آسان قرآن
Aasan Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 115
وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ع﴿115﴾
- وَلَقَدْ عَهِدْنَآاور ہم نے حکم بھیجا
- اِلٰٓىطرف۔ کو
- اٰدَمَآدم
- مِنْ قَبْلُاس سے قبل
- فَنَسِيَتو وہ بھول گیا
- وَلَمْ نَجِدْاور ہم نے نہ پایا
- لَهٗاس میں
- عَزْمًاپختہ ارادہ
Translation · Aasan Quran
اور ہم نے اس سے پہلے آدم کو ایک بات کی تاکید کی تھی، پھر ان سے بھول ہوگئی، اور ہم نے ان میں عزم نہیں پایا۔ (49)
Tafseer · Aasan Quran
49: جس تاکید کا یہاں ذکر ہے، اس سے مراد ایک خاص درخت کا پھل نہ کھانے کی تاکید ہے۔ اس واقعے کی تفصیل اور اس سے متعلق سوالات کا جواب سورة بقرہ : 34 تا 39 میں گذر چکا ہے۔ اور یہاں آدم ؑ کے بارے میں جو فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ان میں عزم نہیں پایا، اس کا ایک مطلب بعض مفسرین نے یہ بیان فرمایا ہے کہ ان سے درخت کا پھل کھانے کے سلسلے میں جو غلطی ہوئی، اس میں ان کے عزم کو دخل نہیں تھا، یعنی انہوں نے نافرمانی کے ارادے سے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ ان سے بھول ہوگئی۔ اور دوسرے مفسرین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ ان میں ایسا پختہ عزم نہیں تھا کہ شیطان کے بہکائے میں نہ آتے۔ اس سے انسان کی اس سرشت کی طرف اشارہ ہے جس میں شیطان اور نفس کے بہکائے میں آنے کی صلاحیت موجود ہے۔ چونکہ قرآن کریم نے عزم کی نفی کو بھول ہوجانے کے ساتھ ملا کر ذکر کیا ہے، اس لیے یہاں پہلے معنی زیادہ بہتر معلوم ہوتے ہیں۔