الرحیق المختوم
رفیق اعلیٰ کی جانب
الوداعی آثار :
جب دعوت دین مکمل ہوگئی اور عرب کی نکیل اسلام کے ہاتھ میں آگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جذبات واحساسات ، احوال وظروف اور گفتارو کردار سے ایسی علامات نمودار ہونا شروع ہوئیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حیات مستعار کو اور اس جہان فانی کے باشندگان کو الوداع کہنے والے ہیں۔ مثلا ً:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان ۱۰ ھ میں بیس دن اعتکاف فرمایا جبکہ ہمیشہ دس ہی دن اعتکاف فرمایاکرتے تھے، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو اس سال دو مرتبہ قرآن کا دَور کرایا جبکہ ہر سال ایک ہی مرتبہ دَور کرایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا : مجھے معلوم نہیں غالبا میں اس سال کے بعد اپنے اس مقام پر تم لوگوں سے کبھی نہ مل سکوں گا۔ جمرئہ عقبہ کے پاس فرمایا : مجھ سے اپنے حج کے اعمال سیکھ لو۔ کیونکہ میں اس سال کے بعد غالبا ًحج نہ کرسکوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایام تشریق کے وسط میں سورۂ نصر نازل ہوئی۔ اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا کہ اب دنیا سے روانگی کا وقت آن پہنچا ہے۔ اور یہ موت کی اطلاع ہے۔
اوائل صفر ۱۱ ھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دامنِ اُحد میں تشریف لے گئے۔ اور شہداء کے لیے اس طرح دعا فرمائی گویا زندوں اور مردوں سے رخصت ہو رہے ہیں۔ پھر واپس آکر منبر پر فروکش ہوئے۔ اور فرمایا : میں تمہارا میر کارواں ہوں۔ اور تم پر گواہ ہوں۔ واللہ! میں اس وقت اپنا حوض ( حوضِ کوثر ) دیکھ رہا ہوں۔ مجھے زمین اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کی گئی ہیں۔ اور واللہ! مجھے یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد شرک کروگے۔ بلکہ اندیشہ اس کا ہے کہ دنیا کے بارے میں تنافس کروگے۔‘‘ [1]
ایک روز نصف رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع تشریف لے گئے۔ اور اہل بقیع کے لیے دعائے مغفرت کی۔ فرمایا : اے قبر والو ! تم پر سلام ! لوگ جس حال میں ہیں اس کے مقابل تمہیں وہ حال مبارک ہو جس میں تم ہو۔ فتنے تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح ایک کے پیچھے ایک چلے آرہے ہیں۔ اور بعد والا پہلے سے زیادہ برا ہے۔ اس کے بعد یہ کہہ کر اہل قبور کو بشارت دی کہ ہم بھی تم سے آملنے والے ہیں۔
مرض کا آغاز:
۲۹ صفر ۱۱ ھ روز دوشنبہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں بقیع تشریف لے گئے۔ واپسی پر راستے ہی میں درد ِ سر شروع ہوگیا۔ اور حرارت اتنی تیز ہوگئی کہ سر پر بندھی ہوئی پٹی کے اوپر سے محسوس کی جانے لگی۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت کا آغاز تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت مرض میں گیارہ دن نماز پڑھائی۔ مرض کی کل مدت ۱۳ یا ۱۴ دن تھی۔
آخری ہفتہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت روز بروز بوجھل ہوتی جارہی تھی۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات سے پوچھتے رہتے تھے کہ میں کل کہاں رہوں گا ؟ میں کل کہاں رہوں گا ؟ اس سوال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقصود تھا ازواج مطہرات اسے سمجھ گئیں۔ چنانچہ انہوں نے اجازت دے دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں چاہیں رہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مکان میں منتقل ہوگئے۔ منتقلی کے وقت حضرت فضل بن عباس اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے درمیان ٹیک لگا کر چل رہے تھے۔ سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ اور پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ اس کیفیت کے ساتھ آپ حضرت عائشہ کے مکان میں تشریف لائے۔ اور پھر حیات ِمبارکہ کا آخری ہفتہ وہیں گذارا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا معوذات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حفظ کی ہوئی دعائیں پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دم کرتی رہتی تھیں۔ اور برکت کی امید میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر پھیرتی رہتی تھیں۔
وفات سے پانچ دن پہلے:
وفات سے پانچ دن پہلے روز چہار شنبہ (بدھ) کو جسم کی حرارت میں مزید شدت آگئی۔ جس کی وجہ سے تکلیف بھی بڑھ گئی۔ اور غَشی طاری ہوگئی۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھ پر مختلف کنوؤں کے سات مشکیز ے بہاؤ تاکہ میں لوگوں کے پاس جاکر وصیت کرسکوں۔ اس کی تکمیل کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوایک لگن میں بٹھا دیا گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر اتنا پانی ڈالا گیا کہ آپ ’’بس۔‘‘ ’’بس ‘‘ کہنے لگے۔
اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ تخفیف محسوس کی۔ اور مسجد میں تشریف لے گئے ۔ سر پر پٹی معیالی بندھی ہوئی تھی ۔ منبر پر فروکش ہوئے اور بیٹھ کر خطبہ دیا۔ یہ آخری بیٹھک تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا کی۔ پھر فر مایا: لوگو! میرے پاس آجاؤ۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آگئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا اس میں یہ فرمایا: ’’یہود ونصاریٰ پر اللہ کی لعنت کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنایا۔‘‘
ایک روایت میں ہے کہ ’’یہود ونصاریٰ پر اللہ کی مار کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنایا ۔‘‘[1] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : ’’تم لوگ میری قبر کو بت نہ بنانا کہ اس کی پوجا کی جائے۔‘‘[2]
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کیا اور فرمایا: ’’میں نے کسی کی پیٹھ پر کوڑا مار اہو تو یہ میری پیٹھ حاضر ہے ، وہ بدلہ لے لے۔ اور کسی کی آبرو پر بٹہ لگایا ہوتو یہ میری آبرو حاضر ہے، وہ بدلہ لے لے۔‘‘
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ ظہر کی نمازپڑھائی، اور پھر منبر پر تشریف لے گئے۔ اور عداوت وغیرہ سے متعلق اپنی پچھلی باتیں دہرائیں۔ ایک شخص نے کہا : آپ کے ذمہ میرے تین درہم باقی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل بن عباس سے فرمایا : انہیں ادا کردو۔ اس کے بعد انصار کے بارے میں وصیت فرمائی۔ فرمایا :
’’ میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں۔ کیونکہ وہ میرے قلب و جگر ہیں۔ انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کردی۔ مگر ان کے حقوق باقی رہ گئے ہیں۔ لہٰذا ان کے نیکوکار سے قبول کرنا۔ اور ان کے بد کار سے درگذر کرنا۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ لوگ بڑھتے جائیں گے اور انصار گھٹتے جائیں گے۔ یہاں تک کہ کھانے میں نمک کی طرح ہوجائیں گے۔ لہٰذا تمہارا جو آدمی کسی نفع اور نقصان پہنچانے والے کام کا والی ہو تو وہ ان کے نیکوکاروں سے قبول کرے اور ان کے بدکاروں سے درگذر کرے۔‘‘[3]
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ یاتو دنیا کی چمک دمک اور زیب و زینت میں سے جو کچھ چاہے اللہ اسے دے د ے ، یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اختیار کرلے تو اس بندے نے اللہ کے پاس والی چیز کو اختیار کرلیا۔‘‘ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ یہ بات سن کر ابو بکر رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ اور فرمایا : ہم اپنے ماں باپ سمیت آپ پر قربان۔ اس پر ہمیں تعجب ہوا۔ لوگوں نے کہا : اس بڈھے کو دیکھو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک بندے کے بارے میں یہ بتارہے ہیں کہ اللہ نے اسے اختیار دیا کہ دنیا کی چمک دمک اور زیب و زینت میں سے جو چاہے اللہ اسے دے دے یا وہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اختیار کرلے۔ اور یہ بڈھا کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے ماں باپ کے ساتھ آپ پر قربان۔ ( لیکن چند دن بعد واضح ہوا کہ) جس بندے کو اختیار دیا گیا تھا وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ صاحب علم تھے۔ [1]
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھ پر اپنی رفاقت اور مال میں سب سے زیادہ صاحب احسان ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ اور اگر میں اپنے رب کے علاوہ کسی اور کو خلیل بناتا تو ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیل بناتا لیکن (ان کے ساتھ) اسلام کی اخوت و محبت ( کا تعلق ) ہے۔ مسجد میں کوئی دروازہ باقی نہ چھوڑا جائے بلکہ اسے لازما ًبند کردیا جائے، سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دروازے کے۔[2]
چار دن پہلے:
وفات سے چار دن پہلے جمعرات کو جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت تکلیف سے دوچار تھے فرمایا : لاؤ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم لوگ کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ اس وقت گھر میں کئی آدمی تھے۔ جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے۔ بس اللہ کی یہ کتاب تمہارے لیے کافی ہے۔ اس پر گھر کے اندر موجود لوگوں میں اختلاف پڑگیا اور وہ جھگڑ پڑے۔ کوئی کہہ رہا تھا :لاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لکھ دیں۔ اور کوئی وہی کہہ رہاتھا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا۔ اس طرح لوگوں نے جب زیادہ شوروشغب اور اختلاف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔[3]
