آسان قرآن
Aasan Quran · 12. Yusuf · Ayah 15
فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿15﴾
- فَلَمَّاپھر جب
- ذَهَبُوْاوہ لے گئے
- بِهٖاس کو
- وَاَجْمَعُوْٓااور انہوں نے اتفاق کرلیا
- اَنْکہ
- يَّجْعَلُوْهُاسے ڈال دیں
- فِيْمیں
- غَيٰبَتِاندھا
- الْجُبِّکنواں
- وَاَوْحَيْنَآاور ہم نے وحی بھیجی
- اِلَيْهِاس کی طرف
- لَتُنَبِّئَنَّهُمْکہ تو انہیں ضرور جتائے گا
- بِاَمْرِهِمْان کا کام
- ھٰذَااس
- وَهُمْاور وہ
- لَا يَشْعُرُوْنَنہ جانتے ہوں گے
Translation · Aasan Quran
پھر ہوا یہ کہ جب وہ ان کو ساتھ لے گئے، اور انہوں نے یہ طے کر ہی رکھا تھا کہ انہیں ایک اندھے کنویں میں ڈال دیں گے، (چنانچہ ڈال بھی دیا) تو ہم نے یوسف پر وحی بھیجی کہ (ایک وقت آئے گا جب) تم ان سب کو جتلاؤ گے کہ انہوں نے یہ کیا کام کیا تھا۔ (9) اور اس وقت انہیں پتہ بھی نہ ہوگا (کہ تم کون ہو ؟)
Tafseer · Aasan Quran
9: حضرت یوسف ؑ اس وقت بچے تھے روایت میں ان کی عمر سات سال بتائی گئی ہے۔ اس لیے یہ وحی نبوت کی وحی نہیں تھی، بلکہ یہ اس قسم کی وحی تھی جیسی قرآن کریم نے حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ یا حضرت مریم کے لیے بیان فرمائی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کو کسی ذریعے سے یہ بتادیا کہ گھبراؤ نہیں، ایک وقت آنے والا ہے کہ یہ لوگ تمہارے آگے جھکیں گے، اور تم انہیں ان کی ساری حرکتوں کے بارے میں انہین اس وقت سب کچھ جتلا دو گے جب یہ تمہیں ہچانتے بھی نہیں ہوں گے۔ چنانچہ آگے آیت نمبر 89 میں آ رہا ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے مصر کا حاکم بننے کے بعد انہیں جتلایا تھا۔