الرحیق المختوم

خانہ نبوّت

۱۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا : ہجرت سے قبل مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گھرانہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر مشتمل تھا۔ شادی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پچیس سال تھی۔ اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر چالیس سال۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی تھیں۔ اور ان کے جیتے جی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی اور شادی نہیں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں حضرت ابراہیم کے ماسوا تمام صاحبزادے اور صاحبزادیاں ا ن ہی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھیں۔ صاحبزادگان میں سے تو کوئی زندہ نہ بچا۔ البتہ صاحبزادیاں حیات رہیں۔ ان کے نام یہ ہیں : زینب رضی اللہ عنہا ، رُقَیہّ رضی اللہ عنہا ، اُمِ کلثوم رضی اللہ عنہا ، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا ۔ زینب رضی اللہ عنہا کی شادی ہجرت سے پہلے ان کے پھوپھی زاد بھائی حضرت ابو العاص بن ربیع سے ہوئی۔ رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہما کی شادی یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی جنگ بدر اور جنگ احد کے درمیانی عرصہ میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ اور ان کے بطن سے حسن ، حسین رضی اللہ عنہما ، زینب اور ا م کلثوم رضی اللہ عنہما پیدا ہوئیں۔ معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امت کے بالمقابل یہ امتیازی خصوصیت حاصل تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف اغراض کے پیش نظر چار سے زیادہ شادیاں کرسکتے تھے۔ چنانچہ جن عورتوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقد فرمایا ان کی تعداد گیارہ تھی۔ جن میں سے نو عورتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے وقت حیات تھیں۔ اور دوعورتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں وفات پاچکی تھیں۔ (یعنی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور ام المساکین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہما ) ان کے علاوہ مزید دوعورتیں ہیں جن کے بارے میں اختلاف ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے عقد ہوا تھا یا نہیں لیکن ا س پر اتفاق ہے کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رخصت نہیں کیا گیا۔ ذیل میں ہم ازواج ِ مطہرات کے نام اور ان کے مختصر حالات ترتیب وار پیش کررہے ہیں۔ ۲۔ حضرت سَوْدَہ بنت زَمْعَہ رضی اللہ عنہا : ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے تقریباً ایک مہینہ بعد نبوت کے دسویں سال ماہ شوال میں شادی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے حضرت سَوْدَہ رضی اللہ عنہا اپنے چچیرے بھائی سکران بن عَمرو کے عقد میں تھیں۔ اور وہ انہیں بیوہ چھوڑ کر انتقال کر چکے تھے۔ حضرت سودہ کی وفات شوال ۵۴ ھ میں مدینہ کے اندر ہوئی۔ ۳۔ حضرت عائشہ صدیقہ بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا :ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے گیارھوں برس ماہ شوال میں شادی کی، یعنی حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے ایک سال بعد۔ اور ہجرت سے دوبرس پانچ ماہ پہلے۔ اس وقت ان کی عمر چھ برس تھی۔ پھر ہجرت کے سات ماہ بعد شوال ۱ ھ میں انہیں رخصت کیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر نو برس تھی۔ اور وہ باکرہ تھیں۔ ان کے علاوہ کسی اور باکرہ عورت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی نہیں کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے محبوب بیوی تھیں۔ اور امت کی عورتوں میں علی الاطلاق سب سے زیادہ فقیہ اور صاحب علم تھیں ۴۔ حضرت حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا : ان کے پہلے شوہر خنیس بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ تھے جو بدر اور احد کے درمیانی عرصہ میں رحلت کر گئے اور وہ بیوہ ہوگئیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کرلی ، شادی کا یہ واقعہ ۳ ھ کا ہے۔ ۵۔حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا :یہ قبیلہ بنو ہلال بن عامر بن صَعْصَعہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ مسکینوں پر رحم ومروت اوررقّت ورأفت کے سبب ان کا لقب اُمّ المساکین پڑ گیا تھا۔ یہ حضرت عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں۔ وہ جنگ اُحد میں شہید ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۴ ھ میں ان سے شادی کرلی۔ مگر صرف تین ماہ یا آٹھ ماہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں رہ کر ربیع الآخر یا ذی قعدہ ۴ ھ میں وفات پاگئیں۔ ۶۔ اُمّ سَلَمہ ہند بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا : یہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں۔ جمادی الآخر ۴ ھ میں حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا توان کے بعد شوال ۴ ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کرلی۔ ۷۔ زینب بنت جحش بن ریاب رضی اللہ عنہا :یہ قبیلہ بنو اسد بن خزیمہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کی صاحبزادی تھیں۔ ان کی شادی پہلے حضرت زید بن حارثہ سے ہوئی تھی۔ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا سمجھا جاتا تھا۔ لیکن حضرت زید رضی اللہ عنہ سے نباہ نہ ہوسکا اور انہوں نے طلاق دیدی۔ خاتمہ ٔ عدت کے بعد اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی:﴿ فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا﴾ (۳۳: ۳۷) ’’جب زید نے ان سے اپنی ضرورت ختم کر لی تو ہم نے انہیں آپ کی زوجیت میں دے دیا۔‘‘ انہیں کے تعلق سے سورۂ احزاب کی مزید کئی آیا ت نازل ہوئیں جن میں مُتَبنّیٰ (لے پالک ) کے قضیے کا دوٹوک فیصلہ کردیا گیا ۔ تفصیل آگے آرہی ہے۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی ذی قعدہ ۵ ھ میں یا اس سے کچھ عرصہ پہلےہوئی ۔ ۸۔ جُویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا : ان کے والد قبیلہ خزاعہ کی شاخ بنو المصطلق کے سردار تھے۔ حضرت جویریہ بنو المصطلق کے قیدیوں میں لائی گئی تھیں۔ اور حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے حصے میں پڑی تھیں۔ انہوں نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے مکاتبت کرلی۔ یعنی ایک مقررہ رقم کے عوض آزاد کردینے کا معاملہ طے کر لیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے مقررہ رقم ادا فرمادی اوران سے شادی کرلی۔ یہ شعبان ۵ ھ یا ۶ ھ کا واقعہ ہے۔ ۹۔ اُمِ حبیبہ رملہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا :یہ عبید اللہ بن جحش کے عقد میں تھیں۔ اور اس کے ساتھ ہجرت کر کے حبشہ بھی گئیں تھیں۔ لیکن عبید اللہ نے وہاں جانے کے بعد مرتد ہوکر عیسائی مذہب قبول کرلیا۔ اور پھر وہیں انتقال کرگیا۔ مگر اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنے دین اور اپنی ہجرت پر قائم رہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم ۷ ھ میں عَمرو بن اُمیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو اپنا خط دے کر نجاشی کے پاس بھیجا تو نجاشی کو یہ پیغام بھی دیا کہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کردے۔ اس نے امِ حبیبہ رضی اللہ عنہا کی منظوری کے بعدان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کردیا۔ اور شُرحبیل بن حسنہ کے ساتھ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا۔ ۱۰۔ حضرت صَفِیہ بنت حیی بن اَخطب رضی اللہ عنہا :یہ بنی اسرائیل سے تھیں۔ اور خیبر میں قید کی گئیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے منتخب فرمالیا۔ اور آزاد کرکے شادی کرلی۔ یہ فتح خیبر ۷ ھ کے بعد کا واقعہ ہے۔ ۱۱۔ حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا :یہ ام الفضل لبابہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی بہن تھیں۔ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ ۷ ھ میں عمرہ ٔ قضاء سے فارغ ہونے ____اور صحیح قول کے مطابق احرام سے حلال ہونے …کے بعد شادی کی۔ یہ گیارہ بیویاں ہوئیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد نکاح میں آئیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ورفاقت میں رہیں۔ ان میں سے دوبیویاں ،یعنی حضرت خدیجہ اور حضرت زینب ام المساکین رضی اللہ عنہا کی وفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں ہوئی۔ اور نو بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حیات رہیں۔ ا ن کے علاوہ دو اور خواتین جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رخصت نہیں کی گئیں۔ ان میں سے ایک قبیلہ بنو کلاب سے تعلق رکھتی تھیں۔ اور ایک قبیلہ کندہ سے، یہی قبیلہ کِنْدہ والی خاتون جونیہ کی نسبت سے معروف ہیں۔ ان کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقد ہوا تھا یانہیں ، اور ان کا نام ونسب کیا تھا اس بارے میں اہل ِ سیر کے درمیان بڑے اختلافات ہیں جن کی تفصیل کی ہم کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ جہاں تک لونڈیوں کا معاملہ ہے تو مشہور یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دولونڈیوں کو اپنے پاس رکھا۔ ایک ماریہ قبطیہ کو جنہیں مقوقس فرمانروائے مصر نے بطور ہدیہ بھیجا تھا۔ ان کے بطن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم پیدا ہوئے۔ جو بچپن ہی میں ۲۸ یا ۲۹ شوال ۱۰ ھ مطابق ۲۷ جنوری ۶۳۲ء کو مدینہ کے اندر انتقال کر گئے۔ دوسری لونڈی ریحانہ بنت زید تھیں۔ جو یہود کے قبیلہ بنی نضیر یا بنی قریظہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہ بنو قریظہ کے قیدیو ں میں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے منتخب فرمایا تھا، اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر دست تھیں۔ ان کے بارے میں بعض محققین کا خیال ہے کہ انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بحیثیت لونڈی نہیں رکھا تھا بلکہ آزاد کر کے شادی کرلی تھی لیکن ابن قیم کی نظر میں پہلا قول راجح ہے۔ ابو عبیدہ نے ان دولونڈیوں کے علاوہ مزید دو لونڈیوں کا ذکر کیا ہے۔ جس میں سے ایک کا نام جمیلہ بتایا جاتا ہے ، جوکسی جنگ میں گرفتار ہوکر آئی تھیں۔ اور دوسری کوئی اور لونڈی تھیں جنہیں حضرت زینب بنت جحش نے آپ کو ہبہ کیا تھا۔[1] یہاں ٹھہر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے ایک پہلو پر ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جوانی کے نہایت پر قوت اور عمدہ ایام، یعنی تقریباً تیس برس صرف ایک بیوی پر اکتفا کرتے ہوئے گذار دیے۔ اور وہ بھی ایسی بیوی پر جو تقریباً بڑھیا تھی، یعنی پہلے حضرت خدیجہ اور پھر حضرت سودہ رضی اللہ عنہا پر۔ تو کیا یہ تصور کسی بھی درجے میں معقول ہوسکتا ہے کہ اس طرح اتنا عرصہ گذار دینے کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ گئے تو آپ کے اندر یکایک جنسی قوت اس قدر بڑھ گئی کہ آپ کو پے در پے نو شادیاں کرنی پڑیں۔ جی نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ان دونو ں حصوں پر نظر ڈالنے کے بعد کوئی بھی ہوش مند آدمی اس تصور کو معقو ل تسلیم نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بہت ساری شادیاں کچھ دوسرے ہی اغراض ومقاصد کے تحت کی تھیں۔ جو عام شادیوں کے مقررہ مقصد سے بہت ہی زیادہ عظیم القدر اور جلیل المرتبہ تھے۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما سے شادی کرکے حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رشتہ ٔ مصاہرت قائم کیا ، اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے پے در پے دوصاحبزادیوں حضرت رقیہ پھر حضرت امِ کلثوم کی شادی کر کے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کر کے جو رشتہائے مُصَاہرت قائم کیے ان کا مقصود یہ تھا کہ آپ ان چاروں بزرگوں سے اپنے تعلقات نہایت پختہ کرلیں، کیونکہ یہ چاروں بزرگ پیچیدہ ترین مراحل میں اسلام کے لیے فداکاری وجاں سپاری کا جو امتیازی وصف رکھتے تھے وہ معروف ہے۔ عرب کا دستور تھا کہ وہ رشتہ ٔ مصاہرت کا بڑا احترام کرتے تھے۔ ان کے نزدیک دامادی کا رشتہ مختلف قبائل کے درمیان قربت کا ایک اہم باب تھا۔ اور داماد سے جنگ لڑنا اور محاذ آرائی کرنا بڑے شرم اور عار کی بات تھی۔ اس دستور کو سامنے رکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند شادیاں اس مقصدسے کیں کہ مختلف افراد اور قبائل کی اسلام دشمنی کا زور توڑدیں۔ اور ان کے بغض ونفرت کی چنگاری بجھادیں۔ چنانچہ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا قبیلہ ٔ بنی مخزوم سے تعلق رکھتی تھیں جو ابو جہل اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا قبیلہ تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کرلی تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ میں وہ سختی نہ رہی جس کا مظاہرہ وہ احد میں کرچکے تھے۔ بلکہ تھوڑے ہی عرصہ بعد انہوں نے اپنی مرضی خوشی اور خواہش سے اسلام قبول کرلیا۔ اسی طرح جب ابو سفیان کی صاحبزادی حضرت ام حبیبہ سے شادی کرلی تو پھر ابو سفیان آپ کے مد ِمقابل نہ آیا۔ اور جب حضرت جویریہ اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آگئیں۔ تو قبیلہ بنی المصطلق اور قبیلہ بنی نضیر نے محاذ آرائی چھوڑ دی۔ حضور کے عقد میں ان دونوں بیویوں کے آنے کے بعد تاریخ میں ان کے قبیلوں کی کسی شورش اور جنگی تگ ودَو کا سراغ نہیں ملتا۔ بلکہ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا تو اپنی قوم کے لیے ساری عورتوں سے زیادہ بابرکت ثابت ہوئیں۔ کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کرلی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے ایک سو گھرانوں کو جو قید میں تھے آزاد کردیا۔ اور کہا کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی ہیں۔ ان کے دلوں پر اس احسان کا جو زبردست اثر ہو ا ہوگا وہ ظاہر ہے۔ ان سب سے بڑی اور عظیم بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اَن گھڑ قوم کو تربیت دینے ، اس کا تزکیۂ نفس کرنے اور تہذیب وتمدن سکھا نے پر مامور تھے۔ جو تہذیب وثقافت سے ، تمدن کے لوا زمات کی پابندی سے اور معاشرے کی تشکیل وتعمیر میں حصہ لینے کی ذمہ داریوں سے بالکل نا آشنا تھی۔ اور اسلامی معاشرے کی تشکیل جن اصولوں کی بنیاد پر کرنی تھی ان میں مردوں اور عورتوں کے اختلاط کی گنجائش نہ تھی۔ لہٰذا عام اختلاط کے اس اصول کی پابندی کرتے ہوئے عورتوں کی براہ راست تربیت نہیں کی جاسکتی تھی۔ حالانکہ ان کی تعلیم وتربیت کی ضرورت مردوں سے کچھ کم اہم اور ضروری نہ تھی بلکہ کچھ زیادہ ہی ضروری تھی۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف یہی ایک سبیل رہ گئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف عمر اور لیاقت کی اتنی عورتوں کو منتخب فرمالیں جو اس مقصد کے لیے کافی ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تعلیم وتربیت دیدیں ، ان کا تزکیہ نفس فرمادیں۔ انہیں احکام شریعت سکھلادیں۔ اور اسلامی تہذیب وثقافت سے اس طرح آراستہ کردیں کہ وہ دیہاتی اور شہری ، بوڑھی اور جوان ہر طرح کی عورتوں کی تربیت کرسکیں اور انہیں مسائل ِ شریعت سکھا سکیں۔ اور اس طرح عورتوں میں تبلیغ کی مہم کے لیے کافی ہوسکیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خانگی حالات کو امت تک پہنچانے کا سہرا زیادہ تران امہات المومنین ہی کے سر ہے ان میں بھی بالخصوص وہ امہات المومنین جنہوں نے طویل عمر پائی۔ مثال کے طور پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ۔ کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال واقوال خوب خوب روایت کیے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نکاح ایک ایسی جاہلی رسم توڑنے کے لیے بھی عمل میں آیا تھا جو عرب معاشرہ میں پُشتہا پُشت سے چلی آرہی تھی ، اور بڑی پختہ ہوچکی تھی۔ یہ رسم تھی کسی کو متبنیٰ بنانے کی۔ متبنیٰ کو جاہلی دور میں وہی حقوق اور حرمتیں حاصل تھیں جو حقیقی بیٹے کو ہوا کرتی ہیں۔ پھر یہ دستور اور اصول عرب معاشرے میں اس قدر جڑ پکڑ چکا تھا کہ اس کا مٹانا آسان نہ تھا لیکن یہ اصول ان بنیاد وں اور اصولوں سے نہایت سختی کے ساتھ ٹکراتا تھا جنہیں اسلام نے نکاح ، طلاق ، میراث اور دوسرے معاملات میں مقرر فرمایا تھا۔ اس کے علاوہ جاہلیت کا یہ اصول اپنے دامن میں بہت سے ایسے مفاسد اور فواحش بھی لیے ہوئے تھا جن سے معاشرے کو پاک کرنا اسلام کے اولین مقاصد میں سے تھا۔ لہٰذا اس جاہلی اصول کو توڑنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے فرمادی۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا پہلے حضرت زید رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مُتبنیٰ (منہ بولے بیٹے) تھے۔ اور زید بن محمد کہے جاتے تھے، مگر دونو ں میں نباہ مشکل ہوگیا اور حضرت زید رضی اللہ عنہ نے طلاق دینے کا ارادہ کر لیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں گفتگو بھی کی یہ وہ وقت تھا جب تمام کفار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف محاذ آرا تھے۔ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالات کے اشارے یا اللہ تعالیٰ کے خبر دینے سے یہ بات جان چکے تھے کہ اگر زید رضی اللہ عنہ نے طلاق دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی عدت گذرنے کے بعد ان سے شادی کا حکم دیا جائے گا۔ اور اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بجا طور پر یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ اگر انہی حالات میں یہ شادی کرنی پڑ گئی تو منافقین ، مشرکین ، اور یہود بات کا بتنگڑ بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سخت پروپیگنڈہ کریں گے۔ اور سادہ لوح مسلمانوں کو طرح طرح کے وسوسوں میں مبتلا کر کے ان پر برے اثرات ڈالیں گے۔ اس لیے حضرت زید رضی اللہ عنہ نے جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دینے کے اپنے ارادے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نباہ کریں۔ اور انھیں طلاق نہ دیں تاکہ ان مشکل حالات میں اس شادی کا مرحلہ پیش نہ آئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی۔ اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عتاب فرمایا۔ ارشاد ہوا: ﴿ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللّٰهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللّٰهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ﴾(۳۳: ۳۷) ’’اور جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انعام کیا ہے (یعنی حضرت زید رضی اللہ عنہ سے ) کہ تم اپنے اوپر اپنی بیوی کو روک رکھو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نفس میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا۔ اور آپ لوگوں سے ڈررہے تھے حالانکہ اللہ زیادہ مستحق تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ڈرتے۔‘‘ بالآخر حضرت زید رضی اللہ عنہ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے ہی دی۔ پھر ان کی عدت گذر گئی تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کا فیصلہ نازل ہوا، اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ نکاح لازم کردیا تھا۔ اور کوئی اختیار اور گنجائش نہیں چھوڑی تھی۔ اس سلسلے میں نازل ہونے والی آیت کریمہ یہ ہے : ﴿ فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ﴾ (۳۳: ۳۷) ’’جب زید نے اس سے اپنی ضرورت پوری کرلی تو ہم نے اس کی شادی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کردی تاکہ مومنین پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں پر کوئی حرج نہ رہ جائے جبکہ وہ منہ بولے بیٹے ان سے اپنی حاجت پوری کرلیں۔