Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 12. Yusuf · Ayah 87

  1. یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ﴿87﴾

    1. يٰبَنِيَّاے میرے بیٹو
    2. اذْهَبُوْاتم جاؤ
    3. فَتَحَسَّسُوْاپس کھوج نکالو
    4. مِنْسے (کا
    5. يُّوْسُفَیوسف
    6. وَاَخِيْهِاور اس کا بھائی
    7. وَلَا تَايْئَسُوْااور نہ مایوس ہو
    8. مِنْسے
    9. رَّوْحِ اللّٰهِاللہ کی رحمت
    10. اِنَّهٗبیشک وہ
    11. لَا يَايْئَسُمایوس نہیں ہوتے
    12. مِنْسے
    13. رَّوْحِ اللّٰهِاللہ کی رحمت
    14. اِلَّامگر
    15. الْقَوْمُلوگ
    16. الْكٰفِرُوْنَکافر (جمع)
Translation · Aasan Quran
میرے بیٹو ! جاؤ، اور یوسف اور اس کے بھائی کا کچھ سراغ لگاؤ، اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ یقین جانو، اللہ کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو کافر ہیں۔ (54)
Tafseer · Aasan Quran
54: چونکہ حضرت یعقوب ؑ کو یقین تھا کہ یوسف ؑ بھی کہیں نہ کہیں زندہ ہیں۔ اور بنیامین گرفتار ہیں اس لیے انہوں نے کچھ عرصے بعد پورے وثوق کے ساتھ حکم دیا کہ جا کر ان دونوں کو تلاش کرو۔ اتنے میں جو غلہ اب تک آیا تھا وہ ختم ہوچکا تھا اور قحط کی حالت جاری تھی۔ اس لیے ان بھائیوں نے یہ سوچا کہ پھر مصر جائیں۔ کیونکہ بنیامین تو وہاں یقینی طور پر موجود ہیں۔ پہلے ان کی واپسی کی کوشش کرنی چاہیے۔ پھر یوسف ؑ کا بھی کچھ سراغ لگانے کی کوشش کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے مصرف جا کر پہلے تو یوسف ؑ سے غلے کی بات کی تاکہ ان کا دل کچھ نرم پڑے تو بنیامین کی واپسی کی بھی درخواست کریں۔ اگلی آیتوں میں حضرت یوسف ؑ سے ان کی گفتگو بیان فرمائی گئی ہے۔