آسان قرآن
Aasan Quran · 11. Hud · Ayah 62
قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ﴿62﴾
- قَالُوْاوہ بولے
- يٰصٰلِحُاے صالح
- قَدْ كُنْتَتو تھا
- فِيْنَاہم میں (ہمارے درمیان)
- مَرْجُوًّامرکز امید
- قَبْلَ ھٰذَآاس سے قبل
- اَتَنْهٰىنَآکیا تو ہمیں منع کرتا ہے
- اَنْ نَّعْبُدَکہ ہم پرستش کریں
- مَا يَعْبُدُاسے جس کی پرستش کرتے تے
- اٰبَآؤُنَاہمارے باپ دادا
- وَاِنَّنَااور بیشک ہم
- لَفِيْ شَكٍّشک میں ہیں
- مِّمَّااس سے جو
- تَدْعُوْنَآتو ہمیں بلاتا ہے
- اِلَيْهِاس کی طرف
- مُرِيْبٍقوی شبہ میں
Translation · Aasan Quran
وہ کہنے لگے : اے صالح ! اس سے پہلے تو تم ہمارے درمیان اس طرح رہے ہو کہ تم سے بڑی امیدیں وابستہ تھیَ (36) جن (بتوں) کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں کیا تم ہمیں ان کی عبادت کرنے سے منع کرتے ہو ؟ جس بات کی تم دعوت دے رہے ہو، اس کے بارے میں تو ہمیں ایسا شک ہے جس نے ہمیں اضطراب میں ڈال دیا ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
36: اس سے صاف واضح ہے کہ نبوت کے اعلان سے پہلے حضرت صالح ؑ کو پوری قوم بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتی تھی، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم نے انہیں اپنا سردار یا بادشاہ بنانے کا ارادہ کیا تھا۔