Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 12. Yusuf · Ayah 110

  1. حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ﴿110﴾

    1. حَتّٰٓيیہاں تک
    2. اِذَاجب
    3. اسْتَيْئَسَمایوس ہونے لگے
    4. الرُّسُلُرسول (جمع)
    5. وَظَنُّوْٓااور انہوں نے گمان کیا
    6. اَنَّهُمْکہ وہ
    7. قَدْ كُذِبُوْاان سے جھوٹ کہا گیا
    8. جَآءَهُمْان کے پاس آئی
    9. نَصْرُنَاہماری مدد
    10. فَنُجِّيَپس بچا دئیے گئے
    11. مَنْجنہیں
    12. نَّشَآءُہم نے چاہا
    13. وَاور
    14. لَا يُرَدُّنہیں پھیرا جاتا
    15. بَاْسُنَاہمارا عذاب
    16. عَنِسے
    17. الْقَوْمِقوم
    18. الْمُجْرِمِيْنَمجرم (جمع)
Translation · Aasan Quran
(پچھلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ ان کی قوموں پر عذاب آنے میں کچھ دیر لگی) یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہوگئے اور کافر لوگ یہ سمجھنے لگے کہ انہیں جھوٹی دھمکیاں دی گئی تھیں تو ان پیغمبروں کے پاس ہماری مدد پہنچ گئی (67) (یعنی کافروں پر عذاب آیا) اور جن کو ہم چاہتے تھے، انہیں بچا لیا گیا، اور جو لوگ مجرم ہوتے ہیں، ان سے ہمارے عذاب کو ٹالا نہیں جاسکتا۔
Tafseer · Aasan Quran
67: اس آیت کا یہ ترجمہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ، حضرت سعید بن جبیر ؒ اور بعض دوسرے تابعین وغیرہ کی تفسیر پر مبنی ہے جسے علامہ آلوسی ؒ نے بھی طویل بحث کے بعد آخر میں راجح قرار دیا ہے۔ آیت کی دوسری تفسیریں بھی ممکن ہیں۔ اور بعض مفسرین نے ان کو بھی اختیار کیا۔ لیکن شاید یہ تفسیر جو ترجمے میں اختیار کی گئی ہے سب سے زیادہ بےغبار ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ پچھلے انبیائے کرام کے دور میں بھی ایسا ہوچکا ہے کہ ان کو جھٹلانے والے کفار کو جب لمبی مہلت دی گئی اور ان پر مدت تک عذاب نہ آیا تو ایک طرف انبیائے کرام ان کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے۔ اور دوسری طرف وہ کافر یہ سمجھ بیٹھے کہ انبیائے کرام نے ان کو عذاب الٰہی کی جو دھمکیاں دی تھیں۔ (معاذ اللہ) وہ جھوٹی تھیں۔ لیکن اس کے بعد اچانک انبیائے کرام کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد آئی۔ ان کے جھٹلانے والوں پر عذاب نازل ہوا اور ان کی بات سچی ہوئی۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