Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 12. Yusuf · Ayah 33

  1. قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ﴿33﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. رَبِّاے میرے رب
    3. السِّجْنُقید
    4. اَحَبُّزیادہ پسند
    5. اِلَيَّمجھ کو
    6. مِمَّااس سے جو
    7. يَدْعُوْنَنِيْٓمجھے بلاتی ہیں
    8. اِلَيْهِاس کی طرف
    9. وَاور
    10. اِلَّا تَصْرِفْاگر نہ پھیرا
    11. عَنِّيْمجھ سے
    12. كَيْدَهُنَّان کا فریب
    13. اَصْبُمائل ہوجاؤں گا
    14. اِلَيْهِنَّان کی طرف
    15. وَاَكُنْاور میں ہوں گا
    16. مِّنَسے
    17. الْجٰهِلِيْنَجاہل (جمع)
Translation · Aasan Quran
یوسف نے دعا کی کہ : یا رب ! یہ عورتیں مجھے جس کام کی دعوت دے رہی ہیں، اس کے مقابلے میں قید خانہ مجھے زیادہ پسند ہے۔ (22) اور اگر تو نے مجھے ان کی چالوں سے محفوظ نہ کیا تو میرا دل بھی ان کی طرف کھنچنے لگے گا، اور جو لوگ جہالت کے کام کرتے ہیں، ان میں میں بھی شامل ہوجاؤں گا۔
Tafseer · Aasan Quran
22: بعض روایات میں ہے ان عورتوں نے جو پہلے زللیخا کو ملامت کر رہی تھیں، حضرت یوسف ؑ کو دیکھنے کے بعد الٹی حضرت یوسف ؑ کو نصیحنت کرنی شروع کردی کہ تمہیں اپنی مالکہ کا کہنا ماننا چاہیے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان عورتوں میں بھی کچھ نے انہیں تنہائی میں نصیحت کے بہانے بلا کر گناہ کی دعوت دینی شروع کی۔ اس لیے حضرت یوسف ؑ نے اپنی دعا میں صرف زلیخا کا نہیں بلکہ تمام عورتوں کا ذکر فرمایا۔