آسان قرآن
Aasan Quran · 103. Al-Asr · Ayah 3
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ع﴿3﴾
- اِلَّاسوائے
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے
- وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِاور انہوں نے عمل کئے نیک
- وَتَوَاصَوْا بالْحَقِّاور ایک دوسرے کو وصیت کی حق کی
- وَتَوَاصَوْااور وصیت کی
- بِالصَّبْرِصبر کی
Translation · Aasan Quran
سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اور ایک دوسرے کو حق بات کی نصیحت کریں، اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کریں۔ (2)
Tafseer · Aasan Quran
2: اس سے معلوم ہوا کہ خود نیک بن جانا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اپنے اپنے اثرو رسوخ کے دائرے میں دوسروں کو حق بات اور صبر کی تلقین کرنا بھی ضروری ہے، صبر قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کی دلی خواہشات اسے کسی فریضے کی ادائیگی سے روک رہی ہوں یا کسی گناہ پر آمادہ کررہی ہوں اس وقت ان خواہشات کو کچلا جائے، اور جب کوئی ناگوار بات سامنے آئے تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر اعتراض سے اپنے آپ کو روکا جائے، ہاں تقدیر کا شکوہ کئے بغیر اس ناگوار چیز کے تدارک کی جائز تدبیر کرنا صبر کے خلاف نہیں ہے۔ مزید دیکھئے سورة آل عمران کی آخری آیت پر ہمارا حاشیہ۔