آسان قرآن
Aasan Quran · 12. Yusuf · Ayah 62
وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿62﴾
- وَقَالَاور اس نے کہا
- لِفِتْيٰنِهِاپنے خدمتگاروں کو
- اجْعَلُوْااور تم رکھدو
- بِضَاعَتَهُمْان کی پونجی
- فِيْ رِحَالِهِمْان کے بوروں میں
- لَعَلَّهُمْشاید وہ
- يَعْرِفُوْنَهَآاس کو معلوم کرلیں
- اِذَا انْقَلَبُوْٓاجب وہ لوٹیں
- اِلٰٓىطرف
- اَهْلِهِمْاپنے لوگ
- لَعَلَّهُمْشاید وہ
- يَرْجِعُوْنَپھر آجائیں
Translation · Aasan Quran
اور یوسف نے اپنے نوکروں سے کہہ دیا کہ وہ ان (بھائیوں) کا مال (جس کے بدلے انہوں نے غلہ خریدا ہے) انہی کے کجاووں میں رکھ دیں، (40) تاکہ جب یہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس پہنچیں تو اپنے مال کو پہچان لیں۔ شاید (اس احسان کی وجہ سے) وہ دوبارہ آئیں۔
Tafseer · Aasan Quran
40: حضرت یوسف ؑ نے ان بھائیوں کے ساتھ یہ احسان فرمایا کہ غلے کو خریدنے کے لیے جو قیمت انہوں نے دی تھی، وہ واپس انہی کے سامان میں رکھوا دی اس زمانے میں سونے چاندی کے سکوں کے بجائے مختلف قسم کا سامان قیمت کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کنعان سے کچھ چمڑا اور جوتے لے کر آئے تھے وہی انہوں نے غلے کی قیمت کے طور پر پیش کیا، اور اسی کو حضرت یوسف ؑ نے واپس ان کے سامان میں رکھوا دیا یہ ظاہر بات ہے کہ انہوں نے اپنی جیب سے اتنی قیمت سرکاری خزانے میں جمع کرا دی ہوگی۔