پھر اسی رو ز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت فرمائی۔ ایک اس بات کی وصیت کی یہود ونصاریٰ اور مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکال دینا۔ دوسرے اس بات کی وصیت کی کہ وفود کی اسی طرح نوازش کرنا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔ البتہ تیسری بات کو راوی بھول گیا۔ غالباً یہ کتاب وسنت کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کی وصیت تھی یا لشکر ِ اسامہ کو نافذ کرنے کی وصیت تھی۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد تھا کہ ’’نماز اور تمہارے زیر ِ دست ‘‘ یعنی غلاموں اور لونڈیوں کا خیال رکھنا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض کی شدت کے باوجود اس دن تک ، یعنی وفات سے چار دن پہلے (جمعرات ) تک تمام نمازیں خود ہی پڑھایا کرتے تھے۔ اس روز بھی مغرب کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے پڑھائی۔ اور اس میں سورۂ والمرسلات ِ عُرْفا پڑھی۔[4]
لیکن عشاء کے وقت مرض کا ثقل اتنا بڑھ گیا کہ مسجدمیں جانے کی طاقت نہ رہی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا : نہیں ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اور وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے لگن میں پانی رکھو۔ ہم نے ایسا ہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا۔ اور اس کے بعد اٹھنا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی۔ پھر افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ ہم نے کہا : نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کررہے ہیں۔ اس کے بعد دوبارہ اور پھر سہ بارہ وہی بات پیش آئی جو پہلی بار پیش آچکی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا ، پھر اٹھنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی۔ بالآخرآپ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو کہلوا بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ چنانچہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان ایام میں نماز پڑھائی۔ [1]نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ان کی پڑھائی ہوئی نمازوں کی تعداد سترہ ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تین یا چار بار مراجعہ فرمایا کہ امامت کا کا م حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بجائے کسی اور کو سونپ دیں۔ ان کا منشاء یہ تھا کہ لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بد شگون نہ ہوں۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بار انکار فرمادیا۔ اور فرمایا : تم سب یوسف والیاں ہو۔[2] ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔[3]
ایک دن یا دو دن پہلے :
ہفتہ یا اتوار کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں قدرے تخفیف محسوس کی، چنانچہ دو آدمیوں کے درمیان چل کرظہر کی نماز کے لیے تشریف لائے ۔ اس وقت ابو بکر رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کو نماز پڑھا رہے تھے ۔ وہ آپ کو دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور لانے والوں سے فرمایا کہ مجھے ان کے بازو میں بٹھا دو ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بائیں بٹھا دیا گیا ۔ اس کے بعد ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تکبیر سنا رہے تھے۔[1]
ایک دن پہلے:
وفات سے ایک دن پہلے بروز اتوار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام غلاموں کو آزاد فرمادیا۔ پاس میں چھ یا سات دینار تھے انہیں صدقہ کردیا۔ اپنے ہتھیار مسلمانوں کو ہبہ فرمادیے۔ رات میں چراغ جلانے کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے چراغ پڑوسی کے پاس بھیجا کہ اس میں اپنی کپی سے ذرا سا گھی ٹپکا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زِ رہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع (کوئی ۷۵ کلو ) جَو کے عوض رہن رکھی ہوئی تھی۔
حیات ِ مبارکہ کا آخری دن :
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دو شنبہ کے روز مسلمان نماز فجر میں مصروف تھے۔ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ امامت فرمارہے تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کا پردہ ہٹایا۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر جو صفیں باندھے نماز میں مصروف تھے نظر ڈالی، پھر تبسم فرمایا۔ ادھر ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنی ایڑ کے بل پیچھے ہٹے کہ صف میں جاملیں۔ انہوں نے سمجھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لانا چاہتے ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے اس اچانک ظہور سے ) مسلمان اس قدر خوش ہوئے کہ چاہتے تھے کہ نماز کے اندر ہی فتنے میں پڑجائیں۔ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مزاج پرسی کے لیے نماز توڑ دیں ) لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز پوری کر لو، پھر حجرے کے اندر تشریف لے گئے اور پردہ گرالیا۔[2]
