Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 12. Yusuf · Ayah 18

  1. وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ﴿18﴾

    1. وَجَآءُوْاور وہ آئے (لائے)
    2. عَلٰيپر
    3. قَمِيْصِهٖاس کی قمیص
    4. بِدَمٍخون کے ساتھ
    5. كَذِبٍجھوٹا
    6. قَالَاس نے کہا
    7. بَلْبلکہ
    8. سَوَّلَتْبنا لی
    9. لَكُمْتمہارے لیے
    10. اَنْفُسُكُمْتمہارے دل
    11. اَمْرًاایک کام
    12. فَصَبْرٌپس صبر
    13. جَمِيْلٌاچھا
    14. وَاللّٰهُاور اللہ
    15. الْمُسْتَعَانُمدد چاہتا ہوں
    16. عَلٰيپر
    17. مَا تَصِفُوْنَجو تم بیان کرتے ہو
Translation · Aasan Quran
اور وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا کرلے آئے۔ (10) ان کے والد نے کہا : (حقیقت یہ نہیں ہے) بلکہ تمہارے دلوں نے اپنی طرف سے ایک بات بنا لی ہے۔ اب تو میرے لیے صبر ہی بہتر ہے۔ اور جو باتیں تم بنا رہے ہو، ان پر اللہ ہی کی مدد درکار ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
10: بعض روایات میں ہے کہ انہوں نے قمیص پر خون تو لگا دیا۔ لیکن قمیص صحیح سالم تھا اس پر پھٹن کے کوئی آثار نہیں تھے اس لیے حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ وہ بھیڑیاں بڑا مہذب تھا کہ بچے کو کھا گیا اور قمیص جوں کی توں صحیح سالم رہی۔ خلاصہ یہ کہ ان کو یہ بات یقین سے معلوم ہوگئی کہ بھیڑیے کے کھانے کی بات محض افسانہ ہے اس لیے انہوں نے فرمایا کہ یہ بات تم نے اپنی طرف سے گھڑ لی ہے۔