الرحیق المختوم

اخلاق واوصاف

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے جمال ِ خَلق اور کمال ِ خُلق سے مُتّصِف تھے جو حیطہ ٔ بیان سے باہر ہے۔ اس جمال وکمال کا اثر یہ تھا کہ دل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور قدر ومنزلت کے جذبات سے خود بخود لبریز ہوجاتے تھے۔ چنانچہ آپ کی حفاظت اور اجلال وتکریم میں لوگوں نے ایسی ایسی فدا کاری وجاں نثاری کا ثبوت دیا جس کی نظیر دنیا کی کسی اور شخصیت کے سلسلے میں پیش نہیں کی جاسکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفقاء اور ہم نشین وارفتگی کی حد تک آپ سے محبت کرتے تھے۔ انہیں گوارا نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خراش آجائے، خواہ اس کے لیے ان کی گردنیں ہی کیوں نہ کاٹ دی جائیں۔ اس طرح کی محبت کی وجہ یہی تھی کہ عادتاً جن کمالات پر جان چھڑ کی جاتی ہے ان کمالات سے جس قدر حصہ وافر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہواتھا کسی اور انسان کو نہ ملا۔ ذیل میں ہم عاجزی وبے مائیگی کے اعتراف کے ساتھ ان روایات کا خلاصہ پیش کررہے ہیں جن کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جمال وکمال سے ہے۔ حُلیہ مُبارک : ہجرت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُمّ ِ معبد خُزاعیہ کے خیمے سے گذرے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کے بعد اپنے شوہر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کاجو نقشہ کھینچا وہ یہ تھا۔ چمکتا رنگ ، تابناک چہرہ ، خوبصورت ساخت ، نہ توند لے پن کا عیب ، نہ گنجے پن کی خامی ، جمال جہاں تاب کے ساتھ ڈھلا ہوا پیکر ، سرمگیں آنکھیں ، لمبی پلکیں ، بھاری آواز، لمبی گردن ، سفید وسیاہ آنکھیں ، سیاہ سرمگیں پلکیں ، باریک اور باہم ملے ہوئے ابرو ، چمکدار کالے بال ، خاموش ہوں تو باوقار ، گفتگو کریں تو پرکشش ، دور سے (دیکھنے میں) سب سے تابناک و پُر جمال ،قریب سے سب سے خوبصورت اور شیریں ، گفتگو میں چاشنی، بات واضح اور دوٹوک ، نہ مختصر نہ فضول ، انداز ایسا کہ گویا لڑی سے موتی جھڑ رہے ہیں۔ درمیانہ قد ، نہ ناٹا کہ نگاہ میں نہ جچے، نہ لمبا کہ ناگوار لگے ، دوشاخوں کے درمیان ایک شاخ جو تینوں میں سب سے زیادہ تازہ وخوش منظر وپُر رونق ، رفقاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد حلقہ بنائے ہوئے ، کچھ فرمائیں تو توجہ سے سنتے ہیں۔ کوئی حکم دیں تو لپک کر بجالاتے ہیں مطاع ومکرم نہ ترش رو، نہ لغو گو۔[1] حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : آپ نہ لمبے تڑنگے تھے نہ ناٹے کھوٹے ، لوگوں کے حساب سے درمیانہ قد کے تھے ، بال نہ زیادہ گھنگریالے تھے نہ بالکل کھڑے کھڑے ، دونوں کے بیچ بیچ کی کیفیت تھی ، رخسار نہ بہت زیادہ پُر گوشت تھا ، نہ ٹھڈی چھوٹی اور پیشانی پست ، چہرہ کسی قدر گولائی لیے ہوئے تھا۔ رنگ گورا گلابی، آنکھیں سرخی مائل ، پلکیں لمبی ، جوڑوں اور مونڈھوں کی ہڈیاں بڑی بڑی ، سینہ پر ناف تک بالوں کی ہلکی سی لکیر ، بقیہ جسم بال سے خالی ، ہتھیلی اور پاؤں پر گوشت ، چلتے تو قدرے جھٹکے سے پاؤں اٹھا تے۔ اور یوں چلتے گویا کسی ڈھلوان پر چل رہے ہیں، جب کسی طرف ملتفت ہوتے تو پورے وجود کے ساتھ ملتفت ہوتے ، دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سارے انبیاء کے خاتم تھے۔ سب سے زیادہ سخی دست اور سب سے بڑھ کر جرأت مند، سب سے زیادہ صادق اللہجہ اور سب سے بڑھ کر عہد وپیمان کے پابندِ وفاء۔ سب سے زیادہ نرم طبیعت اور سب سے شریف ساتھی۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچانک دیکھتا ہیبت زدہ ہوجاتا۔ جوجان پہچان کے ساتھ ملتا محبوب رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصف بیان کر نے والا یہی کہہ سکتا ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا نہیں دیکھا۔[1] حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر بڑا تھا۔ جوڑوں کی ہڈیاں بھاری بھاری تھیں۔ سینے کے درمیان بال کی لمبی لکیر تھی۔ جب آپ چلتے تو قدرے جھک کرچلتے گویا کسی ڈھلوان سے اتر رہے ہیں۔[2] حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دہانہ کشادہ تھا۔ آنکھیں ہلکی سُرخی لیے ہوئے ، اور ایڑیاں باریک۔[3] حضرت ابو الطفیل کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گورے رنگ ، پُر ملاحت چہرے اور میانہ قدر وقامت کے تھے۔[4] حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیاں کشادہ تھیں ، اور رنگ چمکدار ، نہ خالص سفید ، نہ گندم گوں، وفات کے وقت تک سر اور چہرے کے بیس بال بھی سفید نہ ہوئے تھے۔[5]صرف کنپٹی کے بالوں میں سفیدی تھی ، اور چند بال سر کے سفید تھے۔ [6] حضرت ابوجُحَیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے نچلے ہونٹ کے نیچے عنفقہ (داڑھی بچہ ) میں سفیدی دیکھی۔[7] حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عنفقہ (داڑھی بچہ ) میں چند بال سفید تھے۔[8] حضرت براء کا بیان ہے کہ آپ کا پیکر درمیانی تھا۔ دونو ں کندھوں کے درمیان دوری تھی۔ بال دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔ میں نے آپ کو سرخ جوڑا زیب تن کیے ہوئے دیکھا، کبھی کوئی چیز آپ سے زیادہ خوبصورت نہ دیکھی۔[1] پہلے آپ اہل کتاب کی موافقت پسند کرتے تھے ، اس لیے بال میں کنگھی کرتے تو مانگ نہ نکالتے۔ لیکن بعد میں مانگ نکالا کرتے تھے۔[2] حضرت براء کہتے ہیں : آپ کا چہرہ سب سے زیادہ خوبصورت تھا اور آپ کے اخلاق سب سے بہتر تھے۔[3]ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ تلوار جیسا تھا۔ انہوں نے کہا : نہیں بلکہ چاند جیسا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ کا چہرہ گول تھا۔[4] ربیع بنت معوذ کہتی ہیں کہ اگر تم حضور کو دیکھتے تو لگتا کہ تم نے طلوع ہوتے ہوئے سورج کو دیکھا ہے۔[5] حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک بار چاندنی رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ پر سُرخ جوڑا تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ، اور چاند کودیکھتا۔ آخر (اسی نتیجہ پر پہنچا کہ ) آپ چاند سے زیادہ خوبصورت ہیں۔[6] حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز نہیں دیکھی لگتا تھا سورج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں رواں دواں ہے۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو تیز رفتار نہیں دیکھا۔ لگتا تھا زمین آپ کے لیے لپیٹی جارہی ہے۔ ہم تو اپنے آپ کو تھکا مارتے تھے۔ اور آپ بالکل بے فکر۔[7] حضرت کعب بن مالک کا بیان ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوتے تو چہرہ دمک اٹھتا ، گویا چاند کا ایک ٹکڑا ہے۔[8] ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف فرماتھے۔ پسینہ آیا تو چہرے کی دھاریاں چمک اٹھیں۔ یہ کیفیت دیکھ کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ابو کبیر ہذلی کا شعر پڑھا: وإذا نظرت إلی أسرۃ وجہہ برقت کبرق العارض المتہلل [9] ’’جب ان کے چہرے کی دھاریاں دیکھو تو وہ یوں چمکتی ہیں جیسے روشن بادل چمک رہا ہو۔‘‘ ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کو دیکھ کر یہ شعر پڑھتے : أمین مصطفی بالخیر یدعو کضوء البدر زایلہ الظلام [1] ’’آپ امین ہیں چنیدہ وبرگزید ہ ہیں۔ خیر کی دعوت دیتے ہیں۔ گویا ماہ کامل کی روشنی ہیں۔ جس سے تاریکی آنکھ مچولی کھیل رہی ہے۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ زُہیر کا یہ شعر پڑھتے جو ہرم بن سنان کے بارے میں کہا گیا تھا کہ لو کنت من شئ سوی البشر کنت المضئ للیلۃ البدر ’’اگر آپ بشر کے سوا کسی اور چیز سے ہوتے تو آپ ہی چودھویں کی رات کو روشن کرتے۔‘‘ پھر فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی تھے۔‘‘[2] جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غضب ناک ہوتے تو چہرہ سرخ ہوجاتا گویا دونوں رخساروں میں دانۂ انار نچوڑ دیا گیا ہے۔[3] حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں قدرے پتلی تھیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنستے تو صرف تبسم فرماتے (آنکھیں سرمگیں تھیں ) تم دیکھتے تو کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھوں میں سرمہ لگا رکھا ہے حالانکہ سرمہ نہ لگا ہو تا۔[4] حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کے دونوں دانت الگ الگ تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرماتے تو ان دانتوں کے درمیان سے نور جیسا نکلتا دکھائی دیتا۔[5] گردن گویا چاندی کی صفائی لیے ہوئے گڑیا کی گردن تھی، پلکیں طویل، داڑھی گھنی ، پیشانی کشادہ ، ابرو پیوستہ اور ایک دوسرے سے الگ ، ناک اونچی ، رخسار ہلکے ، لبہ سے ناف تک چھڑی کی طرح دوڑا ہوا بال ، اور اس کے سوا شکم اور سینے پر کہیں بال نہیں ، البتہ بازو اور مونڈھوں پر بال تھے ، شکم اور سینہ برابر ، سینہ مسطح اور کشادہ ، کلائیاں بڑی بڑی ، ہتھیلیاں کشادہ ، قد کھڑا ، تلوے خالی ، اعضاء بڑے بڑے ، جب چلتے تو جھٹکے کے ساتھ چلتے ، قدرے جھکاؤ کے ساتھ آگے بڑھتے ، اور سہل رفتارسے چلتے۔ [6] حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی حریر ودیبا ج نہیں چھویا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے نرم رہا ہو۔ اور نہ کبھی کوئی عنبر یا مشک یا کوئی ایسی خوشبو سونگھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے بہتر رہی ہو۔[7] حضرے ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اپنے چہرہ پر رکھا تو وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبو دار تھا۔[8] حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ ____جو بچے تھے ____کہتے ہیں : آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے رخسار پر ہاتھ پھیرا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایسی ٹھنڈک اور ایسی خوشبو محسوس کی گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عطار کے عطر دانسے نکالا ہے۔[1] حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ گویا موتی ہوتا تھا۔ اور حضرت اُم سُلَیْم کہتی ہیں کہ یہ پسینہ ہی سب سے عمدہ خوشبو ہوا کرتی تھی۔[2] حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی راستے سے تشریف لے جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی اور گذرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم یا پسینہ کی خوشبو کی وجہ سے جان جاتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے تشریف لے گئے ہیں۔