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی دوسری نماز کا وقت نہیں آیا۔
دن چڑھے چاشت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلا یا اور ان سے کچھ سر گوشی کی، وہ رونے لگیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پھر بلا یا اور کچھ سرگوشی کی تو وہ ہنسنے لگیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ بعد میں ہمارے دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ (پہلی بار ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے سرگوشی کرتے ہوئے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی مرض میں وفات پاجائیں گے۔ اس لیے میں روئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے سرگوشی کرتے ہوئے بتایا کہ آپ کے اہل و عیال میں سب سے پہلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جاؤں گی۔ اس پر میں ہنسی۔[1]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بشارت بھی دی کہ آپ ساری خواتین ِ عالم کی سَیدہ (سردار ) ہیں۔[2]
اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس شدید کرب سے دوچار تھے اسے دیکھ کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بے ساختہ پکار اٹھیں۔ واکرب أباہ۔ ’’ہائے ابّا جان کی تکلیف ۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے ابّا پر آج کے بعد کوئی تکلیف نہیں۔[3]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو بلا کر چُوما اور ان کے بارے میں خیر کی وصیت فرمائی۔ ازاوجِ مطہرات رضی اللہ عنہم کو بلایا اور انہیں وعظ ونصیحت کی۔
ادھر لمحہ بہ لمحہ تکلیف بڑھتی جارہی تھی اور اس زہر کا اثر بھی ظاہر ہونا شروع ہوگیا تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر میں کھلایا گیا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتے تھے : اے عائشہ ! خیبر میں جو کھانا میں نے کھالیا تھا اس کی تکلیف برابر محسوس کررہا ہوں۔ اس وقت مجھے محسوس ہورہا ہے کہ اس زہر کے اثرسے میری رگِ جاں کٹی جارہی ہے۔[4]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی وصیت فرمائی۔ فرمایا : ((الصلاۃ الصلاۃ وما ملکت أیمانکم))’’نماز ، نماز ، اور تمہارے زیر ِ دست ‘‘ (یعنی لونڈی ، غلام ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ کئی بار دہرائے۔[5]
نزع رواں:
پھر نزع کی حالت شروع ہوگئی۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اُوپر سہارا دے کر ٹیک لیا۔ ان کا بیان ہے کہ اللہ کی ایک نعمت مجھ پر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں ، میری باری کے دن میرے لَبّے اور سینے کے درمیان وفات پائی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے وقت اللہ نے میرا لعاب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب اکٹھا کردیا۔ ہوا یہ کہ عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے۔ ان کے ہاتھ میں مسواک تھی۔ اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹیکے ہوئے تھی۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک چاہتے ہیں۔ میں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لے لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر سے اشارہ فرمایا کہ ہاں ! میں نے مسواک لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو آپ کو کڑی محسوس ہوئی۔ میں نے کہا: اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نرم کردوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے اشارے سے کہا ہاں ! میں نے مسواک نرم کردی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت اچھی طرح مسواک کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کٹورے میں پانی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی میں دونوں ہاتھ ڈال کر چہرہ پونچھتے جاتے تھے۔ اور فرماتے جاتے تھے۔ لاإلہ إلا اللّٰہ،اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ موت کے لیے سختیاں ہیں۔[1]
