Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 12

  1. اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ﴿12﴾

    1. اِنِّىْٓبیشک میں
    2. اَنَامیں
    3. رَبُّكَتمہارا رب
    4. فَاخْلَعْسو اتار لو
    5. نَعْلَيْكَاپنی جوتیاں
    6. اِنَّكَبیشک تم
    7. بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِمیدان پاک
    8. طُوًىطوی
Translation · Aasan Quran
یقین سے جان لو کہ میں ہی تمہارا رب ہوں۔ (7) اب تم اپنے جوتے اتار دو ، تم اس وقت طوی کی مقدس وادی میں ہو۔ (8)
Tafseer · Aasan Quran
7: سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو یہ یقین کیسے آیا کہ یہ آواز اللہ تعالیٰ کی طرف سے آرہی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو یہ اطمینان عطا فرمادیا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی سے ہم کلام ہیں۔ اور حالات بھی ایسے پیدا کردئیے گئے کہ انہیں یہ یقین آجائے۔ مثلاً بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو یہ عجیب منظر نظر آیا کہ وہ آگ ایک درخت کے اوپر شعلے مار رہی ہے۔ مگر درخت کا کوئی پتہ جلتا نہیں ہے۔ انہوں نے انتظار کیا کہ شاید کوئی چنگاری اڑ کر ان کے پاس آجائے۔ مگر وہ بھی نہ آئی۔ پھر انہوں نے کچھ گھاس پھونس لے کر اسے آگ کے قریب کیا، تاکہ اس میں آگ لگ جائے تو وہ آگ پیچھے ہٹ گئی۔ اس وقت یہ آواز سنائی دی اور آواز کسی ایک جہت سے نہیں، بلکہ چاروں طرف سے آتی محسوس ہو رہی تھی، اور موسیٰ ؑ صرف کان سے نہیں، بلکہ تمام اعضاء سے یہ آواز سن رہے تھے 8: کوہ طور کے دامن میں جو وادی ہے اس کا نام طوی ہے، اور یہ ان مقامات میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خصوصی تقدس عطا فرمایا ہے، اور جوتے اتارنے کا حکم ایک تو اس وادی کے تقدس کی وجہ سے تھا اور دوسرے یہ موقع جب کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہم کلامی کا شرف مل رہا تھا، ادب اور عجز ونیاز کے اظہار کا موقع تھا، اس لئے بھی جوتے اتار دینا مناسب تھا۔