آسان قرآن
Aasan Quran · 11. Hud · Ayah 70
فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ﴿70﴾
- فَلَمَّاپھر جب
- رَآٰ اَيْدِيَهُمْاس نے دیکھے ان کے ہاتھ
- لَا تَصِلُنہیں پہنچتے
- اِلَيْهِاس کی طرف
- نَكِرَهُمْوہ ان سے ڈرا
- وَاَوْجَسَاور محسوس کیا
- مِنْهُمْان سے
- خِيْفَةًخوف
- قَالُوْاوہ بولے
- لَا تَخَفْتم ڈرو مت
- اِنَّآ اُرْسِلْنَآبیشک ہم بھیجے گئے ہیں
- اِلٰيطرف
- قَوْمِ لُوْطٍقوم لوط
Translation · Aasan Quran
مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (بچھڑے) کی طرف نہیں بڑھ رہے، تو وہ ان سے کھٹک گئے، اور ان کی طرف سے دل میں خوف محسوس کیا۔ (40) فرشتوں نے کہا : ڈریے نہیں، ہمیں (آپ کو بیٹے کی خوشخبری سنانے اور) لوط کی قوم کے پاس بھیجا گیا ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
40: چونکہ فرشتے انسانی شکل میں آئے تھے، اس لیے حضرت ابراہیم ؑ شروع میں انہیں انسان ہی سمجھتے اور ان کی مہمانی کے لیے بھنے ہوئے بچھڑے کا گوشت لے کر آئے لیکن چونکہ وہ فرشتے تھے اور کچھ کھا نہیں سکتے تھے، اس لئے انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا، اس زمانے میں رسم یہ تھی کہ اگر کوئی شخص میزبان کے یہاں کھانا پیش ہونے کے بعد نہ کھائے تو یہ اس بات کی علامت سمجھی جاتی تھی کہ وہ کوئی دشمن ہے جو کسی بری نیت سے آیا ہے، اس لئے حضرت ابرہیم ؑ نے خوف محسوس کیا، اس موقع پر فرشتوں نے واضح کردیا کہ وہ فرشتے ہیں، اور ان دو کاموں کے لئے بھیجے گئے ہیں۔