مسواک سے فارغ ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ یا انگلی اٹھا ئی ، نگاہ چھت کی طرف بلند کی۔ اور دونو ں ہونٹوں پر کچھ حرکت ہوئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کان لگایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : ’’ان انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین کے ہمراہ جنہیں تو نے انعام سے نوازا۔ اے اللہ ! مجھے بخش دے ،۔مجھ پر رحم کر ، اور مجھے رفیق ِ اعلیٰ میں پہنچا دے۔ اے اللہ ! رفیق اعلیٰ ۔‘‘ [2] آخری فقرہ تین بار دہرایا ، اور اسی وقت ہاتھ جھک گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفیق ِ اعلیٰ سے جا لاحق ہوئے۔ إناللّٰہ وإنا إلیہ راجعون۔
یہ واقعہ ۱۲/ ربیع الاول ۱۱ھ یوم دوشنبہ کو چاشت کی شدت کے وقت پیش آیا۔ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تریسٹھ سال چار دن ہوچکی تھی۔
غمہائے بیکراں :
اس حادثہ ٔ دلفگار کی خبر فورا پھیل گئی ، اہل ِ مدینہ پر کوہ غم ٹوٹ پڑا۔ آفاق واطراف تاریک ہوگئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اس سے بہتر اور تابناک دن میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اور جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اس سے زیادہ قبیح اور تاریک دن بھی میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ [3]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرطِ غم سے فرمایا:
((یا أبتاہ ، أجاب رباً دعاہ ، یا أبتاہ، من جنۃ الفردوس مأواہ، یا أبتاہ، إلی جبریل ننعاہ ۔)) [4]
’’ہائے ابا جان ! جنہوں نے پروردگار کی پکار پر لبیک کہا۔ ہائے ابا جان ! جن کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے۔ ہائے اباجان! ہم جبریل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موت کی خبر دیتے ہیں۔‘‘
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا موقف :
وفات کی خبر سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہوش جاتے رہے۔ انہوں نے کھڑے ہوکر کہنا شروع کیا : کچھ منافقین سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ جس طرح موسیٰ بن عمران علیہ السلام تشریف لے گئے تھے۔ اور اپنی قوم سے چالیس رات غائب رہ کر ان کے پاس پھر واپس آگئے تھے۔ حالانکہ واپسی سے پہلے کہا جارہا تھا کہ وہ انتقال کرچکے ہیں۔
اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ضرور پلٹ کر آئیں گے۔ اور ان لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالیں گے جو سمجھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت واقعہ ہوچکی ہے۔[1]
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا موقف :
ادھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سنح میں واقع اپنے مکان سے گھوڑے پر سوار ہو کر تشریف لائے۔ اور اُتر کر مسجد نبوی میں داخل ہوئے۔ پھر لوگوں سے کوئی بات کیے بغیر سیدھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قصد فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسدِ مُبارک دھار دار یمنی چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رُخ انو ر سے چادر ہٹائی۔ اور اسے چوما اور روئے۔ پھر فرمایا : میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ، اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو موت جمع نہیں کرے گا۔ جو موت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آچکی۔
اس کے بعد ابو بکر رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے۔ اس وقت بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے بات کررہے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : عمر ! بیٹھ جاؤ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کردیا۔ ادھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
(( أما بعد : من کان منکم یعبد محمداً صلی اللّٰہ علیہ وسلم فإن محمداً قد مات ومن کان منکم یعبد اللّٰہ فإن اللّٰه حي لایموت قال اللّٰہ:
﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللّٰهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللّٰهُ الشَّاكِرِينَ ﴾(آل عمران ۳: ۱۴۴)
’’اما بعد ! تم میں سے جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پوجا کرتا تھا تو (وہ جان لے ) کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی موت واقع ہوچکی ہے۔ اور تم میں سے جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو يقيناً اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے۔ کبھی نہیں مرے گا، اللہ کا ارشاد ہے۔ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)نہیں ہیں مگر رسول ہی۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گذر چکے ہیں تو کیا اگر وہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم)مرجائیں یا ان کی موت واقع ہو جائے یا وہ قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ اپنی ایڑ کے بل پلٹ جاؤ گے ؟ اور جو شخص اپنی ایڑ کے بل پلٹ جائے تو (یاد رکھے کہ ) وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور عنقریب اللہ شکر کرنے والوں کو جزادے گا۔‘‘
