آسان قرآن
Aasan Quran · 13. Ar-Ra'd · Ayah 14
لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ﴿14﴾
- لَهٗاس کو
- دَعْوَةُپکارنا
- الْحَقِّحق
- وَالَّذِيْنَاور جن کو
- يَدْعُوْنَوہ پکارتے ہیں
- مِنْ دُوْنِهٖاس کے سوا
- لَا يَسْتَجِيْبُوْنَوہ جواب نہیں دیتے
- لَهُمْان کو
- بِشَيْءٍکچھ بھی
- اِلَّامگر
- كَبَاسِطِجیسے پھیلا دے
- كَفَّيْهِاپنی ہتھیلیاں
- اِلَى الْمَآءِپانی کی طرف
- لِيَبْلُغَتاکہ پہنچ جائے
- فَاهُاس کے منہ تک
- وَمَااور نہیں
- هُوَوہ
- بِبَالِغِهٖاس تک پہنچنے والا
- وَمَااور نہیں
- دُعَآءُپکار
- الْكٰفِرِيْنَکافر (جمع)
- اِلَّاسوائے
- فِيْمیں
- ضَلٰلٍگمراہی
Translation · Aasan Quran
وہی ہے جس سے دعا کرنا برحق ہے۔ اور اس کو چھوڑ کر یہ لوگ جن (دیوتاؤں) کو پکارتے ہیں وہ ان کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دیتے، البتہ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو پانی کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر یہ چاہے کہ پانی خود اس کے منہ تک پہنچ جائے، حالانکہ وہ کبھی خود منہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور (بتوں سے) کافروں کے دعا کرنے کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ بھٹکتی ہی پھرتی رہے۔