آسان قرآن
Aasan Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 39
اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ﴿39﴾
- اَنِ اقْذِفِيْهِکہ تو اسے ڈال
- فِي التَّابُوْتِصندوق
- فَاقْذِفِيْهِپھر اسے ڈالدے
- فِي الْيَمِّدریا میں
- فَلْيُلْقِهِپھر اسے ڈالدے گا
- الْيَمُّدریا
- بِالسَّاحِلِساحل پر
- يَاْخُذْهُاسے لے لے گا
- عَدُوٌّ لِّيْمیرا دشمن
- وَعَدُوٌّ لَّهٗاور اس کا دشمن
- وَاَلْقَيْتُاور میں نے ڈالدی
- عَلَيْكَتجھ پر
- مَحَبَّةًمحبت
- مِّنِّيْاپنی طرف سے
- وَلِتُصْنَعَاور تاکہ تو پرورش پائے
- عَلٰي عَيْنِيْمیری آنکھوں پر (میرے سامنے)
Translation · Aasan Quran
کہ اس (بچے) کو صندوق میں رکھو، پھر اس صندوق کو دریا میں ڈال دو۔ (12) پھر دریا کو چھوڑ دو کہ وہ اسے ساحل کے پاس لاکر ڈال دے، جس کے نتیجے میں ایک ایسا شخص اس (بچے) کو اٹھالے گا جو میرا بھی دشمن ہوگا، اور اس کا بھی دشمن۔ (13) اور میں نے اپنی طرف سے تم پر ایک محبوبیت نازل کردی تھی۔ (14) اور یہ سب اس لیے کیا تھا کہ تم میری نگرانی میں پرورش پاؤ۔ (15)
Tafseer · Aasan Quran
12: فرعون کو کسی نجومی نے یہ کہہ دیا تھا کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص تمہاری سلطنت کو ختم کرے گا۔ اس لیے اس نے یہ حکم جاری کردیا تھا کہ بنی اسرائیل میں جو کوئی بچہ پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے۔ جب حضرت موسیٰ ؑ پیدا ہوئے تو ان کی والدہ کو فکر ہوئی کہ ان کو بھی فرعون کے آدمی قتل کر ڈالیں گے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پر الہام فرمایا کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دیائے نیل میں ڈال دو۔
13: چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس پہنچ گیا، اور فرعون کے کارندوں نے بچے کو اٹھا کر فرعون کے پاس پیش کیا، اور اس کی بیوی حضرت آسیہ نے اسے آمادہ کرلیا کہ اسے اپنا بیٹا بنا کر پالیں۔
14: حضرت موسیٰ ؑ کی شکل و صورت میں اللہ تعالیٰ نے ایسی معصومیت رکھ دی تھی کہ جو بھی آپ کو دیکھتا، آپ سے محبت کرتا تھا، اسی وجہ سے فرعون بھی انہیں اپنے گھر میں رکھنے پر راضی ہوگیا
15: یوں تو ہر شخص کی پرورش اللہ تعالیٰ ہی کی نگرانی میں ہوتی ہے، مگر یہاں مطلب یہ ہے کہ عام طور سے پرورش کے جو اسباب ہوتے ہیں کہ ماں باپ اپنے خرچ اور ذمہ داری پر بچے کی پرورش کرتے ہیں، وہ حضرت موسیٰ ؑ کے معاملے میں اختیار نہیں فرمائے گئے۔ اس کے بجائے اللہ تعالیٰ نے براہ راست ان کی پرورش ان کے دشمن سے کرائی۔