہوئی توا نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کارنامہ انجام دیا ہے کہ تمہارے باپ بھی ویسا نہیں کرسکتے تھے۔ ان کے پاس رغبت یا خوف کے ساتھ جاؤ۔ چنانچہ عدی کسی امان یا تحریر کے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے گھر لے گئے اور جب وہ سامنے بیٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد وثنا کی پھر فرمایا : تم کس چیز سے بھاگ رہے ہو ؟ کیا لاالہ الا اللّٰہکہنے سے بھاگ رہے ہو؟اگر ایسا ہے تو بتاؤ کیا تمہیں اللہ کے سوا کسی اور معبود کا علم ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر گفتگو کی اس کے بعد فرمایا : اچھا اس سے بھاگتے ہو کہ اللّٰہ اکبرکہا جائے تو کیا تم اللہ سے بڑی کوئی چیز جانتے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سنو ! یہود پر اللہ کے غضب کی مار ہے اور نصاریٰ گمراہ ہیں۔ انہوں نے کہا: تو میں یک رُخا مسلمان ہوں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ فرطِ مسرت سے دمک اٹھا۔ اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے انہیں ایک انصاری کے ہاں ٹھہرادیا گیا اور وہ صبح وشام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے۔[1]
ابن اسحاق نے حضرت عدی سے یہ بھی روایت کی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے سامنے اپنے گھر میں بٹھایا تو فرمایا: او ____عدی بن حاتم ! کیا تم رکوسی نہ تھے ؟ عدی کہتے ہیں کہ میں نے کہا : کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اپنی قوم میں مال غنیمت کا چوتھائی لینے پر عمل پیرا نہیں تھے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو یہ تمہارے دین میں حلال نہیں۔ میں نے کہا: ہاں قسم اللہ کی، اور اسی سے میں نے جان لیا کہ واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ بات جانتے ہیں جو جانی نہیں جاتی۔[1]
مسند احمد کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عدی ! اسلام لاؤ سالم رہوگے۔ میں نے کہا : میں تو خود ایک دین کا ماننے والا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہارا دین تم سے بہتر طور سے جانتا ہوں۔ میں نے کہا : آپ میرا دین مجھ سے بہتر طور پر جانتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ! کیا ایسا نہیں کہ تم مذہباً رکوسی [2] ہو ، اور پھر بھی اپنی قوم کے مال غنیمت کا چوتھائی کھاتے ہو ؟ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے دین کی رو سے حلال نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات پر مجھے سرنگوں ہوجانا پڑا۔[3]
صحیح بخاری میں حضرت عدی سے مروی ہے کہ میں خدمت ِ نبوی میں بیٹھا تھا کہ ایک آدمی نے آکر فاقہ کی شکایت کی۔ پھر دوسرے آدمی نے آکر رہزنی کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عدی ! تم نے حِیْرَہ دیکھا ہے ؟ اگر تمہاری زندگی دراز ہوئی تو تم دیکھ لو گے کہ ہودج نشین عورت حیرہ سے چل کر آئے گی ، خانہ کعبہ کا طواف کرے گی اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا۔ اور اگر تمہاری زندگی دراز ہوئی تو تم کسریٰ کے خزانے فتح کرو گے۔ اور اگر تمہاری زندگی دراز ہوئی تو تم دیکھو گے کہ آدمی چلو بھر کر سونا یا چاندی نکالے گا اورایسے آدمی کو تلاش کر ے گا جو اسے قبول کرلے تو کوئی اسے قبول کرنے والا نہ ملے گا ۔ اسی روایت کے اخیر میں حضرت عدی کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ ہودج نشین عورت حِیْرَہ سے چل کر خانہ کعبہ کا طواف کرتی ہے اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں۔ اور میں خود ا ن لوگوں میں تھا جنہوں نے کِسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کیے۔ اور اگر تم لوگوں کی زندگی دراز ہوئی تو تم لوگ وہ چیز بھی دیکھ لوگے جو نبی ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی کہ آدمی چلو بھر سونا یا چاندی نکالے گا۔ الخ[4]