آسان قرآن
Aasan Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 114
فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا﴿114﴾
- فَتَعٰلَى اللّٰهُسو بلندو برتر ہے اللہ
- الْمَلِكُبادشاہ
- الْحَقُّسچا
- وَلَااور نہ
- تَعْجَلْجلدی کرو
- بِالْقُرْاٰنِقرآن میں
- مِنْ قَبْلِاس سے قبل کہ
- اَنْکہ
- يُّقْضٰٓىپوری کی جائے
- اِلَيْكَپوری کی جائے
- وَحْيُهٗاس کی وحی
- وَقُلْاور کہیے
- رَّبِّاے میرے رب
- زِدْنِيْزیادہ دے مجھے
- عِلْمًاعلم
Translation · Aasan Quran
ایسی ہی اونچی شان ہے اللہ کی، جو سلطنت کا حقیقی مالک ہے۔ اور (اے پیغمبر) جب قرآن وحی کے ذریعے نازل ہورہا ہو تو اس کے مکمل ہونے سے پہلے قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو۔ (47) اور یہ دعا کرتے رہا کرو کہ : میرے پروردگار ! مجھے علم میں اور ترقی عطا فرما۔ (48)
Tafseer · Aasan Quran
47: جب حضرت جبرئیل ؑ قرآن کریم کی آیتیں وحی کے ذریعے آنحضرت ﷺ پر نازل کرتے، تو آپ اس ڈر سے کہ کہیں بھول نہ جائیں، ساتھ ساتھ ان آیتوں کو دہراتے رہتے تھے جس سے ظاہر ہے کہ آپ کو سخت مشقت ہوتی تھی۔ اس آیت میں آپ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ کو یہ محنت اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ خود ہی قرآن کریم کو آپ کے سینہ مبارک میں محفوظ فرما دے گا۔ یہی بات سورة قیامہ : 16 تا 18 میں بھی فرمائی گئی ہے۔
48: آنحضرت ﷺ کو اس دعا کی تلقین فرما کر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ علم ایک ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں، اور انسان کو علم کے کسی بھی درجے پر قناعت کر کے نہیں بیٹھنا چاہیے، بلکہ ہر وقت علم میں ترقی کی کوشش اور دعا کرتے رہنا چاہیے۔ اس دعا میں یاد داشت کی قوت کی دعا بھی شامل ہے، اور معلومات کی زیادتی اور ان کی صحیح سمجھ کی بھی