‘‘ اس کامقصد یہ تھا کہ منہ بولے بیٹوں سے متعلق جاہلی اصول عملاً بھی توڑ دیا جائے ، جس طرح اس سے پہلے اس ارشاد کے ذریعہ قولاً توڑا جاچکا تھا۔ ﴿ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ ﴾ (۳۳: ۵) ’’انہیں ان کے باپ کی نسبت سے پکارو ، یہی اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔‘‘ ﴿ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ﴾ (۳۳: ۴۰) ’’محمد ، تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔‘‘ اس موقع پر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جب معاشرے میں کوئی رواج اچھی طرح جڑ پکڑ لیتا ہے تو محض بات کے ذریعے اسے مٹانایا اس میں تبدیلی لانا بیشتر اوقات ممکن نہیں ہوا کرتا۔ بلکہ جو شخص اس کے خاتمے یا تبدیلی کا داعی ہو اس کا عملی نمونہ موجود رہنا بھی ضروری ہوجاتا ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمانوں کی طرف سے جس حرکت کا ظہور ہوا اس سے اس حقیقت کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے۔ اس موقع پر کہاں تو مسلمانوں کی فداکاری کا یہ عالم تھا کہ جب عروہ بن مسعود ثَقفی نے انہیں دیکھا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوک اور کھنکار بھی ان میں سے کسی نہ کسی صحابی کے ہاتھ ہی میں پڑ رہا ہے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضوفرماتے ہیں تو صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو سے گرنے والا پانی لینے کے لیے اس طرح ٹوٹے پڑ رہے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے آپس میں الجھ پڑیں گے۔ جی ہاں ! یہ وہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے جو درخت کے نیچے موت یا عدم فرار پر بیعت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جارہے تھے اور یہ وہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے جن میں ابو بکر و عمر جیسے جاں نثاران رسول بھی تھے۔ لیکن انہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ۔۔ جو آپ پر مر مٹنا اپنی انتہائی سعادت و کامیابی سمجھتے تھے ۔۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کا معاہدہ طے کرلینے کے بعد حکم دیا کہ اٹھ کر اپنی ہدی ( قربانی کے جانور ) ذبح کر دیں تو آپا کے حکم کی بجاآوری کے لیے کوئی ٹس سے مس نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قلق و اضطراب سے دوچار ہوگئے۔ لیکن جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چپ چاپ اپنا جانور ذبح کردیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تو ہر شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کی پیروی کے لیے دوڑ پڑا۔ اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے لپک لپک کر اپنے جانور ذبح کردیے۔ اس واقعہ سے سمجھا جاسکتا ہے کہ کسی پختہ رواج کو مٹانے کے لیے قول ا ور عمل کے اثرات میں کتنا زیادہ فرق ہے۔ اس لیے متبنی کا جاہلی اصول عملی طور پر توڑنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح آپ کے منہ بولے بیٹے حضرت زید کی مطلقہ سے کرایا گیا۔ اس نکاح کا عمل میں آنا تھا کہ منافقین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہایت وسیع پیمانے پر جھوٹے پروپیگنڈے شروع کردیے۔ اور طرح طرح کے وسوسے اور افواہیں پھیلائیں جس کے کچھ نہ کچھ اثرات سادہ لوح مسلمانوں پر بھی پڑے۔ اس پروپیگنڈے کو تقویت پہنچانے کے لیے ایک ’’ شرعی‘‘ پہلو بھی منافقین کے ہاتھ آگیا تھا کہ حضرت زینب آپ کی پانچویں بیوی تھیں۔ جبکہ مسلمان بیک وقت چار بیویوں سے زیادہ کی حلت جانتے ہی نہ تھے۔ ا ن سب کے علاوہ پروپیگنڈہ کی اصل جان یہ تھی کہ حضرت زید ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے سمجھے جاتے تھے۔ اور بیٹے کی بیوی سے شادی کرنا نہایت گندی فحش کاری تھی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے سورہ ٔ احزاب میں ان دونوں موضوع سے متعلق کافی شافی آیا ت نازل کیں اورصحابہ کو معلوم ہوگیا کہ اسلام میں منہ بولے بیٹے کی کوئی حیثیت نہیں۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ نہایت بلند پایہ اور مخصوص مقاصد کے تحت اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصیت کے ساتھ شادی کی تعداد کے سلسلے میں اتنی وسعت دی ہے جو کسی اور کو نہیں دی گئی ہے۔ امہات المومنین کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہائش نہایت شریفانہ ، باعزت ، بلند پایہ اور عمدہ انداز کی تھی۔ ازواج مطہرات بھی شرف ، قناعت ، صبر ، تواضع ، خدمت اور ازدواجی حقوق کی نگہداشت کا مرقع تھیں۔ حالانکہ آپ بڑی روکھی پھیکی اور سخت زندگی گذار رہے تھے جسے برداشت کرلینا دوسروں کے بس کی بات نہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے علم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میدے کی نرم روٹی کھائی ہو یہاں تک اللہ سے جاملے۔ اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھ سے کبھی بھُنی ہوئی بکری دیکھی۔ [1]حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ دو دو ماہ گذر جاتے ، تیسرے مہینے کا چاند نظر آجاتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آگ نہ جلتی۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ تب آپ لوگ کیا کھاتی تھیں؟ فرمایا کہ بس دو کالی چیزیں، یعنی کھجور اور پانی۔[2]اس مضمون کی احادیث بکثرت ہیں۔ اس تنگی و ترشی کے باوجود ازواج مطہرات سے کوئی لائق عتاب حرکت صادرنہ ہوئی ......صرف ایک دفعہ ایسا ہوا اور وہ بھی اس لیے کہ ایک تو انسانی فطرت کا تقاضا ہی کچھ ایسا ہے۔ دوسرے اسی بنیاد پر کچھ احکامات مشروع کرنے تھے ____چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسی موقع پر آیت تخییر نازل فرمائی۔ جو یہ تھی۔ ﴿ يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا (28) وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللّٰهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا ﴾(۳۳: ۲۸ ،۲۹) ’’اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دوکہ اگر تم دنیا کی زندگی اور زینت چاہتی ہوتوآؤ۔ میں تمہیں ساز وسامان دے کر بھلائی کے ساتھ رخصت کردوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اوردارِ آخرت کو چاہتی ہو تو بے شک! اللہ نے تم میں سے نیکوکاروں کے لیے زبردست اجر تیا ر کر رکھا ہے۔‘‘ اب ان ازواج ِ مطہرات کے شرف اور عظمت کا اندازہ کیجیے کہ ان سب نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ترجیح دی۔ اور ان میں سے کوئی ایک بھی دنیا کی طرف مائل نہ ہوئیں۔ اسی طرح سو کنوں کے درمیان جو واقعات روز مرہ کا معمول ہوا کرتے ہیں ، ازواج ،مطہرات کے درمیان کثرت تعداد کے باوجود اس طرح کے واقعات شاذ ونادر ہی پیش آئے۔ اور وہ بھی بتقاضے بشریت۔ اور اس پر بھی جب اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تودوبار ہ اس طرح کی کسی حرکت کا ظہورنہیں ہوا۔ سورۂ تحریم کی ابتدائی پانچ آیات میں اسی کا ذکر ہے۔ اخیر میں یہ عرض کردینا بھی بیجا نہ ہوگا کہ ہم اس موقع پر تعددِ ازواج کے موضوع پر بحث کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ کیونکہ جو لوگ اس موضوع پر سب سے زیادہ لے دے کرتے ہیں۔ یعنی باشندگان ِ یورپ وہ خود جس طرح کی زندگی گذار رہے ہیں ، جس تلخی وبدبختی کا جام نوش کررہے ہیں، جس طرح کی رسوائیوں اور جرائم میں لت پت ہیں ، اور تعددِ ازواج کے اصول سے منحرف ہوکر جس قسم کے رنج والم اور مصائب کا سامنا کررہے ہیں وہ ہر طرح کی بحث وجدل سے مستغنی کردینے کے لیے کافی ہے۔ اہل یورپ کی بد بختانہ زندگی تعدد ازواج کے اصول کے مبنی برحق ہونے کی سب سے سچی گواہ ہے اور اصحابِ نظر کے لیے اس میں بڑی عبرت ہے۔