Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 26

  1. قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا﴿26﴾

    1. قُلِآپ کہ دیں
    2. اللّٰهُاللہ
    3. اَعْلَمُخوب جانتا ہے
    4. بِمَا لَبِثُوْاکتنی مدت وہ ٹھہرے
    5. لَهٗاسی کو
    6. غَيْبُغیب
    7. السَّمٰوٰتِآسمانوں
    8. وَالْاَرْضِاور زمین
    9. اَبْصِرْ بِهٖکیا وہ دیکھتا ہے
    10. وَاَسْمِعْاور کیا وہ سنتا ہے
    11. مَا لَهُمْنہیں ہے ان کے لئے
    12. مِّنْ دُوْنِهٖاس کے سوا
    13. مِنْ وَّلِيٍّکوئی مددگار
    14. وَّلَا يُشْرِكُاور شریک نہیں کرتا
    15. فِيْ حُكْمِهٖٓاپنے حکم میں
    16. اَحَدًاکسی کو
Translation · Aasan Quran
(اگر کوئی اس میں بحث کرے تو) کہہ دو کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت (سوتے) رہے۔ (20) آسمانوں اور زمین کے سارے بھید اسی کے علم میں ہیں۔ وہ کتنا دیکھنے والا، اور کتنا سننے والا ہے۔ اس کے سوا ان کا کوئی رکھوالا نہیں ہے، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔
Tafseer · Aasan Quran
20: اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے بارے میں یہ بتلادیا کہ وہ غار میں تین سو نو سال تک سوتے رہے، لیکن آگے پھر وہی بات ارشاد فرمائی کہ محض قیاسات کی بنیاد پر اس بحث میں بھی پڑنے کی ضرورت نہیں ہے، اور اگر کوئی اس مدت سے اختلاف کرے تو یہ کہہ کر بحث کا دروازہ بند کردو کہ اللہ تعالیٰ ہی اس مدت کو خوب جانتا ہے، اس نے جو مدت بتادی ہے، وہی درست ہے۔