آسان قرآن
Aasan Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 40
اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى﴿40﴾
- اِذْجب
- تَمْشِيْٓجارہی تھی
- اُخْتُكَتیری بہن
- فَتَقُوْلُتو وہ کہہ رہی تھی
- هَلْ اَدُلُّكُمْکیا میں تمہیں بتاؤں
- عَلٰيپر
- مَنْجو
- يَّكْفُلُهٗاس کی پرورش کرے
- فَرَجَعْنٰكَپس ہم نے تجھے لوٹا دیا
- اِلٰٓىطرف
- اُمِّكَتیری ماں
- كَيْ تَقَرَّتاکہ ٹھندی ہو
- عَيْنُهَااس کی آنکھ
- وَلَا تَحْزَنَاور وہ غم نہ کرے
- وَقَتَلْتَاور تونے قتل کردیا
- نَفْسًاایک شخص
- فَنَجَّيْنٰكَتو ہم نے تجھے نجات دی
- مِنَ الْغَمِّغم سے
- وَفَتَنّٰكَاور تجھے آزمایا
- فُتُوْنًاکئی آزمائشیں
- فَلَبِثْتَپھر تو ٹھہرا رہا
- سِنِيْنَکئی سال
- فِيْٓمیں
- اَهْلِ مَدْيَنَمدین والے
- ثُمَّپھر
- جِئْتَتو آیا
- عَلٰي قَدَرٍوقت مقرر پر
- يّٰمُوْسٰىاے موسیٰ
Translation · Aasan Quran
اس وقت کا تصور کرو جب تمہاری بہن گھر سے چلتی ہے، اور (فرعون کے کارندوں سے) یہ کہتی ہے کہ : کیا میں تمہیں اس (عورت) کا پتہ بتاؤں جو اس (بچے) کو پالے ؟ (16) اس طرح ہم نے تمہیں تمہاری ماں کے پاس لوٹا دیا، تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی رہے، اور وہ غمگین نہ ہو۔ اور تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا، (17) پھر ہم نے تمہیں اس گھٹن سے نجات دی، اور تمہیں کئی آزمائشوں سے گزارا۔ (18) پھر تم کئی سال مدین والوں میں رہے، اس کے بعد اے موسیٰ ! تم ایک ایسے وقت پر یہاں آئے ہو جو پہلے سے مقدر تھا۔
Tafseer · Aasan Quran
16: فرعون کی اہلیہ نے جب بچے کو پالنے کا ارادہ کرلیا تو ان کو دودھ پلانے والی کی تلاش شروع ہوئی، لیکن حضرت موسیٰ ؑ کسی بھی عورت کا دودھ منہ میں نہیں لیتے تھے۔ حضرت آسیہ نے اپنی کنیزیں بھیجیں کہ وہ کوئی ایسی عورت تلاش کریں جس کا دودھ یہ قبول کرلیں۔ ادھر حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ بچے کو دریا میں ڈالنے کے بعد بےچین تھیں۔ انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی بہن کو دیکھنے کے لیے بھیجا کہ بچہ کا انجام کیا ہوا۔ یہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے اسی جگہ پہنچ گئیں جہاں فرعون کی کنیزیں پریشانی کے عالم میں دودھ پلانے والی عورتوں کو تلاش کر رہی تھیں۔ ان کو موقع مل گیا، اور انہوں نے اپنی والدہ کو یہ خدمت سونپنے کی تجویز پر پیش کی، اور انہیں وہاں لے بھی آئیں، جب انہوں نے بچے کو دودھ پلانا چاہا تو بچے نے آرام سے دودھ پی لیا، اور پھر اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق بچہ دوبارہ ان کے پاس آگیا۔
17: یہ سارے واقعات تفصیل سے سورة قصص میں آنے والے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے مظلوم اسرائیلی کو ایک ظالم سے بچانے کے لیے اسے ایک مکا مارا تھا۔ ان کا مقصد اسے ظلم سے باز رکھنا تھا، قتل کرنا مقصود نہیں تھا، لیکن وہ مکہ ہی سے مرگیا۔
18: ان آزمائشوں کی تفصیل حضرت عبداللہ بن عباس نے ایک طویل روایت میں بتائی ہے جو تفسیر ابن کثیر میں مروی ہے اور اس کا مکمل ترجمہ معارف القرآن جلد 6 ص 84 تا 103 میں موجود ہے