Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 13. Ar-Ra'd · Ayah 22

  1. وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ﴿22﴾

    1. وَالَّذِيْنَاور وہ لوگ جو
    2. صَبَرُواانہوں نے صبر کیا
    3. ابْتِغَآءَحاصل کرنے کے لیے
    4. وَجْهِخوشی
    5. رَبِّهِمْاپنا رب
    6. وَاَقَامُوااور انہوں نے قائم کی
    7. الصَّلٰوةَنماز
    8. وَاَنْفَقُوْااور خرچ کیا
    9. مِمَّااس سے جو
    10. رَزَقْنٰهُمْہم نے انہیں دیا
    11. سِرًّاپوشیدہ
    12. وَّعَلَانِيَةًاور ظاہر
    13. وَّيَدْرَءُوْنَاور ٹال دیتے ہیں
    14. بِالْحَسَنَةِنیکی سے
    15. السَّيِّئَةَبرائی
    16. اُولٰٓئِكَوہی ہیں
    17. لَهُمْان کے لیے
    18. عُقْبَى الدَّارِآخرت کا گھر
Translation · Aasan Quran
اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی خوشنودی کی خاطر صبر سے کام لیا ہے، (22) اور نماز قائم کی ہے اور ہم نے انہیں جو رزق عطا فرمایا ہے، اس میں سے خفیہ بھی اور علانیہ بھی خرچ کیا ہے، اور وہ بدسلوکی کا دفاع حسن سلوک سے کرتے ہیں، (23) وطن اصلی میں بہترین انجام ان کا حصہ، (24)۔
Tafseer · Aasan Quran
22: قرآن کریم کی اصطلاح میں صبر کا مفہوم بہت عام ہے۔ انسان اپنی نفسانی خواہشات کے تقاضوں کو جب بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے دبا لے تو یہ صبر ہے۔ مثلا نفس کی خواہش یہ ہورہی ہے کہ اس وقت کی نماز چھوڑ دی جائے۔ ایسے موقع پر اس خواہش کی خلاف ورزی کر کے نماز پڑھنا صبر ہے۔ یا اگر کسی گناہ کی خواہش دل میں پیدا ہورہی ہے تو اس کو دبا کر گناہ سے بچ جانا صبر ہے۔ اسی طرح اگر کسی تکلیف کے موقع پر اگر نفس کا تقاضا یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر شکوہ اور غیر ضروری واویلا کیا جائے تو ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہ کر اختیاری واویلا نہ کرنا بھی صبر ہے۔ اس طرح صبر کا لفظ دین کے تمام احکام پر عمل کو حاوی ہے۔ یہی معنی آیت نمبر 24 میں بھی مراد ہیں۔ 23: یعنی برائی کا بدلہ اچھائی سے دیتے ہیں اور دفاع کا لفظ استعمال فرما کر قرآن کریم نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ اچھائی کرنے کا انجام بالاآخر یہ ہوتا ہے کہ دوسرے کی بد سلوکی کے برے اثرات مٹ جاتے ہیں۔ 24: اس آیت میں اصل الفاظ یہ ہے۔ لھم عقبی الدار۔ اس میں الدار کے لفظی معنی گھر کے ہیں۔ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد آخرت کا عالم ہے یہ لفظ بکثرت وطن کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور یہاں آخرت کے بجائے اس لفظ کو استعمال کرنے سے بظاہر اشارہ اس طرف ہے کہ انسان کا اصلی گھر اور وطن آخرت ہے اس لیے کہ دنیا کی زندگی تو فنا ہوجانے والی ہے انسان کو ہمیشہ ہمیشہ جہاں رہنا ہے وہ آخرت کا عالم ہے اس لیے یہاں الدار کا ترجمہ اصلی وطن سے کیا گیا ہے یہی بات آگے آیت 24 اور 25 میں بھی ملحوظ رہنی چاہیے