آسان قرآن
Aasan Quran · 12. Yusuf · Ayah 9
اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ﴿9﴾
- اقْتُلُوْامار ڈالو
- يُوْسُفَیوسف
- اَوِیا
- اطْرَحُوْهُاسے ڈال آؤ
- اَرْضًاکسی سرزمین
- يَّخْلُخالی ہوجائے
- لَكُمْتمہارے لیے
- وَجْهُمنہ (توجہ)
- اَبِيْكُمْتمہارے باپ
- وَتَكُوْنُوْااور تم ہوجاؤ
- مِنْسے
- بَعْدِهٖاس کے بعد
- قَوْمًالوگ
- صٰلِحِيْنَنیک (جمع)
Translation · Aasan Quran
(اب اس کا حل یہ ہے کہ) یوسف کو قتل ہی کرڈالو، یا اسے کسی اور سرزمین میں پھینک آؤ، تاکہ تمہارے والد کی ساری توجہ خالص تمہاری طرف ہوجائے، اور یہ سب کرنے کے بعد پھر (توبہ کر کے) نیک بن جاؤ۔ (5)
Tafseer · Aasan Quran
5: یہ ترجمہ اس آیت کی ایک تفسیر کے مطابق ہے گویا ان کا خیال یہ تھا کہ یہ زیادہ سے زیادہ ایک گناہ ہوگا اور ہر گناہ کی معافی توبہ سے ہوسکتی ہے چنانچہ توبہ مانگ کر پھر ساری عملر نیکی کرتے رہنا۔ حالانکہ کسی بندے پر اگر ظلم کیا جائے تو اس کی معافی صرف توبہ سے نہیں ہوتی، جب تک کہ وہ مظلوم معاف نہ کرے۔ اس جملے کی ایک اور تفسیر بھی ممکن ہے اور وہ یہ کہ ان کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہم بعد میں نیک بن جائیں گے۔ بلکہ ان الفاظ کا ترجمہ یہ ہے کہ یہ سب کرنے کے بعد تمہارے سارے کام درست ہوجائیں گے یعنی والد کی طرف سے کسی امتیازی سلوک کا اندیشہ نہیں رہے گا۔ قرآن کریم کے الفاظ میں اس معنی کی بھی گنجائش موجود ہے۔