آسان قرآن
Aasan Quran · 12. Yusuf · Ayah 88
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ﴿88﴾
- فَلَمَّاپھر جب
- دَخَلُوْاوہ داخل ہوئے
- عَلَيْهِاس پر۔ سامنے
- قَالُوْاانہوں نے کہا
- يٰٓاَيُّهَااے
- الْعَزِيْزُعزیز
- مَسَّنَاہمیں پہنچی
- وَاَهْلَنَااور ہمارے گھر
- الضُّرُّسختی
- وَجِئْنَااور ہم آئے
- بِبِضَاعَةٍپونچی کے ساتھ (لے کر)
- مُّزْجٰىةٍنکمی (ناقص)
- فَاَوْفِپس پوری دیں
- لَنَاہمیں
- الْكَيْلَناپ (غلہ)
- وَتَصَدَّقْصدقہ کریں
- عَلَيْنَاہم پر (ہمیں)
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- يَجْزِيجزا دیتا ہے
- الْمُتَصَدِّقِيْنَصدقہ کرنے والے
Translation · Aasan Quran
چنانچہ جب وہ یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے (یوسف سے) کہا : اے عزیز ! ہم پر اور ہمارے گھر والوں پر سخت مصیبت پڑی ہوئی ہے، اور ہم ایک معمولی سی پونجی لے کر آئے ہیں، آپ ہمیں پورا پورا غلہ دے دیجیے، (55) اور اللہ کے لیے ہم پر احسان کیجیے، یقینا اللہ اپنی خاطر احسان کرنے والوں کو بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
55: مطلب یہ ہے قحط کی وجہ سے ہم سخت بدحالی کا شکار ہیں اس لیے اس مرتبہ ہم اتنی قیمت بھی نہیں لاسکے جو اپنے حصے کا غلہ خریدنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ لہذا اب جو کچھ آپ دیں گے وہ محض احسان ہی ہوگا قرآن کریم میں لفظ صدقہ استعمال ہوا ہے۔ صدقہ ایسے عطیہ کو کہتے ہیں جو کسی کے ذمے واجب نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاط احسان کے طور پر دیا جائے۔