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جواب تک فرطِ غم سے حیران وششدر تھے انہیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا یہ خطا ب سن کر یقین آگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واقعی رحلت فرماچکے ہیں۔ چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ واللہ ! ایسا لگتا تھا گویا لوگوں نے جانا ہی نہ تھا کہ اللہ نے یہ آیت نازل کی ہے۔ یہاں تک کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تلاوت کی تو سارے لوگوں نے ان سے یہ آیت اخذ کی۔ اور اب جس کسی انسان کو میں سنتا تو وہ اسی کو تلاوت کررہا ہوتا۔
حضرت سعید رضی اللہ عنہ بن مسیب کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : واللہ ! میں نے جوں ہی ابو بکر رضی اللہ عنہ کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا خاک آلود ہوکر رہ گیا۔ (یا میری پیٹھ ٹوٹ کر رہ گئی ) حتیٰ کہ میرے پاؤں مجھے اٹھا ہی نہیں رہے تھے اور حتیٰ کہ ابو بکر کو اس آیت کی تلاوت کرتے سن کر میں زمین کی طرف لڑھک گیا۔ کیونکہ میں جان گیا کہ واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موت واقع ہوچکی ہے۔[1]
تجہیز وتکفین اور تدفین :
ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی کے معاملے میں اختلاف پڑ گیا۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں مہاجرین وانصار کے درمیان بحث ومناقشہ ہوا، حجت و گفتگو ہوئی۔ سوال وجواب ہوا۔ اور بالآخر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اتفاق ہوگیا۔ اس کا م میں دوشنبہ کا باقی ماندہ دن گذر گیا۔ اور رات آگئی۔ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین کے بجائے اس دوسرے کام میں مشغول رہے۔ پھر رات گذر گئی۔ اور منگل کی صبح ہوئی۔ اس وقت تک آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد مبارک ایک دھار دار یمنی چادر سے ڈھکا بستر ہی پر رہا۔ گھر کے لوگوں نے باہر سے دروازہ بند کردیا تھا۔
منگل کے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑے اتارے بغیر غسل دیا گیا۔ غسل دینے والے حضرات یہ تھے۔ حضرت عباس ، حضرت علی ، حضرت عباس کے دو صاحبزادگان فضل اور قثم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام شقران ، حضرت اسامہ بن زید اور اوس بن خولی رضی اللہ عنہم ۔ حضرت عباس ، فضل اور قثم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کروٹ بدل رہے تھے۔ حضرت اسامہ اور شقران رضی اللہ عنہما پانی بہا رہے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ غسل دے رہے تھے۔اور حضرت اوس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے ٹیک رکھا تھا۔[1]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی اور بیر کی پتی سے تین غسل دیا گیا۔ اور قباء میں واقع سعد بن خیثمہ کے غرس نامی کنویں سے غسل دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا پانی پیا کرتے تھے۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی چادروں میں کفنا یا گیا۔ ان میں کرتا اور پگڑی نہ تھی۔1بس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چادروں ہی میں لپیٹ دیا گیا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری آرام گاہ کے بارے میں بھی صحابہ کرام کی رائیں مختلف تھیں، لیکن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی نبی بھی نہیں اٹھایا گیا مگر اس کی تدفین وہیں ہوئی جہاں اٹھایا گیا۔ اس فیصلے کے بعد حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ بستر اٹھایا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تھی۔ اور اسی کے نیچے قبر کھودی۔ قبر لحد والی (بغلی ) کھودی گئی تھی۔
اس کے بعد باری باری دس دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حجرہ شریف میں داخل ہوکر نماز جنازہ پڑھی۔ کوئی امام نہ تھا۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خانوادہ ( بنو ہاشم ) نے نماز جنازہ پڑھی۔ پھر مہاجرین نے ، پھر انصار نے ، پھر مردوں کے بعد عورتوں نے ، اور ان کے بعد بچوں نے۔
نماز جنازہ پڑھنے میں منگل کا پورا دن گذر گیا ، اور چہار شنبہ (بدھ ) کی رات آگئی۔ رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد ِ پاک کو سپر دِ خاک کیا گیا۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کا علم نہ ہوا، یہاں تک کہ ہم نے بدھ کی رات کے درمیانی اوقات میں (اور ایک روایت کے مطابق ، آخر رات میں ) پھاؤڑوں کی آواز سنی۔[2]