Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 12. Yusuf · Ayah 19

  1. وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ﴿19﴾

    1. وَجَآءَتْاور آیا
    2. سَيَّارَةٌایک قافلہ
    3. فَاَرْسَلُوْاپس انہوں نے بھیجا
    4. وَارِدَهُمْاپنا پانی بھرنے والا
    5. فَاَدْلٰىپس اس نے ڈالا
    6. دَلْوَهٗاپنا ڈول
    7. قَالَاس نے کہا
    8. يٰبُشْرٰيآہا۔ خوشی کی بات
    9. ھٰذَایہ
    10. غُلٰمٌایک لڑکا
    11. وَاَسَرُّوْهُاور اسے چھپالیا
    12. بِضَاعَةًمال تجارت سمجھ کر
    13. وَاللّٰهُاور اللہ
    14. عَلِيْمٌجاننے والا
    15. بِمَااسے جو
    16. يَعْمَلُوْنَوہ کرتے تھے
Translation · Aasan Quran
اور (دوسری طرف جس جگہ انہوں نے یوسف کو کنویں میں ڈالا تھا، وہاں) ایک قافلہ آیا۔ قافلے کے لوگوں نے ایک آدمی پانی لانے کے لیے بھیجا، اور اس نے اپنا ڈول (کنویں میں) ڈالا تو (وہاں یوسف ؑ کو دیکھ کر) پکار اٹھا : لو خوشخبری سنو ! یہ تو ایک لڑکا ہے۔ (11) اور قافلے والوں نے انہیں ایک تجارت کا مال سمجھ کر چھپالیا، اور جو کچھ وہ کر رہے تھے، اللہ کو اس کا پورا علم تھا۔
Tafseer · Aasan Quran
11: روایات میں ہے کہ جب حضرت یوسف ؑ کو کنویں میں ڈالا گیا تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ ایک پتھر پر جا بیٹھے تھے۔ جب قافلے کے اس آدمی نے پانی نکالنے کے لیے ڈول کنویں میں ڈالا تو وہ اس ڈول میں سوار ہوگئے اس نے ڈول کھینچا تو حضرت یوسف ؑ کو دیکھ کر اس کے منہ سے بےساختہ وہ الفاظ نکلے جو اس آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں۔