[3] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی جو کبوتر کے انڈے جیسی اور جسم مُبارک ہی کے مشابہ تھی۔ یہ بائیں کندھے کی کری (نرم ہڈی) کے پاس تھی۔ اس پر مسوں کی طرح تلوں کا جمگھٹ تھا۔[4] کمال ِنفس اور مکارمِ اخلاق: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فصاحت وبلاغت میں ممتاز تھے۔ آپ طبیعت کی روانی ، لفظ کے نکھار ، فقروں کی جزالت، معانی کی صحت ، اور تکلف سے دوری کے ساتھ ساتھ جوامع الکلم (جامع باتوں ) سے نوازے گئے تھے۔ آپ کو نادر حکمتوں اور عرب کی تمام زبانوں کا علم عطا ہو ا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر قبیلے سے اسی کی زبان اور محاوروں میں گفتگو فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں بدویوں کا زورِ بیان اور قوت ِ تخاطب اور شہریوں کی شستگی ٔ الفاظ اور شفتگی ٔوشائستگی جمع تھی اور وحی پر مبنی تائید ربانی الگ سے۔ بُردباری ، قوت ِ برداشت ، قدرت پاکر درگذر اور مشکلات پر صبر ایسے اوصاف تھے جن کے ذریعہ اللہ نے آپ کی تربیت کی تھی۔ ہر حلیم وبردبارکی کو ئی نہ کوئی لغزش اور کوئی نہ کوئی ہفوات جانی جاتی ہے ، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بلندیٔ کردار کا عالم یہ تھا کہ آپ کے خلاف دشمنوں کی ایذا رسانی اور بدمعاشوں کی خود سری و زیادتی جس قدر بڑھتی گئی ، آپ کے صبر و حلم میں اسی قدر اضافہ ہوتا گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو کاموں کے درمیان اختیار دیا جاتا تو آپ وہی کام اختیار فرماتے جو آسان ہوتا ، جب تک کہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا۔ اگر گناہ کاکام ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑھ کر اس سے دور رہتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے نفس کے لیے انتقام نہ لیا، البتہ اگر اللہ کی حرمت چاک کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے لیے انتقام لیتے۔[5] آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑھ کر غیظ و غضب سے دور تھے۔ اور سب سے جلد راضی ہوجاتے تھے۔ جود و کرم کا وصف ایسا تھا کہ اس کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کی طرح بخشش و نوازش فرماتے تھے جسے فقر کا اندیشہ نہ ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑھ کر پیکر جود و سخا تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دریائے سخاوت رمضان میں اس وقت زیادہ جوش پر ہوتا جب حضرت جبریل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات فرماتے۔ اور حضرت جبریل رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر رات ملاقات فرماتے۔ اور قرآن کا دور کراتے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر کی سخاوت میں ( خزائن رحمت سے مالا مال کرکے ) بھیجی ہوئی ہواسے بھی زیادہ پیش پیش ہوتے تھے۔[1] حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ ایسا کبھی نہ ہوا کہ آپ سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ نے نہیں کہہ دیا ہو۔[2] شجاعت ، بہادری اور دلیری میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام سب سے بلند اور معروف تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ دلیر تھے۔ نہایت کٹھن اور مشکل مواقع پر جبکہ اچھے اچھے جانبازوں اور بہادروں کے پاؤں اکھڑ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ برقرار رہے اور پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے ہی برھتے گئے۔ پائے ثبات میں ذرالغزش نہ آئی۔ بڑے بڑے بہادر بھی کبھی نہ کبھی بھاگے اور پسپا ہوئے ہیں۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ بات کبھی نہیں پائی گئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب زور کارَن پڑتا اور جنگ کے شعلے خوب بھڑک اٹھتے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آڑ لیا کر تے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی شخص دشمن کے قریب نہ ہوتا۔ [3]حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک رات اہل مدینہ کو خطرہ محسوس ہوا۔ لوگ آوازکی طرف دوڑے۔ راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے ہوئے ملے۔ ا ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے پہلے ہی آواز کی جانب پہنچ (کر خطرے کے مقام کا جائزہ لے ) چکے تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک ننگے گھوڑے پر سوار تھے۔ گردن میں تلوار حمائل کر رکھی تھی۔ اور فرمارہے تھے : ڈرو نہیں ، ڈرو نہیں۔[4] (کوئی خطرہ نہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ حیا دار اور پست نگاہ تھے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ پردہ نشین کنواری عورت سے بھی زیادہ حیا دار تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بات ناگوارگزرتی تو چہرے سے پتہ لگ جاتا۔[5]اپنی نظریں کسی کے چہرے پر گاڑتے نہ تھے۔ نگاہ پست رکھتے تھے اور آسمان کی بہ نسبت زمین کی طرف نظر زیادہ دیر تک رہتی تھی۔ عموماً نیچی نگاہ سے تاکتے تھے۔ حیا اور کرم نفس کا عالم یہ تھا کہ کسی سے ناگوار بات رُودررُو نہ کہتے۔ اور نہ کسی کی کوئی ناگوار بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی تو نام لے کر ا س کا ذکر کرتے۔ بلکہ یوں فرماتے کہ کیا بات ہے کہ کچھ لوگ ایسا کررہے ہیں۔ فَرزْدَق کے اس شعر کے سب سے زیادہ صحیح مصداق آپ تھے۔ یغضی حیاء ویغضی من مہابتہ فلا یکلم إلا حین یبتسم آپ حیاء کے سبب نگاہ پست رکھتے ہیں۔ اور آپ کی ہیبت کے سبب نگاہیں پست رکھی جاتی ہیں، چنانچہ آپ سے اسی وقت گفتگو کی جاتی جب ہے آپ تبسم فرمارہے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ عادل ، پاک دامن ، صادق اللہجہ اور عظیم الامانتہ تھے۔ اس کا اعتراف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست دشمن سب کو ہے۔ نبوت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امین کہا جاتا تھا۔ اور دور ِ جاہلیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فیصلے کے لیے مقدمات لائے جاتے تھے۔ جامع ترمذی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بار ابو جہل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نہیں کہتے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لے کرآئے ہیں اسے جھٹلاتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ﴿ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللّٰهِ يَجْحَدُونَ ﴾ (الانعام۶: ۳۳) ’’یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔‘‘ [1] ہِرَقْل نے ابو سفیان سے دریافت کیا کہ کیا اس (نبی صلی اللہ علیہ وسلم)نے جو بات کہی ہے اس کے کہنے سے پہلے تم لوگ اسے جھوٹ سے متہم کرتے تھے ؟ تو ابو سفیان نے جواب دیا کہ ’’نہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ متواضع اور تکبّر سے دور تھے۔ جس طرح بادشاہوں کے لیے ان کے خُدام وحاشیہ بردار کھڑے رہتے ہیں اس طرح اپنے لیے آپ صحابہ کرام کو کھڑے ہونے سے منع فرماتے تھے۔ مسکینوں کی عیادت کرتے تھے ، فقراء کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے۔ غلام کی دعوت منظور فرماتے تھے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کسی امتیاز کے بغیر ایک عام آدمی کی طرح بیٹھتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتے خود ٹانکتے تھے۔ اپنے کپڑے خود سیتے تھے۔ اور اپنے ہاتھ سے اس طرح کام کرتے تھے جیسے تم میں سے کوئی آدمی اپنے گھر کے کام کاج کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی انسانوں میں سے ایک انسان تھے۔ اپنے کپڑوں میں جوئیں تلاش کرتے تھے۔ اپنی بکری دوہتے تھے اور اپنا کام خود کرتے تھے۔[2] آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑھ کر عہد کی پابندی اور صلہ رحمی فرماتے تھے۔ لوگوں کے ساتھ سب سے زیادہ شفقت اور رحم ومروت سے پیش آتے تھے۔ رہائش اور ادب میں سب سے اچھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق سب سے زیادہ کشادہ تھا۔ بد خلقی سے سب سے زیادہ دور ونفور تھے نہ عادتا ً فحش گوتھے ، نہ بہ تکلف فحش کہتے تھے۔ نہ لعنت کرتے تھے۔ نہ بازار میں چیختے چلاتے تھے۔ نہ بُرائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے۔ بلکہ معافی اور درگذر سے کام لیتے تھے۔ کسی کو اپنے پیچھے چلتا ہوا نہ چھوڑتے تھے۔ اور نہ کھانے پینے میں اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر ترفُّع اختیار فرماتے تھے۔ اپنے خادم کاکام خودہی کردیتے تھے۔ کبھی اپنے خادم کو اُف نہیں کہا، نہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر عتاب فرمایا۔ مسکینوں سے محبت کرتے ، ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور ان کے جنازوں میں حاضر ہوتے تھے۔ کسی فقیر کوا س کے فقر کی وجہ سے حقیر نہیں سمجھتے تھے۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے۔ ایک بکری کاٹنے پکانے کا مشورہ ہوا۔ ایک نے کہا : ذبح کرنا میرے ذمہ ، دوسرے نے کہا کھال اتارنا میرے ذمہ ، تیسرے نے کہا : پکانا میرے ذمہ ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لکڑی جمع کرنا میرے ذمہ، صحابہ نے عرض کیا : ہم آپ کاکام کردیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جانتاہوں تم لوگ میرا کام کردوگے۔ لیکن میں پسند نہیں کرتا کہ تم پر امتیاز حاصل کرو ں، کیونکہ اللہ اپنے بندے کی یہ حرکت ناپسند کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے رفقاء میں ممتاز سمجھے ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُٹھ کر لکڑی جمع فرمائی۔[1] آیئے! ذرا ہند بن ابی ہالہ کی زبانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف سنیں۔ ہند اپنی ایک طویل روایت میں کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیہم غموں سے دوچار تھے۔ ہمیشہ غور وفکر فرماتے رہتے تھے۔ آپ کے لیے راحت نہ تھی۔ بلا ضرورت نہ بولتے تھے۔ دیر تک خاموش رہتے تھے۔ بات کا آغاز واختتام پورے منہ سے کرتے تھے، یعنی صرف منہ کے کنارے سے نہ بولتے تھے،جامع اور دوٹوک کلمات کہتے تھے۔ جن میں نہ فضول گوئی ہوتی تھی نہ کوتاہی۔ نرم خو تھے۔ جفا جو اور ناقدرے نہ تھے۔ نعمت معمولی بھی ہوتی تو اس کی تعظیم کرتے تھے۔ کسی چیز کی مذمت نہیں فرماتے تھے۔ کھانے کی نہ برائی کرتے تھے نہ تعریف ، حق سے کوئی تعرض کیا جاتا تو جب تک انتقام نہ لے لیتے آپ کے غضب کو روکا نہ جاسکتا تھا۔ البتہ کشادہ دل تھے، اپنے نفس کے لیے نہ غضبناک ہوتے نہ انتقام لیتے۔ جب اشارہ فرماتے تو پوری ہتھیلی سے اشارہ فرماتے۔ اور تعجب کے وقت ہتھیلی پلٹتے۔ جب غضبناک ہوتے تو رُخ پھیر لیتے۔ اور جب خوش ہوتے تو نگاہ پست فرمالیتے۔ آپ کی بیشتر ہنسی تبّسم کی صورت میں تھی۔ مسکراتے تو دانت اولوں کی طرح چمکتے۔ لایعنی بات سے زبان روکے رکھتے۔ ساتھیوں کو جوڑتے تھے توڑتے نہ تھے۔ ہر قوم کے معزز آدمی کی تکریم فرماتے تھے۔ اور اسی کو ان کا والی بناتے تھے۔ لوگوں (کے شر) سے محتاط رہتے اور ان سے بچاؤ اختیار فرماتے تھے۔ لیکن اس کے لیے کسی سے اپنی خندہ جبینی ختم نہ فرماتے تھے۔ اپنے اصحاب کی خبر گیری کرتے۔ اور لوگوں کے حالات دریافت فرماتے۔ اچھی چیز کی تحسین وتصویب فرماتے اور بری چیز کی تقبیح وتوہین۔ معتدل تھے ، زیادہ نشیب وفراز نہ تھا غافل نہ ہوتے تھے کہ مبادا لوگ بھی غافل یاملول خاطر ہوجائیں۔ ہر حالت کے لیے مستعد رہتے تھے۔ حق سے کوتاہی نہ فرماتے تھے نہ ناحق کی طرف تجاوز فرماتے تھے، جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہتے تھے وہ سب سے اچھے لوگ تھے۔ اور ان میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک افضل وہ تھا جو سب سے بڑھ کر خیر خواہ ہو۔ اور سب سے زیادہ قدر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اس کی تھی جو سب سے اچھا غمگسار مددگار ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھتے بیٹھتے اللہ کا ذکر ضرور فرماتے۔ جگہیں متعین نہ فرماتے ۔ یعنی اپنے لیے کوئی امتیازی جگہ مقرر نہ فرماتے۔ جب قوم کے پاس پہنچتے تو مجلس میں جہاں جگہ مل جاتی بیٹھ جاتے۔ اور اسی کا حکم بھی فرماتے۔ ہرجلیس کو اس کا حصہ عطا فرماتے ، حتیٰ کہ کوئی جلیس یہ نہ محسوس کرتا کہ کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اس سے زیادہ باعزت ہے۔ کوئی کسی ضرورت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھتا یا کھڑا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے صبر کے ساتھ اس کے لیے رکے رہتے کہ وہی پلٹ کر واپس ہوتا۔ کوئی کسی ضرورت کا سوال کردیتا تو آپ اسے عطا کیے بغیر یا اچھی بات کہے بغیر واپس نہ فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خندہ جبینی اور اخلاق سے سب کو نواز ا۔ یہاں تک آپ سب کے لیے باپ کا درجہ رکھتے تھے۔ اور سب آپ کے نزدیک یکساں حق رکھتے تھے۔ کسی کو فضیلت تھی تو تقویٰ کی بنیاد پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس حلم وحیا ء اور صبر وامانت کی مجلس تھی۔ اس میں آوازیں بلند نہ کی جاتی تھیں۔ اور نہ حرمتوں کا مرثیہ ہوتا تھا ۔ یعنی کسی کی آبروپر بٹہ کا اندیشہ نہ تھا۔ لوگ تقویٰ کے ساتھ باہم محبت وہمدردی رکھتے تھے۔ بڑے کا احترام کرتے تھے۔ چھوٹے پر رحم کرتے تھے۔ حاجت مند کو نوازتے تھے اور اجنبی کو انس عطا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ہمیشہ بشاشت رہتی ، سہل خو اور نرم پہلو تھے۔ جفاجو اور سخت خو نہ تھے۔ نہ چیختے چلاتے تھے ، نہ فحش بکتے تھے نہ زیادہ عتاب فرماتے تھے۔ نہ بہت تعریف کرتے تھے ، جس چیز کی خواہش نہ ہوتی اس سے تغافل برتتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مایوسی نہیں ہوتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں سے اپنے نفس کو محفوظ رکھا۔ [۱] ریاء سے [۲ ] کسی چیز کی کثرت سے [۳]اور لا یعنی بات سے ، اور تین باتوں سے لوگوں کو محفوظ رکھا۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم [۱]کسی کی مذمت نہیں کرتے تھے [۲ ] کسی کو عار نہیں دلاتے تھے [ ۳ ] اور کسی کی عیب جوئی نہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی بات نوک زبان پر لاتے تھے جس میں ثواب کی امید ہوتی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکلم فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم نشین اپنے سر جھکالیتے گویا ان کے سروں پر چڑیا ہے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوتے تو لوگ گفتگو کرتے۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گپ بازی نہ کرتے۔ آپ کے پاس جو کوئی بولتا سب اس کے لیے خاموش رہتے ، یہاں تک کہ وہ اپنی بات پوری کر لیتا۔ ان کی بات ان کے پہلے شخص کی بات ہوتی۔ جس بات سے سب لوگ ہنستے اس سے آپ بھی ہنستے ، اور جس بات پر سب لوگ تعجب کرتے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تعجب کرتے۔ اجنبی آدمی بات میں جفا سے کام لیتا تو اس پر آپ صبر کرتے ، اور فرماتے : جب تم لوگ حاجت مند کو دیکھو کہ وہ اپنی حاجت کی طلب میں ہے تو اسے سامان ضرورت سے نواز دو۔ آپ احسان کا بدلہ دینے والے کے سوا کسی سے ثناء کے طالب نہ ہوتے۔[1] خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مجلس میں سب سے باوقار ہوتے۔ اپنا کوئی عضو باہر نہ نکالتے۔ بہت زیادہ خاموش رہتے۔ بلا ضرورت نہ بولتے۔ جوشخص نامناسب بات بولتا اس سے زُخ پھیر لیتے۔ آپ کی ہنسی مسکراہٹ تھی۔ اور کلام دوٹو ک ، نہ فضول نہ کوتاہ ، آپ کے صحابہ کی ہنسی بھی آپ کی توقیر واقتداء میں مسکراہٹ ہی کی حد تک ہوتی۔[2] حاصل یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بے نظیر صفاتِ کمال سے آراستہ تھے۔ آپ کے رب نے آپ کو بے نظیر ادب سے نوازا تھا حتیٰ کہ اس نے خود آپ کی تعریف میں فرمایا : ﴿ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾(القلم۶۸: ۴) ’’ يقيناً آپ عظیم اخلاق پر ہیں۔‘‘ اور یہ ایسی خوبیاں تھیں جن کی وجہ سے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کھینچ آئے۔ دلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بیٹھ گئی۔ اور آپ کو قیادت کا وہ مقام حاصل ہوا کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وارفتہ ہوگئے۔ انہی خوبیوں کے سبب آپ کی قوم کی اکڑ اور سختی نرمی میں تبدیل ہوئی یہاں تک کہ یہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوگئی۔ یاد رہے کہ ہم نے پچھلے صفحات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جن خوبیوں کا ذکر کیا ہے ، وہ آپ کے کمال خلق اور عظیم صفات کے مظاہر کی چند چھوٹی چھوٹی لکیر یں ہیں۔ ورنہ آپ کے مجد وشرف اور شمائل وخصائل کی بلندی اور کمال کا یہ عالم تھا کہ ان کی حقیقت اور تہ تک نہ رسائی ممکن ہے ، نہ اس کی گہرائی ناپی جاسکتی۔ بھلا عالم وجود کے اس سب سے عظیم بشر کی عظمت کی کنہ تک کس کی رسائی ہوسکتی ہے، جس نے مجد وکمال کی سب سے بلند چوٹی پر اپنا نشیمن بنا یا۔ اور اپنے رب کے نور سے اس طرح منو ّر ہوا کہ کتاب ِ الٰہی ہی کو اس کا وصف اور خُلق قرار دیا گیا ،یعنی.....ع قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ صفی الرحمن المبارکپوری حسین آباد ، مبارکپور ضلع اعظم گڑھ ( یوپی ) ہند ۱۶/ رمضان المبارک ۱۴۰۴ھ ۱۷/ جون ۱۹۸۴ھ